اسلام آباد (سہ پہر) نوجوان بڑھتی ہوئی این سی ڈیز کی وبا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں: جنرل کیانی
اسلام آباد 25ستمبر 2026 (سہ پہر): نوجوان بڑھتی ہوئی این سی ڈیز کی وبا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں: جنرل کیانی
پناہ کا عوامی صحت کے تحفظ کے لیے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے فوری نفاذ پر زور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیرِ اہتمام 25 ستمبر 2026ء کو قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد میں غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کے بڑھتے ہوئے خطرے اور لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کی ضرورت کے حوالے سے ایک آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے کہا کہ پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں کا تیزی سے بڑھتا ہوا بوجھ ایک سنگین عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال بن چکا ہے۔ ذیابیطس، موٹاپا، امراضِ قلب، گردوں کے امراض اور بعض اقسام کے کینسر لاکھوں افراد کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً 60 فیصد اموات غیر متعدی بیماریوں سے منسلک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الٹرا پروسیسڈ اور غیر صحت بخش غذائی مصنوعات، خصوصاً وہ مصنوعات جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس صحت کے بحران میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
میجر جنرل (ر) کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں اور لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واضح اور آسانی سے سمجھ آنے والے وارننگ لیبلز صارفین کو ایسی مصنوعات کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہو، اور انہیں صحت مند انتخاب کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان غیر متعدی بیماریوں کی وبا کی روک تھام میں ایک مؤثر قوت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کے لیے پناہ کی مہم کی حمایت کریں اور سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، یونیورسٹی سوسائٹیز اور کمیونٹی سرگرمیوں کے ذریعے صحت بخش غذا اور غیر صحت بخش و الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔
مسٹر گھمن نے کہا کہ نوجوان نہ صرف پاکستان کا مستقبل ہیں بلکہ وہ آج بھی آگاہی پیدا کرنے، صحت مند انتخاب کو فروغ دینے اور مضبوط عوامی صحت کی پالیسیوں کے لیے آواز اٹھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پناہ نے طلبہ، یونیورسٹیوں، ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور پاکستان میں لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں، تاکہ صارفین اور آنے والی نسلوں کے صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔