LOADING

Type to search

پاکستان

لاہور (سہ پہر) پاکستان میں صاف توانائی کے مستقبل کے لیے تھرمل بجلی گھروں کے نئے کردار پر لمز کی قومی ورکشاپ شعبہ بجلی کی قیادت نے 2040 تک سستی، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست بجلی کے حصول کے لیے عملی ترجیحات پر گفتگو کی

لاہور، 24 ستمبر 2026 (سہ پہر): لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام قومی مشاورتی ورکشاپ میں پاکستان کے بجلی کے شعبے کو صاف، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی جانب منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا گیا۔ منعقدہ مشاورت میں بجلی کے شعبے کے اہم اداروں اور ماہرین نے 2040 تک بجلی کے نظام کو نیٹ زیرو کی جانب لے جانے کے لیے قابلِ عمل اقدامات پر غور کیا۔

یہ مشاورت لمز کے انرجی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ

Net Zero Transition: A Pathway to Clean and Sustainable Electricity by 2040″“ کی روشنی میں منعقد کی گئی۔ ورکشاپ میں ملک کے بجلی کے شعبے سے وابستہ اہم اداروں اور ماہرین نے شرکت کی اور توانائی کے نظام کو مرحلہ وار ماحول دوست توانائی کی جانب منتقل کرنے کے عملی تقاضوں پر غور کیا۔

مشاورت میں ایل ای آئی کے ماہرین ڈاکٹر سلمان رفیق چوہدری، انجینئر عمر فاروق، ڈاکٹر محمد انیب اور ڈاکٹر نوید ارشد کے علاوہ وزارتِ توانائی، نیشنل گرڈ کمپنی، آئی ایس ایم او، واپڈا، جینکوز، پی پی ایم سی، نیپرا، ایس آئی ایف سی، سی پی پی اے۔جی، سرکاری و نجی تھرمل بجلی گھروں، آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ورکشاپ میں قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کو ترسیلی نظام کی ترقی سے ہم آہنگ کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، طلب کے انتظام، بجلی کے نظام میں لچک پیدا کرنے، گرڈ کو درکار معاون خدمات کے حصول اور مرحلہ وار عملی منصوبے کے ذریعے ادارہ جاتی ذمہ داریاں واضح کرنے کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔

مشاورت کا ایک اہم پہلو موجودہ تھرمل بجلی گھروں کے ایسے یونٹس، جو تکنیکی اور معاشی اعتبار سے موزوں ہوں، کو سنکرونس کنڈینسرز میں تبدیل کرنے کا امکان تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسے نظام سے بجلی کے نظام میں وولٹیج کو مستحکم رکھنے، اچانک اتارچڑھاؤ، اور شارٹ سرکٹ کی مطلوبہ صلاحیت فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔شرکاء نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جیسے جیسے فوسل ایندھن سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئے، موجودہ بجلی گھروں، آلات اور گرڈ سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو کس طرح متبادل استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ہر منصوبے کا تکنیکی اور معاشی جائزہ لینے اور متبادل ذرائع کی کارکردگی، لاگت، محلِ وقوع اور تکمیل کے وقت کی بنیاد پر تقابلی جائزہ لینے پر زور دیا گیا۔

تھرمل بجلی گھروں اور آلات تیار کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے ایسے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ شرکاء نے کہا کہ اس سلسلے میں ہر بجلی گھر کی انفرادی ضروریات، تبدیلی کے انجینئرنگ تقاضوں اور ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کی قدر برقرار رکھتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔تھرمل بجلی گھروں کے نمائندوں نے تبدیلی کی لاگت، موجودہ آلات کی باقی ماندہ مدتِ استعمال، معاہداتی ذمہ داریوں اور مستقبل میں آمدن کے امکانات سے متعلق وضاحت کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ آلات تیار کرنے والے اداروں نے ہر منصوبے کی تکنیکی اور معاشی موزونیت کے تعین کو ضروری قرار دیا۔پالیسی اور ضابطہ جاتی امور پر گفتگو کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ گرڈ کو درکار معاون خدمات کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار نظام تشکیل دیا جائے تاکہ مختلف ٹیکنالوجیز کو یکساں بنیادوں پر مسابقت کا موقع مل سکے۔

وزیرِ توانائی کے مشیر سید فیضان علی شاہ نے کہا کہ معاون خدمات کی فراہمی کے لیے وضع کیے جانے والے نظام کو ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار ہونا چاہیے اور تمام ٹیکنالوجیز کو مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی اور جدید ٹیکنالوجیز کو بھی معاون خدمات کی فراہمی میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

نیشنل گرڈ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک نے سرمایہ کاری سے قبل ٹیرف، لائسنسنگ، کارکردگی اور گرڈ سے منسلک ہونے کے معیارات کے ساتھ ساتھ خدمات کی قدر کے تعین میں وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں نظام کی ضروریات کے مطابق مختلف آپشنز کی پوری مدت کی لاگت مناسب مقام اوراس سے حاصل ہونے والے فوائد کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔“

پی پی ایم سی کے مینجنگ ڈائریکٹر عابد لطیف لودھی نے کہا کہ معاون خدمات کو بجلی کی خریداری سے الگ کیا جائے اور ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار مسابقت کے ذریعے ان کی فراہمی کا نظام وضع کیا جائے۔ ان کے مطابق، ”ہمیں نظام کی ضرورت کا تعین، بجلی گھر کی سطح پر موزونیت کا جائزہ اور ان خدمات کی خریداری اور معاوضے کے لیے واضح ضابطہ جاتی اور تجارتی انتظامات وضع کرنا ہوں گے۔“

آئی ایس ایم او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر ہارون ملک نے کہا کہ معاون خدمات کے لیے جامع فریم ورک کی تیاری پر کام جاری ہے، جو بجلی کی منڈی میں وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ”مقصد معاون خدمات کی ضرورت کا تعین کرنا اور مسابقتی، ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار طریقہ کار کے ذریعے ان کی خریداری کرنا ہے، خواہ حل سنکرونس کنڈینسر، جنریٹر یا کوئی دوسری ایسی ٹیکنالوجی ہو جو مطلوبہ معیار پر پورا اترتی ہو۔“

واپڈا کے ممبر پاور محمد عرفان میاں نے صارفین کے لیے بجلی کو سستا رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ”ہمیں معاوضے کا طریقہ کار دستیابی اور کارکردگی کی بنیاد پر طے کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ہم دوبارہ پہلے والے صلاحیت پر مبنی ماڈلز کی طرف واپس چلے جائیں۔“

شرکاء کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کو مؤثر انداز میں بجلی کے نظام میں شامل کرنے اور گرڈ کو درکار معاون خدمات کی دستیابی سے بجلی کے نظام کے استحکام اور قابلِ اعتماد فراہمی میں بہتری آ سکتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی بھی ممکن ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ بچت کا انحصار منصوبوں کی تکنیکی و معاشی موزونیت اور لاگت کی وصولی کے طریقہ کار پر ہوگا۔

لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی ورکشاپ میں سامنے آنے والی سفارشات اور نتائج کو یکجا کرکے ان پر عمل درآمد کی ترجیحات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق سفارشات مرتب کرے گا۔ سنکرونس کنڈینسرز کی جاری پیشگی فزیبلٹی جائزے کے نتائج سمیت جامع سفارشات رواں سال کے اختتام سے قبل جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ایل ای آئی کے سینئر مشیر، نیشنل گرڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور آئی ایس ایم او کے آزاد ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا، ”یہ قومی مشاورت لمز کی نیٹ زیرو رپورٹ کے نتائج کو عملی ترجیحات، واضح اقدامات اور ذمہ داریوں میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے، تاکہ 2040 کے بجلی کے راستے پر پیش رفت کی جا سکے۔“

ورکشاپ کے اختتام پر لمز کے پرووسٹ ڈاکٹر طارق جادون نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ”لمز حکومت اور صنعت کے ساتھ مل کر تحقیق کو پالیسی اور سستی، قابلِ اعتماد اور صاف بجلی کے لیے عملی حل میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔“

X