LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) اقوامِ متحدہ ; پاک بھارت آبی تنازع پر وزیراعظم پاکستان کا دو ٹوک مؤقف

اسلام آباد (سہ پہر) وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں پاک بھارت آبی تنازع کے حوالے سے ٹھوس دلائل پر مبنی مؤقف پیش کیاہے۔وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے تاریخی خطاب عالمی سیاست اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستان کا مقدمہ انتہائی جرات مندانہ اور مدلل انداز میں پیش کیا، جس کا آغاز انہوں نے روایتی پُروقار انداز میں تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پاک بھارت آبی تنازع اور سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں پر پیش کیا گیا جرات مندانہ مؤقف تزویراتی محاذ پر پاکستان کی بقا اور دریائی حقوق کی جنگ کا ایک تاریخی اور دوٹوک احاطہ کرتا ہے۔ وزیراعظم نے نیویارک میں عالمی رہنماؤں کو واضح طور پر خبردار کیا کہ صیہونی مہم جوئی کی طرز پر بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے یا دریاؤں کا رخ موڑنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا کیونکہ پانی کا یہ بحران محض ایک ماحولیاتی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی زراعت، معیشت اور 24کروڑ عوام کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے جس پر کوئی بھی پاکستانی حکومت کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ مودی سرکار کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو بوٹوں تلے روندتے ہوئے 1960ء کے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا التوا میں رکھنے کا حالیہ فیصلہ سراسر غیر قانونی ہے کیونکہ اس بین الاقوامی قانون کے اندر یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور پاکستان کا یہ موقف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے اس تاریخی فیصلے سے بھی ثابت ہوتا ہے جس میں عدالت نے بھارتی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ یہ معاہدہ تاحال بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی شقوں پر عمل کرنے کا قانونی پابند ہے۔ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر سے بہنے والے مغربی دریاؤں پر کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس جیسے متنازع بڑے ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کی زرعی معیشت کو ہائی جیک کرنے اور پانی کو ایک سفاک آبی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے پاکستان کی اہم ترین برآمدی برادری سمیت پوری فوڈ سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں کیونکہ بھارت کی اس آبی چوری سے پاکستان میں مصنوعی قحط یا اچانک پانی چھوڑ کر مصنوعی سیلاب لانے کا مستقل خطرہ منڈلا رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے عالمی بینک اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو بطور ضامن ان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے یہ چبھتا ہوا سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا عالمی برادری خطے میں اس وقت تک خاموش تماشائی بنی رہے گی جب تک پانی کا یہ تنازع ایک باقاعدہ ایٹمی تصادم کی شکل اختیار نہ کر لے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ نئی دہلی کی ہٹ دھرمی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو مروجہ قوانین کا پابند بنایا جائے کیونکہ جب تک کشمیر کا بنیادی مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا اور مودی حکومت ۵ اگست ۲۰۱۹ء کے یکطرفہ اقدامات کو منسوخ نہیں کرتی تب تک خطے میں آبی اور تزویراتی امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جہاں دنیا بھر کی نظریں غزہ اور عالمی معیشت پر مرکوز تھیں، وہاں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے پوڈیم سے ایک ایسے اہم ترین سیکیورٹی اور بقا کے مسئلے پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف پیش کیا جو آنے والے وقت میں جنوبی ایشیا کے امن کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ پاک بھارت آبی تنازع اور سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی جارحیت ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں دنیا کو باور کروایا کہ پانی کا بحران محض ایک ماحولیاتی یا معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی زراعت، معیشت اور 24 کروڑ عوام کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چند سالوں سے بھارت مسلسل 1960ء کے تاریخی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پر متنازع ڈیمز اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس تعمیر کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری کے سامنے انکشاف کیا کہ بھارت ان دریاؤں کا رخ موڑنے یا ان کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے پاکستان کو ایک مصنوعی قحط اور سیلاب جیسی دوہری تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے,

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ سندھ طاس معاہدہ دو ممالک کے درمیان ایک بین الاقوامی ضامن (عالمی بینک) کی موجودگی میں طے پایا تھا، اور بھارت یکطرفہ طور پر اس میں ترمیم یا اسے منسوخ کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتا۔”

عالمی بینک کا کردار اور ثالثی عدالت کا مقدمہ;

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کو یاد دلایا کہ پاکستان نے ہمیشہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھا ہے۔

کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس پر بھارت کی ہٹ دھرمی کے خلاف پاکستان کا ہیمبرگ کی ثالثی عدالت (Court of Arbitration) اور عالمی بینک کے سامنے مقدمہ بالکل واضح ہے۔

نئی دہلی کی جانب سے عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کو اپنے بوٹوں تلے روندنا چاہتا ہے۔

شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری اور عالمی بینک بطور ضامن اپنی ذمہ داری پوری کریں اور بھارت کو عالمی قوانین کا پابند بنائیں۔

یہ نکتہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک بھارت آبی تنازع کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ پاکستان کی طرف بہنے والے تمام بڑے دریا جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقوں سے ہو کر آتے ہیں۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اب پانی کو پاکستان کے خلاف ایک “آبی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، خطے میں آبی اور تزویراتی امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں یہ جرات مندانہ مؤقف اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور آبی بقا کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں عالمی رہنماؤں کو واضح طور پر خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا دریاؤں کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو “اعلانِ جنگ” (Act of War) تصور کیا جائے گا۔پاک بھارت آبی تعلقات میں حالیہ کشیدگی کی اصل وجوہات اور سندھ طاس معاہدے کو لاحق خطرات یہ ہیں: بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا ہے، جس کی پاکستان اور عالمی ماہرین نے شدید مذمت کی ہے۔ مودی سرکار مقبوضہ جموں و کشمیر سے بہنے والے مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، اور چناب) پر متنازع کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس جیسے بڑے ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کی زرعی معیشت کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہےہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے پاکستان کے قانونی مؤقف کی تائید کی ہے، لیکن بھارت اس عدالت کے دائرہ اختیار کو ماننے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ پاکستان کی 80فیصد سے زائد اراضی اور کاٹن جیسی اہم ترین برآمدات اسی پانی پر انحصار کرتی ہیں۔ پانی کی اس چوری سے پاکستان میں مصنوعی قحط یا اچانک پانی چھوڑ کر مصنوعی سیلاب لانے کا مستقل خطرہ موجود رہتا ہے, وزیراعظم نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کو عالمی برادری کے سامنے “نسل کشی” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے معصوم بچوں ہند رجب اور وفا عقیلہ کی دل دوز داستانیں سنا کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ ان کے اسی پردرد بیان کو بعد ازاں ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے اپنے آفیشل ہینڈلز پر سراہا۔ شہباز شریف نے بھارت کی آبی جارحیت پر سخت ترین مؤقف اپنایا اور واضح کیا کہ مغربی دریاؤں کا رخ موڑنے یا پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو “اعلانِ جنگ” (Act of War) تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بھارتی اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دینا اور 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کی منسوخی ہے: وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جنگ کے بجائے امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا انہوں نے عالمی فورم پر پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افواج اور عوام کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے۔پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ دریائے سندھ کے پانی میں پاکستان کے حصے کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی بھارت کی کسی بھی کوشش کو “جنگ کے مترادف” سمجھا جائے گا۔ دریائے سندھ کے نظام کا مشترکہ پانی نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے “حیاتیاتی شہ رگ” کی حیثیت رکھتا ہے، اور موجودہ معاہدے کو معطل کرنے کے بھارت کے یکطرفہ فیصلے کی “کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے”۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے دعووں کو اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت نے مسترد کر دیا ہے ، “پانی کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ دریاؤں کو قوموں کو پروان چڑھانا چاہیے، نہ کہ انہیں تقسیم کرنا چاہیے۔”فروری میں خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے جناب شریف نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک دوسرے کے قریب لانے میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے باوجود، “میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو اور بھی بلند اور مضبوط ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب (بحیرہ احمر کا اہم گزرگاہی مقام) “کھلے رہنے چاہئیں”۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کی، جن میں مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش بھی شامل ہے۔کہا کہ جب ایک سال قبل پاکستان کو “بھارت کی جانب سے بیرونی جارحیت” کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال کیا؛ انہوں نے “دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں” کے درمیان مکمل جنگ کو ٹالنے کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے سر باندھا۔ کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ کبھی “اس خطرناک موڑ” (تباہی کے دہانے) پر پہنچنے سے بچانے کے لیے کشمیر تنازعے کے منصفانہ حل کی ضرورت ہے، اور مزید کہا کہ کشمیری اقوامِ متحدہ کے تحت استصوابِ رائے کا آٹھ دہائیوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “نسلوں نے غیر قانونی قبضے، من مانی حراست، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزا کا سامنا کیا ہے۔” اسلامو فوبیا (اسلام دشمنی) کے حوالے سے انہوں نے کہا، “آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے زیرِ اثر ہندوتوا کا نظریہ مذہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں (لِنچنگ)، فرقہ وارانہ تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں اور مذہبی آزادی پر پابندیوں جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔” غزہ کے معاملے پر، انہوں نے آٹھ سالہ وفا عقیلہ کا ذکر کیا جو اس دن ہلاک کر دی گئی تھی جب اسے اسکول کے اپنے پہلے دن جانا تھا۔ وزیراعظم نے سوال کیا، “کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے میں رہنے والے بچے جیسی زندگی، مستقبل اور خوابوں کا حقدار نہیں ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں “فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنا واضح طور پر اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے، جو بلا روک ٹوک جاری ہے۔”

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد گروہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں کر رہے ہیں، اور انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ “قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن کارروائی” کریں۔ اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس کے ‘اعتماد کی بحالی’ کے موضوع کی تائید کرتے ہوئے، پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب “بندوقیں خاموش ہو جائیں اور ان کی جگہ مصافحے، گلے ملنے اور مسکراہٹیں لے لیں۔” “ہم نے تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ چنا ہے۔ ہم نے جبر کے بجائے تعاون کو ترجیح دی ہے۔ ہم نے جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کیا ہے۔”یو این جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہبازشریف نے فلسطینیوں کے حق میں پرزور آواز اٹھائی اور اسرائیل کی مذمت کی-وزیراعظم شہبازشریف نے ایران جنگ کے پرامن حل پر زور دیا-علاوہ ازیں نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلیٰ سطح کے عالمی اجلاسوں میں شرکت کی، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ صرف مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق حل میں ہی پنہاں ہےپاکستان کی وزارتِ خارجہ کے نو منتخب ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں باضابطہ طور میڈیا کرتے ہوئے ملکی خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم ترین پیشرفت پر پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کیا ہے۔ بریفنگ میں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں بھارتی بحری جارحیت امور زیرِ بحث رہے۔ترجمانِ دفترِ خارجہ نے تصدیق کی کہ پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے بھارتی بحری جہاز کی جانب سے کی جانے والی شدید اشتعال انگیز کارروائی پر سخت ترین احتجاجی مراسلہ ریکارڈ کروایا ہے۔ پاکستان نیوی کی جاری مشقوں “سی اسپارک-26” (Sea Spark-26) کے دوران، 15 ستمبر کو بھارتی نیوی کے ایک جنگی جہاز نے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون کے اندر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک فوجی نقل و حرکت کی۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام 1991ء کے دوطرفہ فوجی نوٹیفیکیشن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ صیہونی طرز پر بھارتی بحریہ کا اپنی حدود سے باہر نکل کر نیوکلیئر فلیٹ کے ساتھ مہم جوئی کرنا خطے کے سمندری امن کو تباہ کر سکتا ہے اور پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعظم شہبازشریف کوا قوام متحدہ جنرل اسمبلی میں مسلسل چوتھی بار خطاب کا اعزاز ملنے پراظہار تشکر کیاہے – وزیراعلیٰ مریم نواز نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پاکستانی قوم کی شاندار ترجمانی پر خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ وز یراعظم شہبازشریف نے شاندار اور زور دار طریقے سے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا- انڈیا پاکستان آبی تنازع پر وزیراعظم شہبازشریف نے جنرل اسمبلی میں مدلل مقدمہ پیش کیا-

X