LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) او آئی سی ممالک میں خواتین سماجی، اقتصادی , سیاسی بااختیار اور چیلنجز

اسلام آباد (سہ پہر) عالمِ اسلام میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی ترقی کے لیے ایک تاریخی سفارتی پیش رفت کے طور پر جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں “خواتین پر 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس” کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔پاکستان میں 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے حوالے سے خصوصی نغمہ اور دستاویزی فلم جاری کر دی گئی۔کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم امہ میں صنفی خلیج کو کم کرنا ہے۔ اعلیٰ ترین سفارت کار اور پالیسی ماہرین خواتین کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی، سیاسی شمولیت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور خواتین کے کاروبار کے لیے مالیاتی نیٹ ورکس کو آسان بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس اسلامی اقدار کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صنفی مساوات اور انسانی حقوق پر پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ اہم کانفرنس حکومتِ پاکستان (وزارتِ انسانی حقوق) اور او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس کی نگرانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر مشتمل اعلیٰ سطح کی آرگنائزنگ کمیٹی کر رہی ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے جناح کنونشن سینٹر میں 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے، جس کا مرکزی عنوان “او آئی سی ممالک میں خواتین کا سماجی، اقتصادی اور سیاسی بااختیار ہونا: چیلنجز اور آگے کا راستہ” ہے,
کانفرنس کے چار بنیادی چیلنجز اور اہداف میں او آئی سی خطے کی پارلیمانوں، مقامی حکومتوں اور فیصلہ سازی کے اعلیٰ اداروں میں خواتین کی نمائندگی میں حائل ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنا۔ : خواتین کی مالیاتی اداروں، بینکنگ نیٹ ورکس اور کاروبار کے لیے بلا سود یا آسان شرائط پر قرضوں تک رسائی کو یقینی بنانا۔ : مسلم دنیا کی خواتین اور لڑکیوں کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائنس، اور آئی ٹی کی تعلیم سے آراستہ کر کے مارکیٹ کا حصہ بنانا۔ : کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا اور صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے 190 سے زائد بین الاقوامی مندوبین، وزراء اور خواتین رہنما کانفرنس میں شریک ہیں۔بنیادی موضوع: کانفرنس کا مرکزی عنوان “او آئی سی ممالک میں خواتین کا سماجی، اقتصادی اور سیاسی بااختیار ہونا: چیلنجز اور آگے کا راستہ” ہے سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں وفاقی وزارتیں، کیبنٹ ڈویژن اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم امہ میں صنفی خلیج کو کم کرنا ہے۔ اعلیٰ ترین سفارت کار اور پالیسی ماہرین خواتین کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی، سیاسی شمولیت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور خواتین کے کاروبار کے لیے مالیاتی نیٹ ورکس کو آسان بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس اسلامی اقدار کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صنفی مساوات اور انسانی حقوق پر پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو نمایاں کرتی ہے
یہ دو روزہ عالمی کانفرنس مسلم دنیا میں خواتین کو حقوق کی فراہمی اور صنفی مساوات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی, کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران مصر نے باقاعدہ طور پر او آئی سی ویمن کانفرنس کی صدارت پاکستان کے سپرد کی , وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے مسلم ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا۔او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور 57 ممالک کے 190 سے زائد مندوبین اسلامی اصولوں کے دائرے میں خواتین کو یکساں مواقع دینے کی پالیسیوں پر بحث کر رہے ہیں ,
پاکستان کی طرف سے کانفرنس کی صدارت سنبھالتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا:”پاکستان کے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ وہ مسلم دنیا کی خواتین کو بااختیار بنانے کے اس تاریخی مشن کی قیادت کر رہا ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں مسلم ممالک کی خواتین سماجی، سیاسی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان او آئی سی کے پلیٹ فارم سے تمام رکن ممالک کے درمیان مشترکہ حکمتِ عملی اور بہترین قومی طریقوں (Best Practices) کے تبادلے کو فروغ دے گا۔ یہ میزبانی پاکستان کو پہلی بار ملی ہے، اور او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دو سال کے لیے صدارت ملنے جا رہی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان صدارت کی ذمہ داری کے لیے تیار ہے، ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں گے، اور خواتین کے حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔
آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ اور نائب وزیر اعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا:”خواتین کے حقوق اور ان کی معاشی و سیاسی خود مختاری کا فروغ پاکستان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ کانفرنس مسلم دنیا کی نصف آبادی کو ڈیجیٹل معیشت، جدید ٹیکنالوجی، اور مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرے گی۔”او آئی سی سیکرٹریٹ اور مندوبین کے مشترکہ مطالبات;او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کے حکام اور مختلف مسلم ممالک سے آئے ہوئے وزرائے امورِ خواتین نے افتتاحی سیشن میں درج ذیل مشترکہ نکات پر زور دیا:
صنفی خلیج کا خاتمہ: آئی ٹی، سائنس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں خواتین کی شرکت بڑھا کر صنفی تکنیکی فرق (Digital Gender Gap) کو فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
معاشی خودمختاری: خواتین کاروباری شخصیات (Women Entrepreneurs) کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں تک آسان رسائی ممکن بنانا۔
افغان خواتین کا مسئلہ: کانفرنس کے حاشیے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مندوبین نے او آئی سی پر زور دیا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر لگی تعلیمی و پیشہ ورانہ پابندیوں کے خاتمے کو کانفرنس کے ایجنڈے میں اولین ترجیح دی جائے۔او آئی سی آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (تنظیم تعاون اسلامی) ہے، 57 مسلم ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔اس تنظیم کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے مفادات کا تحفظ، باہمی تعاون کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں امن و ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے یہ تنظیم 25 ستمبر 1969 کو مراکش کے شہر رباط میں قائم کی گئی تھی اس کا مرکزی سیکریٹریٹ جدہ، سعودی عرب میں واقع ہے۔ پاکستان اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں 57 رکن ممالک کی نمائندگی شامل ہے۔پاکستان خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے پرعزم ہےخواتین ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ ہیں اور ہمارے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، جیسا کہ ہماری قوم کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ ’’کوئی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پر نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں، پاکستان میں خواتین کو ملک کی ترقی میں بہترین کارکردگی اور کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں خواتین تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال سے لے کر کاروبار اور عوامی خدمت تک مختلف شعبوں میں قائدانہ عہدوں پر نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خواتین کی خدمات پیشہ ورانہ میدان کے علاوہ خاندانوں کی پرورش اور آنے والی نسلوں کو پروان چڑھانے کے حوالے سے ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے کام کرنے والی خواتین کی مدد کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں خواتین میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، خواتین کی تعلیم اور کھیلوں کی ترقی کے لیے انڈومنٹ فنڈ کا قیام شامل ہیں،خواتین کی دوہری ذمہ داریوں میں ان کو مدد فراہم کرنے کے لیے اداروں میں ڈے کیئر مراکز کا قیام بھی ہر ادارے کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے خواتین کی مہارت اور قابلیت کو بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام بھی شروع کیے ہیں، تاکہ ان کو بااختیار بنایا جا سکے اور وہ سرکاری اور نجی اداروں میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچ سکیں۔حکومت ایک ایسے مستقبل کے لئے کام کر رہی ہے جہاں خواتین کے لیے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنا معمول ہو۔ آئیے ہم کام کرنے والی خواتین کو درپیش چیلنجوں کو کم کرنے اور خواتین کے لیے کام کا ایسا ماحول فراہم کرنے کا عہد کریں جہاں وہ ترقی کر سکیں، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ خواتین پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی رہیں ,اسلام آباد میں جاری او آئی سی وزارتی کانفرنس کے افتتاحی اور تکنیکی سیشنز کے دوران مختلف مسلم ممالک کے وزرائے امورِ خواتین اور وفود کے سربراہان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پہلے روز کے سیشنز کے اختتام پر مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے اہم سفارشات اور تجاویز کا ابتدائی خاکہ بھی سامنے آیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر برائے امورِ خواتین، بچوں اور سماجی بہبود، ابو ظفر محمد زاہد حسین نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا:”مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی نمو اور امن کا حصول تب تک ممکن نہیں جب تک ہم صنفِ نازک کو یکساں معاشی اور سماجی حقوق فراہم نہیں کرتے۔” انہوں نے کورونا وبا کے بعد گھریلو تشدد، بے روزگاری اور غربت میں اضافے جیسے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور بنگلہ دیش کے کامیاب ماڈل (ہیلپ لائنز اور آگاہی مہمات) کا ذکر کرتے ہوئے او آئی سی ممالک کے درمیان اس سلسلے میں گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر (IIOJK) اور بھارت میں مسلم خواتین پر ہونے والے مظالم اور مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا کے خلاف امہ کے پلیٹ فارم سے مضبوط آواز اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔پہلے روز منظور ہونے والی اہم سفارشات اور روڈ میپ ,کانفرنس کے مختلف ورکنگ گروپس، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن ، اور دیگر صوبائی وزرائے بہبودِ خواتین کے مابین ہونے والی مشاورت کے بعد درج ذیل بنیادی سفارشات کو ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا:سیاسی اور کابینہ میں نمائندگی: تمام او آئی سی رکن ممالک کی وفاقی و صوبائی کابینہ اور فیصلہ ساز اداروں میں خواتین وزراء کی نمائندگی کو منظم طریقے سے بڑھایا جائے۔مالیاتی شمولیت اور آسان قرضے: خواتین کاروباری شخصیات کو بااختیار بنانے کے لیے بینکنگ نیٹ ورکس تک آسان رسائی دی جائے اور بلا سود یا آسان شرائط پر کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں۔شادی کی کم از کم عمر 18 سال: ملک گیر سطح پر شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کرنے اور شادی کی رجسٹریشن کے لیے دلہن کے اصل شناختی کارڈ کو لازمی قرار دینے کی قانونی سفارش کی گئی۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور فوری مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔تکنیکی اور ڈیجیٹل تعلیم: مسلم دنیا کی لڑکیوں کے لیے تعلیم، صحت اور ہنر مندی کے جدید مراکز کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل اور آئی ٹی سیکٹر میں صنفی خلا کو دور کیا جا سکے۔مرکزی وزارتی اجلاس کل منعقد ہوگا، جس میں مبصرین اور وزارتی وفود شرکت کریں گے اسلام آباد میں جاری 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے دوسرے روز تاریخی “اسلام آباد ڈیکلریشن” کی متفقہ منظوری دی جائے گی، جس میں مسلم خواتین کی تعلیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور ڈیجیٹل/معاشی خودمختاری پر زور دیا گیا ہے۔ اس اہم اجلاس میں پاکستان اگلے دو سال کے لیے صدارت سنبھالے گا اور ٹیکنیکل گروپس کی سفارشات پر مبنی پالیسیوں کی حتمی منظوری دی جائے گی۔

X