LOADING

Type to search

پاکستان

اٹک (سہ پہر) ضلع اٹک یومِ شہدائے پولیس اور ہماری قومی ذمہ داری

اٹک (سہ پہر) ضلع اٹک میں یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریبات محض ایک رسمی سرکاری سرگرمی نہیں تھیں بلکہ انہوں نے ایک ایسے موضوع کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جس کا تعلق ریاست، معاشرے اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری سے ہے۔ یادگارِ شہداء پر حاضری، پولیس کے چاق و چوبند دستے کی سلامی، شہداء کے اہلِ خانہ کے اعزاز میں تقریب، قرآن خوانی اور شجرکاری کی سرگرمیاں دراصل اس احساسِ تشکر کا اظہار تھیں جو ایک مہذب معاشرہ اپنے ان محافظوں کے لیے رکھتا ہے جنہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا، ان میں دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشدد، منظم جرائم اور سماجی بے یقینی نمایاں رہے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے میں پولیس فورس نے ایک بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اگرچہ قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر اکثر عسکری تناظر میں کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کا سب سے طویل اور مشکل مرحلہ پولیس فورس نے شہروں، قصبوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر گزارا۔ یہی وہ محاذ تھا جہاں خطرہ براہِ راست موجود تھا اور جہاں پولیس اہلکار ہر روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض انجام دیتے رہے۔

اٹک پولیس کے چوبیس شہداء اسی جدوجہد کی علامت ہیں۔ یہ وہ افسران اور جوان تھے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں محض ایک ضلع یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح پر ان تمام کوششوں کا حصہ ہیں جن کی بدولت پاکستان آج نسبتاً زیادہ محفوظ اور مستحکم ہے۔ کسی بھی شہید کا نام صرف ایک فرد کی شناخت نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک خاندان کی قربانی، ایک ادارے کے عزم اور ایک قوم کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔

یومِ شہدائے پولیس کی تقریبات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ امن و امان کسی معاشرے کو مفت حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے پسِ پشت طویل جدوجہد، مسلسل نگرانی، پیشہ ورانہ مہارت اور بے شمار قربانیاں موجود ہوتی ہیں۔ جب ایک پولیس اہلکار کسی خطرناک کارروائی میں حصہ لیتا ہے، کسی دہشت گرد گروہ کا سامنا کرتا ہے، کسی جلوس یا مذہبی اجتماع کی سکیورٹی سنبھالتا ہے یا کسی مجرم کی گرفتاری کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے تو وہ دراصل ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔

اس تناظر میں اٹک میں منعقد ہونے والی تقریبات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سردار موارہن خان کی قیادت میں شہداء کے اہلِ خانہ کو خصوصی طور پر تقریب کا حصہ بنانا ایک مثبت اور قابلِ قدر اقدام ہے۔ دنیا بھر میں وہی ادارے مضبوط سمجھے جاتے ہیں جو اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کے ساتھ تعلق کو محض رسمی نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ شہداء کے لواحقین کو یہ احساس دلانا کہ قوم اور ادارہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں، دراصل قربانی کے اس تسلسل کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے جو کسی بھی فورس کے مورال کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر صرف رسمی تقاریب پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ قرآن خوانی اور شجرکاری جیسی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ دونوں اقدامات اپنی علامتی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن خوانی روحانی وابستگی اور شہداء کے لیے دعا کا اظہار ہے جبکہ شجرکاری مستقبل کے ساتھ تعلق اور زندگی کے تسلسل کی علامت ہے۔ ایسی سرگرمیاں نئی نسل کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ قومی خدمت اور قربانی محض الفاظ نہیں بلکہ زندہ اقدار ہیں جنہیں عملی طور پر اپنانا ضروری ہے۔

تاہم یومِ شہدائے پولیس کا اصل تقاضا تقریبات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا ہے۔ پولیس فورس کو درپیش چیلنجز وقت کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ روایتی جرائم کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم، منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورکس، مالیاتی جرائم اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی جرائم پیشہ سرگرمیاں نئے نوعیت کے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں پولیس فورس کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، تحقیقاتی صلاحیت

X