اسلام آباد (سہ پہر) آئی جی سید علی ناصر رضوی کا تفتیشی نظام اور مقدمات کی مو¿ثر پیروی کے عمل کا جائزہ۔
اسلام آباد (سہ پہر) آئی جی سید علی ناصر رضوی کا تفتیشی نظام اور مقدمات کی مو¿ثر پیروی کے عمل کا جائزہ۔آئی جی اسلام آباد نے تمام افسران کو مقدمات کی میرٹ پر تفتیش، شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو ہر سطح پر یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے۔ تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی کمپلینٹس اور لیگل ٹیم کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں تفتیشی نظام،قانونی امور، شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے، مقدمات کی موثر پیروی، زیرِ التواءمقدمات کی پیش رفت، انصاف کی شفاف فراہمی اور مجموعی پولیسنگ کے معیار کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد نے ہدایت کی کہ تمام مقدمات کی تفتیش میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق مکمل کی جائے، شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے، زیرِ التواءمقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور پراسیکیوشن کے ساتھ مو¿ثر رابطہ برقرار رکھتے ہوئے مقدمات کی مضبوط پیروی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔بعد ازاں آئی جی اسلام آباد نے ڈی جی سیف سٹی محمد ہارون جوئیہ اور SWAT فورس کے میجر اعجاز کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں جدید سرویلنس سسٹم، انٹیلی جنس بیسڈ پولیسنگ، کمانڈ اینڈ کنٹرول میکانزم، فوری رسپانس اور SWAT فورس کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے جرائم کی بروقت روک تھام، مختلف یونٹس کے درمیان مو¿ثر رابطہ، رسپانس ٹائم میں مزید بہتری اور SWAT فورس کی ہر وقت مکمل آپریشنل تیاری کو یقینی بنایا جائے۔اسی سلسلے میں آئی جی اسلام آباد نے ایس پی ہیڈکوارٹرز پری گل ترین کے ساتھ بھی اجلاس کیا، جس میں انتظامی امور، پولیس افسران و جوانوں کی فلاح و بہبود، وسائل کے مو¿ثر استعمال اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فلاحی اقدامات، انتظامی امور اور عوام دوست پولیسنگ کو مزید مو¿ثر بنایا جائے، وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے اور پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور جوابدہی کو ہر سطح پر فروغ دیا جائے۔




