اسلام آباد (سہ پہر) آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت;اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی مذمت
اسلام آباد (سہ پہر) ایران نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے ایرانی فوج نے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیاہے سپریم لیڈر کی شہادت ان کے دفتر میں ہوئی واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بیٹی، داماد، بہو اور نواسی بھی جاں بحق ہو ہے ہیں۔ 1939ء میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے 86 برس کی عمر پائی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ دینی تعلیم، انقلابی جدوجہد اور ریاستی قیادت کے لئے وقف کئے رکھا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای محض ایک سیاسی قائد نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور روحانی عہد کی علامت بھی تھے۔ وہ انقلابِ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1989ء میں روح اللہ خمینی کے وصال کے بعد جب انقلاب کی امامت کی امانت ان کے سپرد ہوئی تو انہوں نے خود کو اس امانت کا امین اور دیانت دار نگہبان ثابت کرنے کی کوشش کی اور اپنی شہادت تک ایران کے سپریم لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ایرانی جنرل اسٹاف نے کہاہے کہ امریکا اور اسرائیل کو پچھتانے پر مجبور کر دیں گے دشمنوں کے ہتھیار ڈالنے تک خامنہ ای کی راہ پر گامزن رہیں گے۔سپریم لیڈر کی شہادت پر ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور 40 دن کے سوگ کا اعلان کیا ہےمشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے

پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے، عالمی قوانین کی ہر صورت پاسداری کرنی چاہیے، ایران پر حملہ اس وقت کیا گیا جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہیں, مزید کہا کہ اس عمل سے پورے خطے میں امن و سلامتی متاثر ہوتی ہے، ایران میں طلبہ سمیت شہریوں کی اموات پر افسوس ہے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، قطر پر حملے بھی قابلِ مذمت ہیں۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں ایرانی مندوب سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل زبردستی ایرانی حکومت بدلنا چاہتے ہیں،ایران کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ کیا گیا ایران نے جو کچھ بھی کیا اپنے دفاع میں کیا، امریکا اور اسرائیل کے حملے میں عام شہری مارے گئے، بے گناہ افراد کے قتل کے ذمے دار امریکا اور اسرائیل ہیں ہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کا راستہ اپنایا، کسی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں کریں گے، ایران پڑوسی ممالک کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے، پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، سعودی عرب، پاکستان، روس اور چین کی مذمت کو سراہتے ہیں۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی سکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے عالمی قانون کی ہمیشہ پاسداری کی جانی چاہیے ایران کے 20 شہروں پر حملہ ہوا ہے، ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت قابل مذمت ہے، روسی مندوب نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے افسوسناک ہیں، ایران کیخلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا اور اسرائیل نے ایران کی سول نیو کلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی گئی امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ایران میں 200 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کرے، ایران بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کرے، اور اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے، ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی مندوب نے کہا کہ مذاکرات کے باوجود ایران نے یورینیم کی افزودگی نہیں روکی، ایران نے اپنے جوہری عزائم ترک نہیں کیے، ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کیا، ایران کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ تھے, ایران کیخلاف آپریشن کا مقصد جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے، کوشش ہے ایرانی حکومت دنیا کیلئے خطرہ نہ بنے۔ ایرانی صدرنے بھی خامنہ ای کے قتل کا جواب دینے کا عہد کیاہے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خامنہ ای کے قتل کو “ایک عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ان کا کہنا تھا کہ “یہ عظیم جرم کبھی لا جواب نہیں رہے گا اور عالم اسلام اور شیعیت کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ پلٹ دے گا اور امریکی صیہونی ظلم و جبر اور جرائم کو مٹا دے گا”ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کے دل جلائے، ہم بھی ان کے دل جلائیں گے علی لاریجانی نے انٹرویو میں امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں ممالک نے ایرانی عوام کے دل جلائے ہیں، جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ہم بھی ان کے دل جلائیں گے۔ایرانی سپریم لیڈر پر ہونے والے حملے کو علی لاریجانی نے انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم شخصیت کی شہادت نے پوری ایرانی قوم کے دل زخمی کر دیئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل دراصل ایران کو تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں تاکہ ملک کو کمزور کیا جا سکے مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم ایک باشعور قوم ہے اور وہ اس مشکل وقت سے نکلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ دشمن اپنی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک خصوصی پیغام جاری کر دیا گیا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک یادگار تصویر شیئر کی گئی ہے، جس کے کیپشن میں “بسم اللہ الرحمن الرحیم” تحریر کیا گیا ہےاس پوسٹ میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 23 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ہے، مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کر لی اور کچھ وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں، اور انہوں نے (اپنے عزم میں) ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی۔واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد ملک بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اس حملے میں ان کی صاحبزادی، داماد اور نواسہ بھی شہید ہوئے ہیں۔گزشتہ روز ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کے خلاف کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران جھڑپوں میں 9افراد جاں بحق ہوگئے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے اجتماع کا سراغ لگایا، پھر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا۔ ایران پر حملے سے کچھ دیر قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔آپریشن سے واقف ذرائع کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھے ہوئے تھی اور وقت کے ساتھ اس کی معلومات زیادہ مستند ہوتی گئیں پھر امریکی ایجنسی کو اطلاع ملی کہ ہفتہ کی صبح تہران کے وسط میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس ہونے والا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ سپریم لیڈر بھی اس میں شریک ہوں گے۔ نئی خفیہ اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے مجوزہ حملے کے وقت میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس اطلاع نے دونوں ممالک کو ایک اہم اور ابتدائی کامیابی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اور یہ انٹیلی جنس اطلاع اعلیٰ ایرانی حکام اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی وجہ بنی۔ایران کی قیادت ممکنہ جنگ کے واضح اشاروں کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای اب مزید نہیں رہے شہادت نے کئی سوالات کو جنم دیا اور مبصرین نے اس امر پر بحث شروع کی کہ آیا ایران کی اندرونی صفوں سے معلومات کے اخراج کا کوئی سلسلہ موجود تھا تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔ان کی شہادت کے بعد قیادت کے سوال نے بھی شدت اختیار کی۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک انتہائی اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ برطانیہ اب باقاعدہ طور پر ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شریک ہو گیا ہے۔برطانوی جنگی طیارے اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی فضائوں میں موجود ہیں اور ایک مربوط علاقائی دفاعی آپریشن کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کر کے مذاکرات کی طرف لوٹنا وقت کی ضرورت ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ وہ اس صورتحال پر جرمنی، فرانس اور خطے کے دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔دوسری جانب، برطانیہ اور کینیڈا نے ایران میں موجودہ نظام (رجیم) کی تبدیلی کی بھی کھل کر حمایت کر دی ہے، جس سے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ 24 صوبوں میں ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 201 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں علم ہے خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے نئے ایرانی رہنما کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔انٹرویو میں امریکی صدر سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایسا شخص ہے، جس کو وہ ایران کی قیادت کرتا دیکھنا چاہیں گے؟ ٹرمپ نے کہا کہ ہاں میرے خیال میں ایسا ہی ہے، کچھ اچھے امیدوار ہیں۔ ایران میں فیصلے کرنے والے زیادہ تر لوگ مارے جا چکے ہیں۔مزید کہنا تھا کہ ایران کیخلاف جنگ طویل یا چند دنوں میں ختم ہوسکتی ہے۔ حملوں کے بعد ایران کو سنبھلنے میں کئی سال لگیں گے۔ ایران نے اپنے جوہری عزائم ترک نہیں کیے اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔اس سے پہلےامریکی صدر نے سوشل ٹروتھ پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ خامنہ ای ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز اور انتہائی جدید ترین ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔ خامنہ ای اور ان کے ساتھ مارے جانے والے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔دریں اثنا خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاج ہوا ہے۔ مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کیا اور امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر مظاہرین کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران جھڑپوں میں 9افراد جاں بحق ہوگئے
بعض حلقوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی وصیت کے مطابق علی لاریجانی کو اہم ذمہ داری سونپی جانی تھی ایران کا سیاسی نظام شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے اور آئینی طور پر مجلس خبرگان رہبری نئے رہبر کے انتخاب کی مجاز ہے اس لئے فوری ریاستی انہدام کا امکان کم سمجھا جاتا ہے تاہم طاقت کے مراکز کے درمیان توازن ضرور متاثر ہوگا۔ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی نئی قیادت کا فیصلہ کب اور کیسے سامنے آتا ہے اور اس کو قبولیت ملتی ہے کہ نہیں ایک منظم ریاست کا ثبوت اب سامنے آئیگادوسری جانب ایران کی 88 رکنی مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی، ایرانی حکومت کو قریب سے دیکھنے والوں کے مطابق ٹاپ 6 امیدوارمجتبی خامنه ای (حفظ اللّٰہ تعالیٰ) فرزند شہید رہبرِ انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ائ (رح),صادق لاریجانی (حفظ اللّٰہ تعالیٰ),محمّد مهدی میر باقری (حفظ اللّٰہ تعالیٰ)محسن اراکی (حفظ اللّٰہ تعالیٰ),حسن خمينی (حفظ اللّٰہ تعالیٰ) آپ بانی انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید روح الموسوی خمینی رح (مرحوم) کے پوتے ہیں , یہ بات عیاں ہے کہ ایران ایک منظم اور تاریخی قوم ہے اور ان کی مضبوط روایات ہیں اس لئے اتنی جلدی اور آسانی سے ایرانیوں کو سرنگوں کرنا ممکن نہیں