LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) کاش۔۔۔ محمد زمان وٹو جیسا افسر سی ڈی اے کو بہت پہلے ملا ہوتا

اسلام آباد (سہ پہر) کبھی کبھی کسی ادارے میں ایک افسر کی تعیناتی محض تبادلہ نہیں ہوتی، وہ پورے نظام کے لیے ایک سوال بن جاتی ہے۔

سوال یہ نہیں ہوتا کہ نیا افسر کون ہے۔

سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کیا لایا ہے؟

نئی میز؟ نئی کرسی؟ نئی فائلیں؟

یا پھر پرانے سوالوں کو دیکھنے والی نئی آنکھ؟

اسلام آباد کے متاثرین کے معاملے میں محمد زمان وٹو کی سی ڈی اے میں بطور ممبر اسٹیٹ تعیناتی کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

کاش! اسلام آباد کے متاثرین کو محمد زمان وٹو برسوں پہلے مل جاتے۔

یہ جملہ کسی شخص کی خوشامد نہیں، ایک پورے نظام پر سوال ہے۔

وہ نظام جس نے زمین تو وقت پر لے لی، مگر حق دینے کے لیے کوئی گھڑی نہیں بنائی۔

محمد زمان وٹو کا سرکاری سفر اس سوال کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر ساہیوال رہے، ڈپٹی کمشنر/ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داریوں میں بھکر میں خدمات انجام دیں، بورڈ آف ریونیو پنجاب میں کام کیا، کین کمشنر پنجاب رہے اور بعد ازاں سیکرٹری خوراک پنجاب کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ کین کمشنر کے طور پر ان کے دور میں گنے کے کاشت کاروں کے واجبات اور شوگر ملوں کے معاملات میں سخت انتظامی اقدامات بھی رپورٹ ہوئے۔

یہ سب عہدے محض نام نہیں ہوتے۔

ضلعی انتظامیہ نے انہیں عام آدمی کے سامنے کھڑا کیا ہوگا۔

ریونیو نے زمین کے جھگڑے دکھائے ہوں گے۔

خوراک نے سرکاری وسائل اور عوامی ضرورت کا فرق سمجھایا ہوگا۔

اور کین کمشنر کے منصب نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان سرکاری کاغذ کس طرف کھڑا ہو جاتا ہے۔

اب وہ سی ڈی اے میں املاک کے معاملات کے ذمہ دار ہیں۔

اور یہاں مسئلہ صرف زمین کا نہیں۔

یہاں زمین کے ساتھ تاریخ جڑی ہوئی ہے۔

کسی کی آبائی زمین۔

کسی کا کھیت۔

کسی کا گھر۔

کسی کی امید۔

کسی باپ کا وہ خواب جو اس نے اپنے بچوں کے لیے دیکھا تھا۔

اور بعض فائلیں ایسی بھی ہیں جن کے اصل مالک دنیا سے چلے گئے، مگر ان کا حق ابھی تک کسی الماری میں زندہ ہے۔

یہ بھی ہمارے نظام کی ایک عجیب خوبی ہے۔

انسان مر جاتا ہے، فائل نہیں مرتی۔

باپ چلا جاتا ہے، بیٹا فائل اٹھا لیتا ہے۔

بیٹا تھک جاتا ہے، پوتا درخواست لے آتا ہے۔

اور سرکاری دفتر میں پھر ایک آواز آتی ہے:

رپورٹ درکار ہے۔

کیا چاہیے رپورٹ؟

جس کا ریکارڈ خود ادارے کے پاس ہے۔

کس لیے چاہیے؟

تصدیق کے لیے۔

کتنی مرتبہ چاہیے؟

جتنی مرتبہ فائل کو کچھ اور عرصہ زندہ رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جائے۔

یہ طنز نہیں، متاثرین کی زندگی کا تجربہ ہے۔

اسلام آباد بن گیا۔

سڑکیں بن گئیں۔

عمارتیں بن گئیں۔

نئے شعبے بن گئے۔

نئے رہائشی علاقے بن گئے۔

لیکن جن لوگوں کی زمین پر یہ شہر کھڑا ہوا، ان میں سے بہت سے لوگ آج بھی اپنی فائلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہاں اصل المیہ یہ نہیں کہ ایک فائل دیر سے نمٹتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ایک خاندان کی پوری زندگی فائل کے ساتھ دیر سے چلتی ہے۔

کسی جگہ زمین کا اندراج متنازع ہے۔

کہیں نمبر میں تضاد ہے۔

کہیں دو مرتبہ تخصیص کا مسئلہ ہے۔

کہیں پرانی قرعہ اندازی کا معاملہ ہے۔

کہیں حق دار موجود ہے مگر کاغذ مکمل نہیں۔

کہیں کاغذ مکمل ہے مگر فیصلہ نہیں۔

اور کہیں فیصلہ ہو بھی جائے تو اس پر عمل درآمد کی اگلی منزل سامنے آ جاتی ہے۔

یعنی سفر ختم نہیں ہوتا۔

صرف درخواست گزار بدل جاتا ہے۔

ایک بوڑھا باپ عدالت، دفتر اور متعلقہ شعبوں کے چکر لگاتا ہے۔

پھر اس کا بیٹا یہی کام شروع کرتا ہے۔

پھر پوتا۔

اور ادارہ شاید مطمئن ہوتا ہے کہ معاملہ زیر غور ہے۔

زیر غور!

پاکستانی سرکاری زبان کے چند ایسے الفاظ ہیں جن میں وقت دفن ہو جاتا ہے۔

زیر غور۔

رپورٹ طلب۔

قانونی رائے درکار۔

ریکارڈ کی جانچ۔

مزید تصدیق۔

اور پھر:

مناسب کارروائی کی جائے گی۔

یہ “مناسب کارروائی” آخر کب ہوگی؟

یہ وہ سوال ہے جو متاثرین برسوں سے پوچھ رہے ہیں۔

ایک شہری جب دفتر آتا ہے تو وہ صرف ایک فائل نہیں لاتا۔

وہ اپنی زندگی کا حساب لے کر آتا ہے۔

وہ پوچھتا ہے:

میرا حق کہاں ہے؟

اگر نمبر دو جگہ نکل آیا تو غلطی میری کیوں؟

اگر ادارے کے ریکارڈ میں تضاد ہے تو اس کی سزا مجھے کیوں؟

اگر برسوں پہلے کوئی انتظامی غلطی ہوئی تو اس کا بوجھ آج بھی میرے کندھے پر کیوں؟

یہ سوال اب محض متاثرین کے نہیں رہے۔

یہ انتظامی انصاف کے سوال ہیں۔

اور یہاں محمد زمان وٹو کی تعیناتی ایک اہم انتظامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

کیونکہ جس افسر نے ضلع چلایا ہو، ریونیو دیکھا ہو، خوراک کا محکمہ سنبھالا ہو، کسان اور سرکاری مشینری کے درمیان کھڑے ہو کر فیصلے کیے ہوں، اس کے سامنے اب اسلام آباد کے متاثرین کی فائلیں ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں کسان زمین پر کھڑا تھا۔

یہاں متاثرہ شہری اپنی فائل پر کھڑا ہے۔

وہاں فصل کا مسئلہ تھا۔

یہاں پلاٹ کا مسئلہ ہے۔

وہاں واجب الادا رقم تھی۔

یہاں برسوں پرانا حق ہے۔

اور دونوں جگہ سوال ایک ہی ہے:

ریاست عام آدمی کو اس کا حق کب دے گی؟

محمد زمان وٹو کے سابقہ دورِ ذمہ داریوں میں بعض ایسے انتظامی اقدامات بھی سامنے آئے جن میں قواعد پر عمل اور سرکاری مفاد کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ کین کمشنر کی حیثیت سے انہوں نے گنے کے کاشت کاروں کے مفادات، غیر مجاز خریداری اور ملوں کی ذمہ داریوں کے معاملات پر اقدامات کیے، جبکہ خوراک کے سیکرٹری کی حیثیت سے سرکاری گندم اور آٹے کی تقسیم میں بے قاعدگیوں کے خلاف کارروائی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

اسی پس منظر میں سی ڈی اے کے متاثرین شاید یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہاں بھی معاملہ صرف فائل چلانے تک محدود نہ رہے۔

فائل چلانا مشکل کام نہیں۔

فائل کو منزل تک پہنچانا مشکل کام ہے۔

میز پر پڑی فائل کو ایک میز سے دوسری میز تک بھیجا جا سکتا ہے۔

لیکن ایک بیوہ کے حق کو ایک نسل سے دوسری نسل تک بھیج دینا انتظامی کامیابی نہیں۔

ایک بزرگ کو یہ بتاتے رہنا کہ “آپ کا معاملہ زیر غور ہے” کوئی کارنامہ نہیں۔

کارنامہ تب ہوگا جب وہ بزرگ اپنے بچوں سے کہہ سکے:

اب اس دفتر کے چکر نہیں لگانے۔

یہی اصل پیمانہ ہونا چاہیے۔

کتنی فائلیں دفتر سے گزریں، یہ اعداد و شمار کا کھیل ہے۔

کتنے خاندانوں کے مسئلے ختم ہوئے، یہ اصل سوال ہے۔

سی ڈی اے اگر واقعی متاثرین کے معاملات کو انسانی مسئلہ سمجھ کر دیکھنا چاہے تو سب سے پہلے پرانے مقدمات کی ایک واضح فہرست بننی چاہیے۔

کتنے کیس دس سال سے زیادہ پرانے ہیں؟

کتنے 2009 یا اس سے بھی پہلے کے ہیں؟

کتنے لوگوں کو آج تک متبادل حق نہیں ملا؟

کتنی فائلوں میں ریکارڈ کا تضاد ہے؟

کتنے نمبروں کے دوہرے استعمال کا مسئلہ ہے؟

کتنے معاملات قرعہ اندازی کے باوجود مکمل نہیں ہوئے؟

کتنی فائلیں قانونی رائے کے نام پر رکی ہوئی ہیں؟

اور کتنے ایسے معاملات ہیں جن میں قانونی رائے سے زیادہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے؟

یہ سوال کسی ایک افسر کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔

یہ سوال نظام سے پوچھنے کے لیے ہیں۔

کیونکہ نظام اگر مضبوط ہو تو ایک اچھا افسر بھی اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

اور نظام اگر کمزور ہو تو اچھا افسر بھی کاغذوں کے جنگل میں گم ہو سکتا ہے۔

اسی لیے محمد زمان وٹو کی اصل آزمائش شاید یہ نہیں کہ وہ کتنی فائلیں دیکھتے ہیں۔

اصل آزمائش یہ ہے کہ کتنی فائلوں کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔

حال ہی میں سی ڈی اے میں ان کی جانب سے بعض معاملات میں غیر مجاز افراد اور بیچ کے کردار کو محدود کرنے، زمین کے مشتبہ معاملات کی جانچ اور متاثرین کی فائلوں کو آگے بڑھانے سے متعلق اقدامات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ سی ڈی اے کی اپنی سرکاری ویب سائٹ بھی انہیں موجودہ طور پر ممبر اسٹیٹ ظاہر کرتی ہے۔

یہ اقدامات اپنی جگہ ہیں۔

لیکن اصل فیصلہ نتیجے سے ہوگا۔

متاثرین کو اعلان نہیں چاہیے۔

انہیں اپنی فائل کا فیصلہ چاہیے۔

انہیں نئی کمیٹی نہیں چاہیے۔

انہیں پرانے مسئلے کا حل چاہیے۔

انہیں نئی رپورٹ نہیں چاہیے۔

انہیں اپنے حق کا کاغذ چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین چاہیے کہ ریاستی دفتر میں ان کا کام کسی سفارشی آدمی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بیوروکریسی کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔

قواعد کتابوں میں بہت خوب صورت ہوتے ہیں۔

اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ایک عام آدمی دفتر کے دروازے پر کھڑا ہو۔

وہاں اسے قانون چاہیے یا تعلق؟

حق چاہیے یا سفارش؟

فیصلہ چاہیے یا ایک اور تاریخ؟

یہ فرق ختم کرنا ہی اصل انتظامی اصلاح ہے۔

محمد زمان وٹو کے سامنے شاید سب سے بڑا موقع یہی ہے کہ وہ متاثرین کے پرانے معاملات کو محض املاک کے شعبے کی فائلیں نہ سمجھیں بلکہ انہیں ریاست اور شہری کے درمیان ایک پرانے وعدے کے طور پر دیکھیں۔

کیونکہ وعدہ جتنا پرانا ہو، اس کی ذمہ داری اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔

اور اسلام آباد کے متاثرین کے ساتھ یہ وعدہ بہت پرانا ہے۔

بعض لوگوں کے پاس زمین تھی، ریاست نے لے لی۔

بعض کے پاس صرف انتظار رہ گیا۔

اب اگر انتظار بھی ان سے لے لیا جائے تو پھر ان کے پاس بچے گا کیا؟

کاش محمد زمان وٹو جیسے افسر کو یہ ذمہ داری بہت پہلے مل جاتی۔

شاید کچھ بزرگ آج اپنے حق کے کاغذ ہاتھ میں لیے زندہ ہوتے۔

شاید کچھ بیٹے اپنے والد کی فائل نہ اٹھائے پھر رہے ہوتے۔

شاید کچھ پوتوں کو اپنے دادا کا مقدمہ وراثت میں نہ ملتا۔

لیکن تاریخ میں دیر سے آنے والے مواقع بھی کبھی کبھی اہم ہوتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تعیناتی محض ایک اور سرکاری تعیناتی ثابت ہوتی ہے یا پرانے معاملات کے لیے ایک نیا دروازہ کھولتی ہے۔

کیونکہ اسلام آباد کے متاثرین کو اب نئے وعدوں کی ضرورت نہیں۔

انہیں پرانے وعدوں کی تکمیل چاہیے۔

زمین ریاست نے لی تھی۔

حق بھی ریاست نے دینا ہے۔

اور حق دینے میں جتنی دیر ہوگی، سوال اتنا ہی بڑا ہوتا جائے گا۔

محمد زمان وٹو کے سامنے اب صرف فائلیں نہیں۔

وقت کھڑا ہے۔

اور وقت کا سوال بہت سادہ ہے:

جن لوگوں نے اسلام آباد بنانے کے لیے اپنی زمین دی، کیا وہ اپنی زندگی میں اپنا حق دیکھ بھی سکیں گے؟

X