LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کی سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں شدید مذمت کی ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ (فارن آفس) کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان کے مطابق، 17 مئی 2026 کو کیے گئے یہ ڈرون حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
اس واقعے اور پاکستان کے ردِعمل کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ پاکستان کا باضابطہ موقف اور یکجہتی ;
خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش:
ترجمانِ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن عمل اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ اور غیر ذمہ دارانہ کوشش ہیں۔
غیر متزلزل حمایت کا اعادہ:
پاکستان نے اس نازک موڑ پر برادر ملک سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے دفاع کے لیے ہمیشہ ساتھ کھڑا رہے گا
۔2۔ واقعہ کا پسِ منظر (ڈرون حملے)عراق کی فضائی حدود سے دراندازی:
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق، اتوار (17 مئی) کے روز عراق کی فضائی حدود کی طرف سے آنے والے تین بارود بردار ڈرونز سعودی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
سعودی دفاعی نظام کی کارروائی:
سعودی فضائیہ نے اپنے جدید دفاعی نظام کے ذریعے ان تینوں ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں کامیابی سے ٹریس کر کے تباہ کر دیا تھا۔
سعودی عرب نے اس معاملے پر اپنے ردِعمل کا حق محفوظ رکھا ہے۔
3۔ پاکستان کا سٹریٹجک دفاعی کردار;
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کا کردار محض زبانی مذمت تک محدود نہیں ہے:
فوجی تعیناتی میں اضافہ:
پاکستان نے اپنے دیرینہ دفاعی معاہدے (Mutual Defence Pact) کے تحت سعودی عرب میں اپنی عسکری موجودگی اور فوجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
فضائیہ کی مدد:
پاکستان نے سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے F-16 لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن بھی سعودی عرب روانہ کر رکھا ہے۔4۔ متحدہ عرب امارات (UAE) کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ;
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ، اسی روز متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ (Barakah Nuclear Plant) کے بیرونی حصے پر ہونے والے ڈرون حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی زندگی کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی بروقت اور شدید مذمت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، تو دوسری طرف خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے اپنے سٹریٹجک وعدوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔

X