اسلام آباد (سہ پہر) مکہ معاہدہ: اتحاد وقت کی اہم ضرورت قرار
اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کے تحت قائم کردہ اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس استنبول میں ہوا
اس اجلاس کی اندرونی تفصیلات اور تزویراتی خدوخال کے حوالے سے مزید اہم اور گہرائی پر مبنی حقائق سامنے آئے ہیں، جو مسلم امہ اور خطے کے دفاعی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے۔
سینیئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق، اس تاریخی اتحاد کی مزید اہم ترین تفصیلات تزویراتی نکات پر محیط ہیں:
“اسلامی نیٹو” کا تزویراتی فارمولا اور لوہے کی دیوار;..
اجلاس کی اندرونی دستاویزات کے مطابق، مکہ معاہدے کی سب سے اہم شق مشترکہ دفاعی ضمانت ہے۔
اجتماعی دفاع کا اصول:
نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 کی طرز پر، اس اتحاد کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح یا بیرونی جارحیت کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
علاقائی توازنِ قوت: یہ معاہدہ خلیج اور جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور طاقت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک ڈیٹرنس شیلڈ (Deterrence Shield) کا کام کرے گا، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم امہ کے دفاع کے لیے “لوہے کی دیوار” قرار دیا ہے۔
دفاعی صنعت (Defense Industry) اور مشترکہ پیداوار کا روڈ میپ ;.
اجلاس کا سب سے بڑا اور عملی بریک تھرو دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ تیاری پر ہوا ہے:تینوں ممالک کی مشترکہ طاقتیں: اس اسٹریٹجک پلان کے تحت سعودی عرب کی مالی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی جدید ترین ڈیپ ٹیک (بشمول ففتھ جنریشن جے ای ٹی اور ڈرون ٹیکنالوجی)، اور پاکستان کی تجربہ کار ترین افرادی عسکری قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ مینوفیکچرنگ:
جدید ترین عسکری سازوسامان، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، اور جدید ایئرفورس آلات کی مشترکہ پیداوار (Joint Production) کے لیے استنبول اور کامرہ میں مشترکہ پروڈکشن لائنز قائم کرنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
مشترکہ فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ ;.
مسلح افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف نے درج ذیل امور پر دستخط کیے:
مشترکہ مشقیں: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج ہر چھ ماہ بعد مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کریں گی تاکہ یکساں خطرات کے خلاف فرنٹ لائن کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر: دہشت گردی، سائبر خطرات اور سمندری سیکیورٹی کے حوالے سے معلومات کے فوری تبادلے کے لیے ایک مشترکہ انٹیلیجنس شیئرنگ نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔
سفارتی محاذ ;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اسٹریٹجک بھائی چارہ کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، بلکہ یہ خالصتاً مشترکہ خوش حالی، اقتصادی بقا اور مسلم ممالک کی سیکیورٹی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا:”پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری مشترکہ خوش حالی اور سیکیورٹی کی ضامن ہے۔ ‘مکہ معاہدے’ نے دونوں برادر ممالک کے اسٹریٹجک بھائی چارے کی تصدیق کی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور ترکیہ کو سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے جوڑتا ہے، اور ہمارے مشترکہ تحفظ اور دفاعی قوت کی راہ ہموار کرتا ہے۔”وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ سہ فریقی اتحاد کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ایک لوہے کی دیوار ثابت ہوگا اور مسلم امہ کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا استنبول میں ہونے والے اس افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے انتہائی بااثر اور اعلیٰ اختیاراتی وفد نے شرکت کی, پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عسکری امور میں پاکستان کی قیادت کی۔سیاسی و سفارتی قیادت: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ایوانِ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سیاسی اور تزویراتی محاذ پر پاکستان کی نمائندگی کی ,میزبان ملک ترکیہ اور اسٹریٹجک پارٹنر سعودی عرب کی جانب سے بھی چوٹی کی قیادت نے اجلاس میں حصہ لیا ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور سعودی عسکری چیفس بھی اس اہم ترین مشاورتی عمل کا حصہ بنے,اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی اشتراک پر تفصیلی گفتگو کی، بین الاقوامی سلامتی, خطے اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز ,’بین الاقوامی سلامتی کے امور’ اجلاس کے ایجنڈے میں سرِفہرست رہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگراموں پر اتفاق کیا گیا تینوں ممالک نے یکساں خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی اور تزویراتی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا,اجلاس کا سب سے اہم فیصلہ دفاعی صنعت میں تعاون کو گہرا کرنا تھا۔ اس کے تحت جدید عسکری سازوسامان، ڈرون ٹیکنالوجی، اور دیگر دفاعی آلات کی مشترکہ پیداوار اور تیاری کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی,یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصورکیا جائے گا، اکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 27 اگست کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد امن کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ’ایک ارتقا پذیر سکیورٹی ڈھانچے کے طور پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کے حوالے سے اس کے عزم سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں اپنے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ ’تاہم، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔‘معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کیخلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، سعودی عرب، ترکیے اورپاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوفروغ دیا جائےگا۔پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف باہمی تعاون کو منظم کرنا ہے۔ معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع کے تصور کے حوالے سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، اگرچہ مکہ معاہدہ نیٹو کا متبادل نہیں ہے۔ یہ نیا دفاعی فریم ورک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایران سے متعلق تنازع نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں ممالک خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، تاہم تینوں کی اپنی اپنی علاقائی ترجیحات اور موجودہ دفاعی شراکت داریاں بھی ہیں۔ اسی لیے استنبول اجلاس کو اس بات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ تینوں ممالک نئے معاہدے کو کس حد تک عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کی نظریاتی بنیاد دو اصولوں پر استوار ہے: امن، استحکام اور خوشحال مستقبل کے لیے حالات سازگار بنانے کی خاطر ’اجتماعی تحفظ‘؛ اور جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف بچاؤ کے لیے ’اجتماعی ڈیٹرنس (جارحیت روکنے کی مشترکہ صلاحیت)‘۔ ان دو اصولوں پر عمل درآمد کے لیے، معاہدے کے تینوں فریقین نے آپس میں ’دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں‘ کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ معاہدہ کرنے والے ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے اور اس کا مقصد ان تینوں ممالک میں سے کسی کے خلاف جارحیت کی سازش کرنے والے کو باز رکھنا ہے۔ اس تناظر میں جارحیت کا مطلب مسلح طاقت کے استعمال کے ذریعے کسی ملک کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ کیا یہ خطے پر غلبہ حاصل کرنے کا کوئی نیا ذریعہ ہے؟ چونکہ یہ معاہدہ اجتماعی تحفظ پر مبنی ہے، اس لیے اس کی ساخت بالادستی قائم کرنے والی نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کسی ایک ملک کو مغربی ایشیا پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے۔ اس لحاظ سے، مکہ معاہدہ مغرب کے بالادستی اور غلبے کے تصور کی نفی کرتا ہے۔چار دہائیوں سے زائد عرصے سے، امریکہ اس خطے میں سب سے زیادہ غالب قوت رہا ہے۔ حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے بعد، سعودی عرب اور خلیج کی دیگر ریاستوں کو عسکری تحفظ فراہم کرنے کی امریکی صلاحیت اور ساکھ پر سوالات اٹھے ہیں۔ سعودی عرب کچھ عرصے سے متبادل انتظامات کی تلاش میں تھا۔ اس نے 2023 میں چین کی ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، ‘ابراہیمی معاہدے’ پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور 17 ستمبر 2025 کو پاکستان کے ساتھ ایک سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان سعودی عرب کے لیے ترجیحی انتخاب اس لیے بنا کیونکہ پاکستان نے مئی 2025 میں اپنے سے کہیں زیادہ بڑے اور مخالف پڑوسی، انڈیا کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ مکہ معاہدہ، ترکی کی شمولیت کے ساتھ پاک-سعودی معاہدے کا ہی ایک توسیعی ورژن ہے۔ ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسے ‘مکہ معاہدے’ سے کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ یہ امریکہ جیسے بیرونی عناصر کی بجائے خطے کے ممالک کے ذریعے علاقائی سلامتی کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ‘بوجھ بانٹنے’ کا عمل قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر صرف اسرائیل ہی پریشان ہے، جس نے غلبے اور بالادستی کی سیاست کی پیروی کی ہے اور غزہ، مغربی کنارے، شام کی گولان کی پہاڑیوں اور یہاں تک کہ جنوبی لبنان تک اپنے علاقے کو وسعت دینے کے عزائم بھی رکھتا ہے۔ مکہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اب اس خطے کا مستقبل کا بالادست طاقتور ملک نہیں بن سکتا۔ چونکہ یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کے تصور پر مبنی ہے، اس لیے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے مناسب وقت پر اس سہ فریقی معاہدے میں شامل ہونا سودمند ثابت ہوگا۔جہاں تک مکہ معاہدے کے دوسرے ستون، یعنی ’اجتماعی ڈیٹرنس‘ کا تعلق ہے، تو اس کا تصور بھی حالیہ تاریخ سے اخذ کیا گیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران، ماہرینِ فکر کو بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری کشیدگی میں اضافے پر تشویش لاحق تھی؛ چنانچہ انہوں نے اجتماعی دفاعی توازن کا تصور پیش کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل، جارح ریاست کو جوابی کارروائی کے نتیجے میں اٹھنے والے بھاری نقصانات کو مدنظر رکھنا چاہیے، جو اس جارحیت سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔مکہ معاہدے کا اجتماعی ڈیٹرنس کا اصول کسی بھی ممکنہ جارح کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اس کی جارحیت کے نتیجے میں اسے ناقابلِ قبول جوابی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ موجودہ عالمی نظام انتشار کا شکار ہو رہا ہے، اس لیے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کے مطابق اجتماعی سلامتی اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ مغربی ایشیا میں بالآخر جو کچھ بھی رونما ہوگا، وہی مستقبل کے عالمی نظام کی ہیئت کا تعین بھی کرے گا۔
مکہ معاہدہ نیٹو سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ کوئی باضابطہ عسکری اتحاد نہیں اور نہ ہی یہ جارحانہ نوعیت کا معاہدہ ہے۔ یہ کوئی ’مسلم بلاک‘ بھی نہیں کیونکہ اس میں صرف خطے کے ممالک ہی شامل ہیں۔““