اسلام آباد (سہ پہر) اے ٹی سی کی خصوصی عدالت نے مہرنگ بلوچ اور ایک ساتھی کارکن کو 2024 میں گوادر میں احتجاج کے دوران فرنٹیئر کور کے اہلکار کو شہید کرنے والے ہجوم کو اکسانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی
اسلام آباد (سہ پہر) اے ٹی سی کی خصوصی عدالت نے مہرنگ بلوچ اور ایک ساتھی کارکن کو 2024 میں گوادر میں احتجاج کے دوران فرنٹیئر کور کے اہلکار کو شہید کرنے والے ہجوم کو اکسانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی’ بلوچ، کو 22 مارچ 2025 کو بلوچستان کی صوبائی حکومت نے ایک احتجاج کی قیادت کرنے کے بعد دہشت گردی، بغاوت اور قتل کے الزام میں انتظامی حراست میں رکھا تھا’ اے ٹی سی کے خصوصی جج محمد علی مبین کی طرف سے فیصلے میں مہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (b)، 147 اور 148 کے تحت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی غیر قانونی اسمبلی میں شرکت کرنے اور ہجوم کو اکسانے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا جس نے فرنٹیئر کور کے سپاہی شبیر احمد شہید کیا تھا ‘ مہرنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں کوئٹہ پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کئی دیگر اراکین کے ساتھ اس وقت حراست میں لیا جب وہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھرنے کی قیادت کر رہی تھی