اسلام آباد (سہ پہر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کوئی فرد یا پارٹی انتظامی یونٹ نہیں روک سکتی تقسیم کا مقصد تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نظام حکمرانی بہتر بنانا ہے
اسلام آباد (سہ پہر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کوئی فرد یا پارٹی انتظامی یونٹ نہیں روک سکتی تقسیم کا مقصد تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نظام حکمرانی بہتر بنانا ہے نوکری پر رہوں یا نا رہوں پیچھے نہیں ہٹوں گا عوام چاہیں گے تو انتظامی یونٹ بنیں گے عوامی فیصلے سے کوئی گھبرائے نہیں ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا اور کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی نہیں بلکہ انتظامی نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا ہے میں نے نظام کو درست کرنے کی بات کی تھی، کچھ لوگوں نے میری گفتگو کو موجودہ حکومت اور کچھ نے سیاسی نظام سے جوڑا میرا اشارہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کی طرف نہیں تھا حکومتیں پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں بجٹ بھی آتے رہتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو ڈیلیوری کتنی مل رہی ہے تعلیم صحت اور انصاف ہر کسی کے پاس ہونا ضروری ہے ہمارے نظام تعلیم کا یہ حال ہے کہ پانچویں جماعت بچہ عام جملے نہیں پڑھ سکتا 79 سال بعد بھی اگر شہریوں کو تعلیم صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا ہمیں سسٹم ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے یہ تمام کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے ہم تحصیلیں ڈویژن اور ضلعے بنا سکتے ہیں۔اگر نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہئے انہیں کوئی فرد جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے وطن عزیز میں نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ علاقائی سیاسی اشرافیہ ہےموجودہ انتظامی ڈویژنز نئے صوبوں کے طور پر بہت موثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں جن کا سائز منظم اور اقتصادی عوامی خدمت کی فراہمی کے لئے موزوں ہو گا نئے صوبوں کے قیام کے ذریعے مقامی حکومتوں کو مالیاتی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لئے نیچے سے اوپر تک حکمرانی کا طریقہ کار مزید بہتر ہو سکتا ہے نئے صوبوں کی قیام کی ضرورت و اہمیت سے تو انکار ممکن نہیں البتہ مجوزہ صوبوں کی سیاسی ساخت جغرافیائی ہیئت اور ثقافتی و لسانی شناخت بارے گہرے تنازعات اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں کھڑے ہیںان تنازعات کو کم کرنے کے لئے جس قسم کے صبر، استدلال اور تحمل پہ مبنی غیر معمولی مشق کی ضرورت تھی وہ عنقا ہے نئے صوبوں کا قیام اور مقامی حکومت کی مضبوطی ایسا بنیادی تقاضا ہے جس کا احساس ملک کی سیاسی سماجی اور معاشی ضرورتوں سے بخوبی ہوتا ہے ملک کی تقریبا 48 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں گزشتہ برس ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرتے رہے ملک کی 55 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں انسانی ترقی کے اشاریے پائیدار ترقی کے اہداف بھوک کے عالمی اشاریے اور قانون کی حکمرانی جیسے تمام بین الاقوامی پیمانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو صرف معاشی نہیں بلکہ شدید درجے کے انتظامی اور حکومتی بحران کا بھی سامنا ہے
ایسے حالات میں صرف افراد یا حکومتوں کی تبدیلی کافی نہیں ہوتی نظام کی اصلاح بھی ناگزیر ہو جاتی ہے اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈرز اگر چاروں صوبوں میں وہاں کے پسماندہ اضلاع اور ان میں بسنے والے عوام کو درپیش مسائل کا بغور جائزہ لیں تو انھیں احساس ہوگا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مزید صوبوں کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے دنیا کے بہت سے ملکوں نے اپنے عوام کے لئے یکساں ترقی کے مواقع پیدا کرنے ملکی وسائل اور انتظامی انفراسٹرکچر کو ہر جگہ ایک ہی طرح سے بروئے کار لانے کے لئے صوبوں کو تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ وہاں کی حکومتوں کو داخلی طور پر بہتر سے معاملات میں خود مختاری دے رکھی ہے تاکہ ہر علاقہ یکساں حقوق سے مستفید ہو سکے نئے صوبوں کی پاکستان میں تشکیل کا مطلب یہ نہیں کہ لسانی یا قومیت کی بنیاد پر صوبائی تقسیم ہو بلکہ انتظامی ضروریات اور ملک کے دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کی تشکیل عمل میں لائی جائے جس میں وہاں کی حکومتیں اپنے مالی معاملات میں خود مختار ہوں چھوٹے صوبوں میں اختیارات دے کر ترقی کرنے والے ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے تو پھر پاکستان کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے میں کیا قباحت ہے؟ پاکستان میں صوبوں کا غیر معمولی حجم اچھی حکمرانی کے لئے ایک بنیادی رکاوٹ ہے حکمرانی جتنی عوام کے قریب ہوگی اتنی ہی موثر اور نتیجہ خیز ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں چاروں صوبوں کا بے گراں پھیلاؤ اس میں مانع ہے جو حجم میں دنیا کے ڈیڑھ سو زائد ممالک سے بڑے ہیں صوبوں کے غیر معمولی پھیلائو کی وجہ سے موثر حکمرانی ناممکن ہوچکی ہے ہمیں اس حقیقت کو اب تسلیم کرلینا چاہیے ہمیشہ بڑی ذمہ داریوں کی بہتر ادائیگی کے لئے انہیں تقسیم کیا جاتا ہے مگر ہماری سیاسی جماعتیں آج تک محض اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے اس کھلی حقیقت کو سمجھنے سے انکاری ہیں وہ اختیارات اور وسائل کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے تقسیم اختیارات پر آمادہ نہیں سیاسی جماعتوں نے اگر عقل سلیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس میں تقسیم کردیا ہوتا اور ہر یونٹ اپنے آپ میں ایک صوبے کی طرح وسائل اور اختیارات کا حامل قرار پاتا تو گڈ گورننس کے موجودہ مسائل نہ ہوتے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مالا مال کر دیا گیا مگر صوبائی عوام ان وسائل کی منصفانہ تقسیم سے محروم ہیں اور صوبائی سطح پر محرومیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے حکمرانوں کی ترجیحات اور ہیں اور عوامی مطالبات اور ترقی کے تقاضے کچھ اور ہیں ملکی آبادی میں نوجوانوں کی اکثریت ہے مگر ان کی ترقی کے وسائل دستیاب نہیں اس محرومی نے صرف آج کی نسل کو نہیں آئندہ نسلوں اور پاکستان کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے حکومتیں ان کے لئے حسب ضرورت روز گار اور تعلیم وتربیت کے وافر مواقع پیدا نہیں کرسکتیں اور المیہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے لئے سیاست میں جگہ بنانے کی گنجائش اور امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں وقت آگیا ہے کہ ہم حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور وقت کی پکار پر کان دھریں ملک میں اچھی حکمرانی کا نسخہ بنیادی طور پر اختیارات کی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ منتقلی میں مضمر ہے اور اس کام میں مزید تاخیر کی گنجائش موجود نہیں سیاسی جماعتوں کو اس کام میں معاونت کرنی چاہیے اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے دلائل اور بنیادی حقائق کے معاملے میں سیاسی بصیرت کا ثبوت دینا چاہیے بہترین مستقبل اچھی گورننس کے بغیر ممکن نہیں اور بہترین گورننس کے لئے انتظامی ڈھانچے پر توجہ دینا ہوگی یہی اگلی نسلوں کی خوشحالی اور ترقی کی بنیاد ہے**