LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) جب ہاتھ پھیلانے کے بجائے ہاتھ روزگار دینے لگیں

اسلام آباد (سہ پہر)غربت صرف یہ نہیں کہ جیب میں پیسے کم ہوں۔ غربت اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے جب انسان کو یہ یقین ہونے لگے کہ اس کی حالت بدل ہی نہیں سکتی۔ کسی معاشرے کی اصل کامیابی اس دن شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کمزور شہری کو صرف سہارا نہیں دیتا بلکہ اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکے۔ ایک بلاسود قرض، ایک ہنر، ایک پیداواری اثاثہ، ایک چھوٹا سا کاروبار اور روزگار کا ایک موقع بظاہر معمولی چیزیں ہیں، لیکن یہی معمولی مواقع کسی خاندان کی پوری معاشی سمت بدل سکتے ہیں۔ غربت سے نکلنا ایک مرحلہ ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اس مقام تک پہنچ جائے جہاں اس کے ہاتھ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کرنے لگیں۔

پاکستان میں غربت کے مسئلے پر برسوں سے بحث جاری ہے، لیکن اس بحث میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہمیشہ محسوس ہوتی رہی ہے کہ غریب انسان کو محض امداد کا مستحق نہیں بلکہ معاشی طور پر باصلاحیت شہری سمجھا جائے۔ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کا تقریباً تین دہائیوں پر محیط تجربہ اسی سوچ کی ایک عملی مثال پیش کرتا ہے۔

1997 میں قائم ہونے والے PPAF نے اپریل 2000 میں عملی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ آج 164 پارٹنر تنظیموں کے ذریعے اس کا نیٹ ورک 157 اضلاع تک پہنچ چکا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 71 ہزار کمیونٹی اداروں کی معاونت اور ان سے وابستہ 26 لاکھ 70 ہزار افراد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ غربت کا مقابلہ صرف مرکز سے بننے والی پالیسیوں سے نہیں بلکہ مقامی سطح پر لوگوں کو شریک کرکے بھی کیا جاسکتا ہے۔

PPAF کے بلاسود قرضوں کا پروگرام اس ماڈل کا اہم حصہ ہے۔ 2014 سے اب تک 3.69 ملین بلاسود قرضے فراہم کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 139.61 ارب روپے ہے۔ ان قرضوں میں 57 فیصد حصہ خواتین کا ہے جبکہ واپسی کی شرح 98 فیصد رہی۔ ان اعداد میں صرف رقم کی گردش نہیں بلکہ اعتماد کا ایک پورا تصور موجود ہے۔ غریب آدمی کو جب کاروبار اور آمدن پیدا کرنے کے لیے سرمایہ ملتا ہے تو وہ صرف مدد حاصل نہیں کرتا، وہ معاشی سرگرمی کا حصہ بن جاتا ہے۔

خواتین کی شمولیت اس تجربے کو مزید اہم بناتی ہے۔ پیداواری اثاثوں کی منتقلی میں 63 فیصد حصہ خواتین کا رہا۔ کسی عورت کو ایسا اثاثہ یا سرمایہ فراہم کرنا جس سے وہ اپنی آمدن پیدا کرسکے، دراصل پورے خاندان کی معاشی بنیاد مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ گھر کی آمدن میں اضافہ اکثر بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے امکانات کو بھی بہتر بناتا ہے۔

غربت کے مستقل خاتمے کے لیے سرمایہ کے ساتھ ہنر بھی ضروری ہے۔ PPAF کے مطابق 501,500 افراد کو ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی۔ تربیت حاصل کرنے والوں میں 57 فیصد خود روزگار سے وابستہ ہوئے جبکہ 16 فیصد دوسروں کے پاس ملازمت کررہے ہیں۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی خودمختاری کا راستہ صرف ملازمت کے انتظار سے نہیں گزرتا؛ ہنر انسان کو اپنی آمدن پیدا کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

اسی سلسلے میں 206,800 پیداواری اثاثے منتقل کیے گئے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے بھی معاونت فراہم کی گئی۔ 1,091 SMEs کو تربیت دی گئی، 399 کو میچنگ گرانٹس ملیں اور 803 کاروباری اداروں کو ایف بی آر یا ایس ای سی پی کے ساتھ باضابطہ رجسٹریشن میں مدد ملی۔ ان کوششوں سے 88 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملی۔

یہاں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کے درمیان وہ تعلق سامنے آتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک خاندان کو آمدن کا ذریعہ ملنا ایک کامیابی ہے، لیکن ایک کاروبار کا دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرنا اس کامیابی کو کئی خاندانوں تک پھیلا دیتا ہے۔

اسی طرح غربت سے مستقل نجات صرف آمدن بڑھانے سے ممکن نہیں۔ کمزور خاندان قدرتی آفات اور اچانک معاشی بحرانوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 2005 کے زلزلے کے بعد 122,000 زلزلہ محفوظ گھروں کی تعمیر میں معاونت، جبکہ 2022، 2023 اور 2025 کے سیلابوں میں ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد خاندانوں کی مدد اسی وسیع تصور کا حصہ ہے۔

کلائمیٹ ریزلینس کے تحت 80 کلومیٹر حفاظتی دیواروں کی تعمیر، 1,615 قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں سے 18.56 میگاواٹ صلاحیت کا اضافہ، 2.23 ملین مکعب میٹر پانی کا تحفظ اور 436,000 درختوں کی شجرکاری ایسے اقدامات ہیں جو فوری امداد سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تحفظ سے تعلق رکھتے ہیں۔

کمیونٹی کی سطح پر 35,290 فزیکل انفراسٹرکچر اسکیموں سے تقریباً 17.57 ملین افراد کا مستفید ہونا بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ جب مقامی لوگ اپنے مسائل، وسائل اور ترقی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں تو منصوبہ صرف تعمیر نہیں ہوتا، ایک اجتماعی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

اسی اجتماعی سوچ میں غربت سے ’’گریجویشن‘‘ کا تصور سب سے زیادہ امید افزا دکھائی دیتا ہے۔ PPAF اور BISP کے رجسٹروں کے ابتدائی تقابل میں 334,596 مشترکہ خاندانوں میں سے 108,043 خاندان ممکنہ طور پر گریجویشن کے لیے اہل پائے گئے۔ 2025 کے فالو اَپ میں مطالعے میں شامل 83.6 فیصد گھرانے بنیادی اسکور کارڈ کی حد سے اوپر جبکہ 57.7 فیصد پائیداری کے معیار سے اوپر تھے۔

یہاں غربت کے خاتمے کا تصور اپنی مکمل شکل اختیار کرتا ہے۔ مقصد صرف یہ نہیں کہ مشکل وقت میں خاندان کو سہارا مل جائے؛ مقصد یہ ہے کہ وہ خاندان ایک ایسے معاشی مقام تک پہنچے جہاں اس کی آمدن، ہنر اور اثاثے اسے دوبارہ اسی کمزوری کی طرف جانے سے محفوظ رکھیں۔

اسی تصور کو وسیع تر سطح پر زیر بحث لانے کے لیے 13 اور 14 اکتوبر کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ’’From Poverty to Prosperity‘‘ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ تقریباً 400 پالیسی ساز، اعلیٰ سرکاری حکام، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندے، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار، محققین، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندے اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

کانفرنس کا موضوع ’’Inclusive and Resilient Economic Empowerment and Growth‘‘ اپنے اندر ایک مکمل معاشی فلسفہ رکھتا ہے۔ ترقی اس وقت زیادہ بامعنی ہوتی ہے جب اس میں معاشرے کا کمزور طبقہ بھی شریک ہو، اور خوشحالی اس وقت زیادہ پائیدار ہوتی ہے جب ایک بحران اسے دوبارہ غربت میں نہ دھکیل سکے۔

PPAF کے تجربے میں بلاسود قرض، ہنر، پیداواری اثاثہ، خواتین کی معاشی شرکت، چھوٹے کاروبار، روزگار، کمیونٹی ادارے اور قدرتی آفات سے تحفظ الگ الگ پروگرام نہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کے مختلف حصے ہیں۔ اس سلسلے کا مقصد کسی خاندان کو ہمیشہ امداد کی قطار میں کھڑا رکھنا نہیں بلکہ اسے اس قطار سے باہر نکال کر معاشی زندگی کے مرکزی دھارے میں لانا ہے۔

غربت سے خوشحالی کا اصل سفر بھی شاید یہی ہے۔

ایک ہاتھ کو سہارا دینا اچھی بات ہے، اسے مضبوط بنانا اس سے بہتر ہے، مگر اسے اس قابل بنا دینا کہ وہ خود بھی کمائے اور کسی دوسرے کے لیے روزگار بھی پیدا کرے، یہی حقیقی معاشی بااختیاری ہے۔

غربت ختم کرنے کی سب سے خوبصورت تصویر وہ دن ہے جب مدد لینے والا ہاتھ، کسی اور کو روزگار دینے والا ہاتھ بن جائے۔

X