اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کے سائبر محاذ کا فرنٹ لائن محافظ: سید علی ناصر رضوی
اسلام آباد (سہ پہر) پولیس افسر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی مدتِ تعیناتی پوری ہونے کے بعد فائلوں اور سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جن کا ذکر ان کے تبادلوں کے بعد بھی لوگوں کی گفتگو، اداروں کی یادداشت اور عوامی توقعات میں زندہ رہتا ہے۔ کچھ لوگ عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ عہدوں کو اپنی شناخت دے جاتے ہیں۔ سید علی ناصر رضوی کا شمار ان افسروں میں ہوتا ہے جن کی پہچان صرف کسی ایک کرسی یا منصب تک محدود نہیں رہی۔
ستمبر 2026 میں جب وفاقی حکومت نے انہیں اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کے عہدے سے تبدیل کرکے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا تو بظاہر یہ ایک معمول کا انتظامی فیصلہ تھا، مگر درحقیقت یہ پاکستان میں جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت اور ریاستی ترجیحات کی عکاسی بھی تھا۔ آج جرائم کی دنیا صرف گلیوں، بازاروں اور شاہراہوں تک محدود نہیں رہی۔ اب مجرم سرحدیں عبور کیے بغیر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں پستول نہیں بلکہ کی بورڈ ہوتا ہے، اور ان کا ہدف صرف جیب نہیں بلکہ شناخت، عزت، کاروبار اور قومی سلامتی تک ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سید علی ناصر رضوی کی نئی ذمہ داری محض ایک ادارے کی سربراہی نہیں بلکہ ایک ایسے محاذ کی کمان ہے جسے آنے والے برسوں میں پاکستان کی داخلی سلامتی کے اہم ترین میدانوں میں شمار کیا جائے گا۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا ہم واقعی اس جنگ کی نوعیت کو سمجھ رہے ہیں؟
پاکستان میں جب بھی سلامتی کی بات ہوتی ہے تو ذہن فوراً سرحدوں، چوکیوں، ہتھیاروں اور وردیوں کی طرف جاتا ہے۔ مگر دنیا بدل چکی ہے۔ آج ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے ٹینکوں کی ضرورت نہیں رہی۔ ایک منظم سائبر حملہ کسی ملک کے بینکاری نظام، سرکاری ریکارڈ، حساس معلومات اور عوامی اعتماد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دشمن اب سرحد پار سے نہیں بلکہ موبائل فون کی سکرین، ای میل یا کسی جعلی ویب سائٹ کے ذریعے حملہ آور ہوتا ہے۔
یہی وہ جنگ ہے جس کے مورچوں پر آج سید علی ناصر رضوی کھڑے ہیں۔
اسلام آباد پولیس میں ان کے دور کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے پولیس کو صرف ردعمل دینے والی فورس نہیں بلکہ پیشگی تیاری کرنے والا ادارہ بنانے کی کوشش کی۔ یہی سوچ اگر NCCIA میں منتقل ہو گئی تو یہ ادارہ صرف شکایات درج کرنے والا دفتر نہیں رہے گا بلکہ سائبر خطرات کے خلاف قومی ڈھال بن سکتا ہے۔
ہم اکثر اداروں پر تنقید کرتے ہیں، اور بعض اوقات یہ تنقید درست بھی ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید جرائم کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں جیت سکتے۔ اس میں ریاست، تعلیمی اداروں، میڈیا، بینکنگ سیکٹر، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اس پورے نظام میں ایک مرکزی کردار ضرور ہوتا ہے، اور اس وقت NCCIA کے لیے وہ کردار سید علی ناصر رضوی ادا کر رہے ہیں۔
سائبر جرائم کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان کا شکار صرف کمزور یا غیر تعلیم یافتہ افراد نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، بیوروکریٹ، تاجر، وکیل، اساتذہ، حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی بعض اوقات دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ایک لنک، ایک کال، ایک جعلی پیغام یا ایک مصنوعی ویڈیو زندگی بھر کی کمائی، عزت اور ذہنی سکون چھین سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا پولیس افسر صرف قانون نہیں جانتا، اسے ٹیکنالوجی بھی سمجھنی پڑتی ہے۔ اسے صرف مجرم کا تعاقب نہیں کرنا ہوتا بلکہ ڈیجیٹل ثبوت، ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت اور عالمی سائبر نیٹ ورکس کی زبان بھی سمجھنا ہوتی ہے۔
سید علی ناصر رضوی کے سامنے اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ انہیں ایک ایسے ادارے کی قیادت کرنا ہے جس کی جنگ کا میدان نظر نہیں آتا، جس کے دشمنوں کی کوئی مخصوص شکل نہیں ہوتی اور جس کے محاذ چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں۔
میں نے اپنی صحافتی زندگی میں ایک بات سیکھی ہے۔ عوام کسی افسر سے معجزات کی توقع نہیں رکھتے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور انہیں یہ احساس ہو کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر NCCIA ایک عام شہری کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
کیونکہ اصل طاقت صرف گرفتاریوں میں نہیں ہوتی، اعتماد میں ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ کروڑوں نوجوان روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، ملازمتیں تلاش کرتے ہیں، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں اور دنیا سے رابطہ رکھتے ہیں۔ لیکن اسی ڈیجیٹل دنیا میں خطرات بھی موجود ہیں۔ غلط معلومات، آن لائن انتہا پسندی، مالیاتی فراڈ، ہراسگی اور شناخت کی چوری جیسے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
ان حالات میں NCCIA کا کردار صرف ایک تفتیشی ادارے کا نہیں بلکہ ایک قومی محافظ کا ہے۔
اور محافظ صرف خطرہ آنے کے بعد حرکت میں نہیں آتا، وہ خطرہ آنے سے پہلے بھی چوکس رہتا ہے۔
سید علی ناصر رضوی کے لیے بھی کامیابی کا معیار یہی ہوگا۔ کیا وہ ادارے کو زیادہ متحرک بنا پاتے ہیں؟ کیا وہ جدید ٹیکنالوجی اور انسانی صلاحیتوں کے درمیان بہتر توازن پیدا کر پاتے ہیں؟ کیا وہ عوام اور ادارے کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کر پاتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا وہ اس ادارے کو آنے والے دس برسوں کے چیلنجز کے لیے تیار کر پاتے ہیں؟
یہ سوالات ابھی کھلے ہیں اور ان کے جواب وقت دے گا۔
لیکن ایک بات واضح ہے۔ دنیا جس تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے، پاکستان بھی اسی رفتار سے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اس نئے دور میں قومی سلامتی کی تعریف صرف جغرافیہ سے وابستہ نہیں رہے گی بلکہ ڈیٹا، معلومات اور سائبر تحفظ بھی اس کا لازمی حصہ ہوں گے۔
شاید آنے والی نسلیں اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہیں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ کے میدان بدل رہے تھے۔ جب دشمن کی شکل بدل رہی تھی۔ جب حملے خاموش ہو گئے تھے اور دفاع کو بھی نئی زبان سیکھنی پڑ رہی تھی۔
ایسے وقت میں بعض شخصیات محض عہدے دار نہیں رہتیں بلکہ ایک علامت بن جاتی ہیں۔ ایک ذمہ داری کی علامت، ایک چیلنج کی علامت اور ایک امید کی علامت۔
آج سید علی ناصر رضوی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں۔
ان کے سامنے فائلوں کا ڈھیر نہیں بلکہ ایک نئی دنیا کے پیچیدہ سوالات ہیں۔
ان کے سامنے روایتی جرائم نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور کے بدلتے ہوئے خطرات ہیں۔
ان کے سامنے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ اگر پاکستان کے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے کو ایک تصویر میں سمویا جائے تو اس تصویر کے نمایاں کرداروں میں ایک نام ضرور شامل ہوگا۔
سید علی ناصر رضوی — پاکستان کے سائبر محاذ کا فرنٹ لائن محافظ۔