اسلام آباد (سہ پہر) پٹرول ریلیف سکیم مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کیلیے بروقت ریاستی سہارا
اسلام آباد (سہ پہر) جب عالمی بحران کے شعلے پٹرول کی قیمتوں کو بھڑکا دیں اور مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کرنے لگے ایسے میں ریاست کی جانب سے بروقت ریلیف محض مالی معاونت نہیں بلکہ عوامی مشکلات کا احساس اور ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کا اظہار ہوتا ہے پٹرول ریلیف سکیم اسی تناظر میں ایک اہم اقدام ہے جس کا اصل مقصد بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کا بوجھ کم آمدن والے شہریوں تک کم سے کم منتقل کرنا ہے دور جدید میں یہ کھلی حقیقت ہے کہ جنگ کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی معاشی سماجی اور ماحولیاتی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں امریکہ واسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطی کی کی خطرناک صورت حال کا براہ راست تیل و گیس کی قیمتوں عالمی سپلائی چین اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑنے کے جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا وہ حقیقت بن کرسب کے سامنے آرہے ہیں امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی کے معاشی اثرات کی شدت میں روز بروز اضافہ ماہ سے جاری جنگ کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تقریبا پانچویں حصے کے برابر خام تیل گزرتا ہے یہ تنازع 1970 کی دہائی کے تیل بحران اور 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بھی زیادہ سنگین صورت حال پیدا کرچکا ہے مشرق وسطی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریبا درجنوں اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے اور ہر ایک کی مرمت میں وقت درکار ہوگا ان ممالک کے لئے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں خصوصا ایشیا اور یورپ میں واقع ممالک میں صورت حال خاصی مایوس کن ہے توانائی سے متعلق تھنک ٹینک ایمبر کے مطابق دنیا کی تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں مہنگا پٹرول صرف گاڑی کا ایندھن مہنگا نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی کے ہر شعبے تک پہنچتے ہیں جب ایندھن کی قیمت بڑھتی ہے تو سفر، اشیائے خور و نوش کاروبار صنعت اور گھریلو بجٹ سب متاثر ہوتے ہیں ایسے نازک معاشی حالات میں پٹرول ریلیف سکیم عام آدمی کے لیے فوری سہارا فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے تاہم مستقل حل کے لیے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اور خود انحصاری پر مبنی پالیسی اختیار کرنا ہوگی ان ممالک کی حکومتوں کے کاروبار اور گھریلو صارفین کی مدد کے لئے بجٹ میں گنجائش کم ہوتی جارہی ہے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے عالمی ماکیٹ میںخام تیل کی قیمت میں اضافے نے درآمدی بل میں اربوں روپے کا اضافہ کردیا ہے قیمت میں اضافہ ایک جانب سپلائی لائن میں جو خلل آیا ہے اس نے توانائی کی قلت کے مسائل کو جنم دیا ہے جس نے کاروبار زندگی اور نظم مملکت کو بری طرح متاثر کیا ہے توانائی کی قلت صرف بجلی یا گیس کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس اثرات براہ راست معاشی ترقی پر بھی پڑ رہے ہیں ایسے میں کسی بھی ریاست کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنے تئیں اس بحران کا مقابلہ کر سکے لہذا اہم داخلی فیصلوں کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم کا موجودہ بحران صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی معیشت اور ٹیکس نظام کیلئے بھی بڑا امتحان ہے اگر عالمی تیل کا بحران طویل ہوتا ہے تو حکومت کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے اور مالیاتی اہداف برقرار رکھنے کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ خوراک اور بجلی بھی مہنگی ہوئی تو عوامی بے چینی بڑھ سکتی ہے جس سے حکومت پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہو گا حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوام کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ مہنگائی کے بڑھتے بوجھ کے مقابلے میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر شروع کی جانے والی پٹرول ریلیف سکیم بلا شبہ ایک مثبت بر وقت اور قابل ستائش کاوش اور اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست کو عام آدمی کی مشکلات کا احساس ہے اور وہ اس بوجھ کے کم سے کم اثرات نچلے طبقے پر منتقل کرنا چاہتی ہے اس اسکیم کی اہمیت صرف اس مالی رعایت میں نہیں جو مستحق شہریوں کو پٹرول پر دی جا رہی ہے بلکہ اس امر میں بھی ہے کہ حکومت نے عوامی فیڈ بیک کو اسکیم کے عملی نفاذ کا مستقل حصہ بنایا ملک بھر سے جب شہریوں …


