اسلام آباد (سہ پہر) میں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ سرکاری دفاتر، سیاسی راہداریوں، بیوروکریسی کے ایوانوں اور اقتدار کے ان کمروں کے آس پاس گزارا ہے جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔
اسلام آباد (سہ پہر) میں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ سرکاری دفاتر، سیاسی راہداریوں، بیوروکریسی کے ایوانوں اور اقتدار کے ان کمروں کے آس پاس گزارا ہے جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔ صحافت انسان کو ایک عجیب صلاحیت عطا کرتی ہے؛ وہ چہروں کے پیچھے چھپی ہوئی ذہنیت کو پہچاننا سیکھ جاتا ہے۔ ایک صحافی کے لیے الفاظ سے زیادہ لہجے اہم ہوتے ہیں، وعدوں سے زیادہ رویے اور عہدوں سے زیادہ کردار۔
شاید اسی لیے جب چند روز قبل تحصیل خان پور کے گاؤں کینٹھلا میں واقع اپنی فیملی کی زمین کی حد بندی کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر جنید خالد سے رابطہ ہوا تو میرے ذہن میں محض ایک انتظامی افسر کی تصویر نہیں بنی، بلکہ مجھے ریاست کے مستقبل کی ایک جھلک دکھائی دی۔
یہ کوئی بڑا کام نہیں تھا۔
نہ اربوں روپے کا منصوبہ، نہ کسی وزیر کا فون، نہ کسی طاقتور شخصیت کی سفارش۔ ایک عام شہری کا ایک عام سا مسئلہ تھا۔ پاکستان کے لاکھوں شہری روزانہ ایسے معاملات میں دفاتر کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ لیکن قوموں کی عظمت بڑے منصوبوں سے نہیں، انہی چھوٹے معاملات کے حل سے ناپی جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور یورپ کے درمیان اصل فرق پیدا ہوتا ہے۔
ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ یورپ کی ترقی کا راز اس کی بلند عمارتیں، تیز رفتار ٹرینیں، مضبوط معیشت یا جدید ٹیکنالوجی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یورپ کی اصل طاقت اس کی بیوروکریسی ہے۔ وہاں ریاست کا سب سے چھوٹا نمائندہ بھی خود کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ خادم سمجھتا ہے۔
برسلز، ایمسٹرڈیم، کوپن ہیگن، اسٹاک ہوم اور برلن میں بیٹھا ایک سرکاری افسر جانتا ہے کہ دفتر کی میز اس کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ وہاں شہری دفتر میں داخل ہوتے وقت خوف محسوس نہیں کرتا۔ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ ریاست اس کی بات سنے گی۔
اور سچ پوچھیں تو ریاست کی اصل تعریف بھی یہی ہے۔
جب میرا رابطہ جنید خالد سے ہوا تو مجھے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ شاید پاکستانی بیوروکریسی کے اندر بھی ایک خاموش تبدیلی جنم لے رہی ہے۔
ان کے الفاظ میں اختیار کی نمائش نہیں تھی۔
ان کے لہجے میں سرکاری غرور نہیں تھا۔
ان کے رویے میں وہ فاصلہ نہیں تھا جو اکثر سرکاری عہدے پیدا کر دیتے ہیں۔
بلکہ ان کے اندر ایک ایسی شائستگی تھی جو انسان کو فوراً یہ احساس دلاتی ہے کہ سامنے بیٹھا شخص عہدے سے پہلے ایک مہذب انسان ہے۔
اور مہذب انسان ہی اچھی ریاستوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔
میں نے پاکستان میں ایسے افسر بھی دیکھے ہیں جن کے دروازے عوام پر بند رہتے ہیں لیکن طاقتور لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ میں نے ایسے افسر بھی دیکھے ہیں جو ایک دستخط کو احسان بنا دیتے ہیں اور ایک قانونی حق کو مہینوں کی منت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
مگر تاریخ ہمیشہ ایسے لوگوں کو یاد نہیں رکھتی۔
تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے عہدوں کو طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب میں جنید صاحب کے رویے پر غور کرتا ہوں تو مجھے وہ برطانوی سول سروس کے ان افسران کی یاد دلاتے ہیں جنہیں دنیا “پبلک سرونٹ” کہتی ہے۔ غور کیجیے، انگریزی زبان نے سرکاری افسر کے لیے “حاکم” کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اسے “عوام کا خادم” کہا۔
یہ فلسفہ یورپ کی صدیوں پر محیط فکری اور انتظامی ترقی کا نچوڑ ہے۔
پاکستان میں بھی جب کوئی افسر اس فلسفے کو اپنا لیتا ہے تو وہ محض ایک سرکاری ملازم نہیں رہتا بلکہ ریاست کے وقار کا نمائندہ بن جاتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم جنید صاحب نے کن درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی، کن اساتذہ سے تربیت پائی اور کن بزرگوں کی صحبت میں بیٹھے، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ ان کے کردار کی بنیادیں مضبوط ہیں۔
کیونکہ کردار کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
یہ فائلوں سے نہیں بنتا۔
یہ نوٹیفکیشنوں سے نہیں بنتا۔
یہ پروٹوکول سے نہیں بنتا۔
یہ گھروں میں بنتا ہے، ماؤں کی دعاؤں میں بنتا ہے، اساتذہ کی تربیت میں بنتا ہے اور ان اقدار سے بنتا ہے جو انسان کو اختیار ملنے کے بعد بھی انسان رہنا سکھاتی ہیں۔
یورپ کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہاں ادارے شخصیت پر نہیں بلکہ اصولوں پر کھڑے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کو زندہ رکھنے والے بھی آخر انسان ہی ہوتے ہیں۔
ایک اچھا افسر پورے نظام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
ایک اچھا افسر سینکڑوں تقریروں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
ایک اچھا افسر ریاست کے بارے میں لوگوں کی رائے بدل سکتا ہے۔
کینٹھلا کی زمین کی حد بندی شاید چند دنوں میں ہو جائے گی۔ نقشے بن جائیں گے، پیمائش مکمل ہو جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔
مگر میرے لیے اصل واقعہ زمین کی حد بندی نہیں تھا۔
اصل واقعہ ایک رویے کی حد بندی تھا۔
ایک طرف وہ پرانی سرکاری سوچ کھڑی تھی جس میں شہری دفتر کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔
دوسری طرف ایک نئی سوچ تھی جس میں افسر شہری کو عزت دیتا ہے، اس کی بات سنتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ پاکستان کی امید سیاست کے شور میں نہیں، ایسے نوجوان افسروں میں پوشیدہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ جیسے سینئر بیوروکریٹس جب نئی نسل کے افسروں کی سرپرستی کرتے ہیں تو دراصل وہ صرف انتظامی ڈھانچہ نہیں چلاتے بلکہ ایک انتظامی ثقافت تشکیل دیتے ہیں۔ ایک ایسی ثقافت جس میں عوامی خدمت کو اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
آج اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ یورپ اور پاکستان کے درمیان اصل فاصلہ کیا ہے تو میرا جواب سڑکیں، پل، عمارتیں یا بجٹ نہیں ہوگا۔
اصل فاصلہ رویوں کا ہے۔
اور جب خان پور جیسے نسبتاً دور افتادہ علاقے میں ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر اپنے رویے سے اس فاصلے کو کم کرتا نظر آئے تو امید پیدا ہوتی ہے۔
کیونکہ قومیں ایک دن میں ترقی نہیں کرتیں۔
وہ ایک ایک افسر، ایک ایک استاد، ایک ایک جج اور ایک ایک شہری کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔
میرا کام واقعی بڑا نہیں تھا۔
لیکن جنید صاحب کا ردِعمل بڑا تھا۔
اتنا بڑا کہ اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر پاکستان کی بیوروکریسی میں ایسے رویے عام ہو جائیں تو شاید ہمیں یورپ تک پہنچنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر طے کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
کیونکہ پھر یورپ ہمارے شہروں میں نہیں، ہمارے کردار میں آباد ہوگا۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ عظیم ریاستیں پہلے کردار میں بنتی ہیں، نقشوں میں بعد میں۔