اسلام آباد (سہ پہر) ایران پر پابندیاں: سلامتی کونسل کا ووٹ اور عالمی سفارت کاری کی بدلتی سمت
اسلام آباد (سہ پہر) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے مینڈیٹ میں توسیع سے متعلق امریکی حمایت یافتہ قرارداد کی ناکامی محض ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان پابندیوں، کثیرالجہتی سفارت کاری اور ایران کے جوہری مسئلے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی واضح عکاسی بھی کرتی ہے۔
17 ستمبر کو سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد کا مقصد ایران پر دوبارہ عائد کی گئی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں مزید ایک سال کی توسیع کرنا تھا۔ قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم روس اور چین، جو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں، نے قرارداد کو ویٹو کر دیا، جس کے نتیجے میں یہ منظور نہ ہو سکی۔
ایران نے اس پیش رفت کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے ماسکو اور بیجنگ کے موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک ایسی کوشش کو ناکام بنایا جسے تہران غیرمنصفانہ اور سیاسی دباؤ کا حصہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کا فرسودہ ہتھیار اب اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے اور مستقبل کا عالمی نظام کثیرالجہتی تعاون اور کثیر قطبی نظام پر یقین رکھنے والے ممالک تشکیل دیں گے۔
روس اور چین بھی ایران کے معاملے میں مغربی ممالک کے اختیار کردہ طریقۂ کار پر تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ مسلسل پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے۔ ماسکو اور بیجنگ خاص طور پر ایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی اور ’’اسنیپ بیک‘‘ طریقۂ کار کی تشریح پر مغربی طاقتوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک آزادانہ بین الاقوامی نگرانی کا تسلسل ضروری ہے تاکہ پابندیوں کی خلاف ورزی، ان سے بچنے کی کوششوں اور متعلقہ سرگرمیوں کی غیرجانبدارانہ جانچ ممکن ہو سکے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ ماہرین کے پینل کا خاتمہ عالمی نگرانی کے نظام میں ایک اہم خلا پیدا کر سکتا ہے۔
یہی بنیادی اختلاف اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ 17 ستمبر کے ووٹ کو محض ایران کی فتح یا امریکہ کی شکست کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اب ایران کے جوہری مسئلے سے نمٹنے کے قانونی، سفارتی اور سیاسی طریقۂ کار پر واضح طور پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کا رائے شماری سے اجتناب بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن اور سفارتی حل پر زور دیتا آیا ہے۔ پاکستان کا یہ طرزِ عمل اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایران کے معاملے کو بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں حل کیا جائے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا پابندیاں بذاتِ خود کسی پیچیدہ بین الاقوامی تنازع کا مستقل حل فراہم کر سکتی ہیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ اقتصادی پابندیاں ریاستوں پر دباؤ تو بڑھا سکتی ہیں، لیکن سیاسی تصفیے کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ دوسری طرف، مؤثر سفارت کاری بھی اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ شفافیت، قابلِ اعتماد نگرانی اور ایسے انتظامات موجود ہوں جو تمام فریقوں کو یقین دلائیں کہ طے شدہ وعدوں کی پاسداری کی جا رہی ہے۔
ایران کا جوہری تنازع کئی برسوں سے پابندیوں، مذاکرات، معاہدوں، اختلافات اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان گھومتا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاملہ امریکہ اور یورپ کے مقابل روس اور چین کے درمیان ایک مستقل جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
کاظم جلالی کی جانب سے کثیر قطبی عالمی نظام کا حوالہ بھی موجودہ بین الاقوامی سیاست میں آنے والی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ روس اور چین اب عالمی اداروں میں مغربی پالیسیوں کو زیادہ کھل کر چیلنج کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک بڑی طاقتوں کے درمیان کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنی سفارتی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم کثیر قطبی دنیا اسی وقت زیادہ مستحکم عالمی نظام تشکیل دے سکتی ہے جب وہ حقیقی کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دے۔ اگر کثیر قطبیت محض نئے حریف بلاکس اور مستقل ویٹو سیاست میں تبدیل ہو گئی تو عالمی اداروں کی مؤثریت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
سلامتی کونسل کے حالیہ ووٹ نے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں توسیع کا فوری معاملہ تو طے کر دیا، لیکن ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ جوہری شفافیت، پابندیوں کے نفاذ، علاقائی سلامتی اور ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے۔
اس لیے زیادہ پائیدار راستہ مسلسل مذاکرات، قابلِ اعتماد جوہری نگرانی، باہمی اعتماد سازی اور سنجیدہ سفارتی رابطوں ہی سے نکل سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی حالیہ محاذ آرائی کو کسی ایک فریق کی آخری کامیابی یا ناکامی سمجھنے کے بجائے اس حقیقت کی یاد دہانی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ مذاکرات کے بغیر دباؤ اور اعتماد سازی کے بغیر سفارت کاری، دونوں ہی کسی دیرپا حل کی ضمانت نہیں دے سکتے۔