اسلام آباد (سہ پہر) چوہدری محمد یٰسین (جنرل سیکرٹری)۔ سی ڈی اے مزدور یونین کا یوم مئی کے حوالے سے خصوصی پیغام۔
اسلام آباد (سہ پہر) چوہدری محمد یٰسین (جنرل سیکرٹری)۔ سی ڈی اے مزدور یونین کا یوم مئی کے حوالے سے خصوصی پیغام۔
یوم مئی تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ دن شگاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کرتا ہے جنھوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اپنے حقوق کا تحفظ کیا اور کام کے اوقات کار کا تعین کیا۔ جس کے لیے آ ج بھی لیبر قوانین اور عالمی ادارہ محنت کے کنونشن موجود ہیں۔ پاکستان میں 07 کروڑ سے زائد مزدور ہیں، جن میں سے76 فیصد مزدوروں کا تعلق غیر رسمی شعبے سے ہے جن کے لیے کوئی لیبر قوانین موجود نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی تحفظ موجود ہے، جس کی وجہ سے وہ سماجی تحفظ سے بھی محروم ہیں۔ اس میں زراعت، ہوم بیسڈ ورکرز، ڈومیسٹک ورکرز، چوک ورکرز، دیہاڑی دار ورکرز شامل ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں افسوس کی بات ہے کہ جو 24 فیصد مزدورجن کو قانونی تحفظ حاصل ہے وہاں بھی مزدوروں کا استحصال جار ی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد تمام صوبوں نے اپنے اپنے لیبر قوانین بنا لیے تھے، لیکن مشاورت کے عمل کو یقینی نہ بنانے کی وجہ سے آج بھی مزدوروں کے حوالے سے ان قوانین میں بے شمار خامیاں موجود ہیں سی ڈی اے وفاق کا اہم ادارہ ہے جو وفاقی دارلحکومت کی تعمیر و ترقی، خوبصورتی اور صاف ستھری رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے،
جس میں سی ڈی اے ملازمین کا اہم کردار ہے، جن کی محنت، لگن اور کوششوں سے آج کہ شہر دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سی ڈی اے مزدور یونین اس ادارے میں بطور اجتماعی سودا کاری (CBA) کے طور پر پانچویں مرتبہ ملازمین کے ووٹ کی طاقت سے کامیاب ہو کر رنگ، نسل، مذہب سے بالاتر ہو کر خدمت کر رہی ہے، یہ یونین مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے مزدوروں کے لیے بے شما ر مراعات انتظامیہ سے منظور کرائی ہیں جس کی وجہ سے آج سی ڈی اے کا مزدور ایک مثالی مزدور کے طور پر ملک بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے یہ ادارہ بھی شگاگو جیسا منظر پیش کر رہا ہے، نہ تجربہ کاراور عدم دلچسپی رکھنے والی انتظامیہ کے غیر مناسب رویے اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے مزدوروں کا استحصال ہو رہاہے اور مزدور سخت بے چینی کا شکار ہیں۔ ادارے میں کام کرنے والے خصوصی طور پر سینٹری ورکرز کے ساتھ ظلم وزیادتی کی جار ہی ہے سینٹری ملازمین کو صبح 05 بجے جائے کار پر بلایا جاتا ہے اور رات گئے تک ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے اور ان کا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا ہے، جائے کا رپر کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے، موجودہ جدید دور میں وفاقی دارلحکومت میں آج بھی سینٹری ورکر اپنی پاکٹ سے جھاڑو خرید کر اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ پیشہ وارانہ صحت و سلامتی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی مزدور دوران ملازمت مختلف حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ انتظامیہ یونین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہے جس سے ملازمین کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں، ملازمین کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح فیصلوں کی موجودگی میں انتظامیہ عمل درآمد نہیں کر رہی ہے، ملازمین کی پروموشن، بچوں کی بھرتی، سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ سمیت تمام مسائل انتظامیہ کی عدم دلچشپی کی وجہ سے زیر التواء ہیں۔ لیبر قوانین اور عالمی ادار ہ محنت کے کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
یوم مئی چونکہ مزدورں کا عالمی د ن ہے، اس دن کو تمام مزدور اپنے اپنے مسائل کی نشاندی کرتے ہیں، اس موقع پر میں بطور جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین وفاقی وزیر برائے داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، ڈائریکٹر جنرل سوک مینجمنٹ اور متعلقہ افسران سے مطالبہ کرتا ہوں کہ فی الفور سینٹری ملازمین کے اوقات کار کا تعین کیا جائے اور ان کے لیے سپیشل الاؤنس منظور کیا جائے۔ جائے کار صحت و سلامتی کے حفاظتی سامان کو یقینی بنایا جائے۔ مسیحی ملازمین کے لیے ایسٹر الاونس فوری دیا جائے، سی ڈ ی اے ملازمین کے تمام مسائل جن میں پلاٹو ں کی الاٹمنٹ، بچوں کی بھرتی، پروموشن سمیت دیگر مسائل مذاکرات کے ذریعے فوری حل کیے جائیں۔