اسلام آباد (سہ پہر) امریکہ , ایران; اسلام آباد اکارڈ”کے بنیادی فریم ورک پر کام شروع
اسلام آباد (سہ پہر) امریکہ اور ایران نے پاکستان کی مسلسل ثالثی کے بعد تاریخی “اسلام آباد اکارڈ” (اسلام آباد اکارڈ) کے بنیادی فریم ورک پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی کوششوں سے سفارتی چینل مکمل ٹوٹنے سے بچ گیا ہے ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے اور جنگ بندی کے مسودے پر جاری اختلافات کو دور کرنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا اہم سفارتی کردار ادا کرنے میں تیزی پیدا کرلی ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، اگر بیک چینل مذاکرات میں یہ ڈیڈ لاک حل ہو گیا، تو حج کے فوراً بعد اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود اس اکارڈ کو حتمی شکل دینے کے لیے میز پر بیٹھیں گے
عرب میڈیا الحدت اور العربیہ کی رپورٹس کے مطابق، دونوں حریف ممالک نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اس مجوزہ امن معاہدے کے ابتدائی مسودے پر پیش رفت کی منظوری دی ہے، جس کا اگلا دورِ مذاکرات حج کے فوراً بعد اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔اس مجوزہ “اسلام آباد اکارڈ” کے بنیادی فریم ورک کی اندرونی تفصیلات اور شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ تین مرحلہ وار (Three-Phase);
جنگ بندی کا فارمولامعاہدے کے فریم ورک کو تین بنیادی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ فریقین کا اعتماد بحال ہو سکے:
پہلا مرحلہ (جنگ کا باضابطہ خاتمہ):
ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان تمام محاذوں پر عسکری کارروائیوں کو مستقل طور پر روک دیا جائے گا۔
دوسرا مرحلہ (پابندیوں میں نرمی اور اثاثوں کی واپسی):
امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور منجمد اثاثوں کا ایک مخصوص حصہ (تقریباً 25 سے 50 فیصد) بحال کرے گا۔تیسرا مرحلہ (جوہری پروگرام کی نگرانی):
ایران اپنے نیوکلیئر پلانٹس پر بین الاقوامی معائنہ کاروں (IAEA) کو محدود رسائی دینے پر غور کرے گا۔
2۔ ایران کا لچکدار موقف اور پیش رفت;
مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران نے اپنی پچھلی سخت شرائط میں نمایاں نرمی دکھائی ہے:
ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اب اس بات پر راضی ہیں کہ امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ مشروط ہو، نہ کہ مذاکرات شروع کرنے کی پہلے سے طے شدہ شرط۔ایران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو جو 14 نکاتی ترمیم شدہ مسودہ بھیجا تھا، اسے اس فریم ورک کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
3۔ فریم ورک کو درپیش سب سے بڑا ڈیڈ لاک;
بنیادی فریم ورک پر کام شروع ہونے کے باوجود، ایک انتہائی حساس نکتے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید تنازع برقرار ہے:
یورینیم کی ملک سے باہر منتقلی:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران اپنا 60 فیصد تک افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا انکار:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دوٹوک ہدایت جاری کی ہے کہ یہ یورینیم کسی صورت ایران سے باہر نہیں جائے گا، کیونکہ یہ ایران کی بقا اور دفاع کا ضامن ہے۔
4۔ پاکستان اور عالمی قوتوں کا کردار;
پاکستانی عسکری قیادت کی ضمانت: پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اس فریم ورک کے سب سے بڑے ضامن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ دونوں اطراف کو اس بات پر قائل کر رہے ہیں کہ جزوی معاہدہ (MOU) اس وقت خطے کی معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
تیل کی قیمتوں کا دباؤ:
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر بھی اندرونی دباؤ ہے کہ وہ اس اکارڈ کو حتمی شکل دیں تاکہ نومبر کے امریکی مڈٹرم الیکشن سے پہلے معاشی ریلیف مل سکے۔”اسلام آباد اکارڈ” (Islamabad Accord) کے مجوزہ فریم ورک، پسِ پردہ شرائط اندرونی تفصیلات درج ذیل ہیں ۔ اس معاہدے کو مرحلہ وار شکل دی جا رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر اعتماد قائم ہو سکے :فیز 1 امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے بند کریں گے ایران اپنے علاقائی نیٹ ورکس کو کارروائیاں روکنے کا پابند کرے گا فیز 2 امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے اپنی بحری ناکہ بندی ہٹائے گا ۔ ایران کے منجمد مالیاتی فنڈز کا ایک حص فوری بحال کیا جائے گا فیز 3 ایران اپنے جوہری پلانٹس پر بین الاقوامی معائنہ کاروں کی نگرانی قبول کرے گا عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے اس اہم ترین بحری راستے پر درج ذیل فارمولے پر غور ہو رہا ہے: مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مشترکہ ٹول ٹیکس لگانے کی بات کی گئی تھی، جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ ایران اس راستے پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا، تاہم وہ تمام بین الاقوامی تجارتی اور تیل کے جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ راستہ دینے کی تحریری ضمانت دے گا۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران اس معاہدے کو صرف وقت حاصل کرنے اور اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کو واضح کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں (برینٹ کروڈ 107 ڈالر) کم کرنے کے لیے یہ معاہدہ امریکہ کی معاشی ضرورت ہے، اس لیے اسرائیل کو اس فریم ورک کا ساتھ دینا ہوگا۔4۔ سب سے بڑی رکاوٹ: یورینیم کا ذخیرہتمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود یہ معاہدہ اس وقت ایک بڑے تعطل (Deadlock) کا شکار ہے صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران اپنا 60 فیصد تک افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دوٹوک حکم دیا ہے کہ یورینیم کا ذخیرہ ایران ہی میں رہے گا، کیونکہ یہ ان کے قومی دفاع کی آخری لائن ہے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی کوششوں سے سفارتی چینل مکمل ٹوٹنے سے بچ گیا عرب میڈیا کے مطابق، اگر بیک چینل مذاکرات میں یہ ڈیڈ لاک حل ہو گیا، تو حج کے فوراً بعد اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود اس اکارڈ کو حتمی شکل دینے کے لیے میز پر بیٹھیں گےامریکا ایران مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور خطے میں استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان تہران میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی موجودہ صورت حال اور امریکا ایران مذاکرات کی پیشرفت پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے علاقائی تعاون اور استحکام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی بات چیت اور افہام و تفہیم کے عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور خطے میں سفارتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے اعلیٰ کمانڈر احمد وحیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی امن و امان کی صورت حال پر گفتگو ہوئی جب کہ پاک ایران تعلقات اور علاقائی سیکیورٹی امور پر اہم ملاقات، مختلف معاملات زیرِ بحث آئے۔
یاد رہے کہ پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق یہ محسن نقوی کا ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ایران کا دوسرا دورہ ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی اور امریکا ایران رابطوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران نے امریکا کی تازہ تجویز کے جواب میں 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جب کہ پاکستان اس عمل میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل اپنے حالیہ دورۂ تہران میں محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سے طویل ملاقات کی تھی، جو تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیرِ داخلہ نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کی کوششیں کرتا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کا بار بار تہران جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بیک ڈور ڈپلومیسی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور پاکستان خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔ اسلام آباد اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی آمد و رفت اور رابطوں کو بحال رکھنے کے لیے ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اس حالیہ ملاقات کی تفصیلی معلومات ابھی تک باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئی ہیں، تاہم وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اسی ہفتے کے اوائل میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے بھی تفصیلی مشاورت کی ہے جس سے اس دورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سفارتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کے دستاویز کے الفاظ اور شرائط پر پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کے چودہ نکات پر مشتمل اصل متن کی بنیاد پر اب تک کئی مواقع پر دونوں اطراف سے پیغامات کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید واضح کیا کہ ہمیں اس سلسلے میں اب امریکی جانب سے ان کے نقطہِ نظر اور آراء موصول ہو چکی ہیں اور ہم اس وقت ان کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
ایک طرف جہاں یہ پردہِ سیمیں کے پیچھے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری طرف ایران نے امریکا کی ممکنہ عسکری کارروائیوں کے جواب میں اپنی جنگی تیاریوں کا بھی کھل کر اظہار کیا ہے۔
ایران کے ایک عسکری ذریعے نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تہران کے پاس ایسے جدید ترین ہتھیار موجود ہیں جنہیں ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے۔
امریکا کے ممکنہ حملوں کا جواب دینے کے لیے ایران کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس فوجی اہلکار نے نیوز ایجنسی ’ریا نووستی‘ کو بتایا کہ ہم نے داخلی سطح پر ایسے جدید ہتھیار تیار کر لیے ہیں جنہیں ابھی تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا۔
روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ایرانی فوجی عہدیدار نے تہران کے پختہ عزم کو دہراتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ہم فوجی ساز و سامان اور دفاعی صلاحیتوں کی بات کریں تو ہمارے پاس کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے جو ہمیں اپنے ملک کا دفاع کرنے سے روک سکے۔
انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ہمارا کسی بھی قسم کے صبر یا تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی کوششوں سے سفارتی چینل مکمل ٹوٹنے سے بچ گیا ہے اگر بیک چینل مذاکرات میں یہ ڈیڈ لاک حل ہو گیا، تو دونوں ممالک کے وفود اس اکارڈ کو حتمی شکل دینے کے لیے میز پر بیٹھیں گے
“اسلام آباد اکارڈ” کی کامیابی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام پاکستانی معیشت کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت جس شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے،
اس تناظر میں اس معاہدے کے نتیجے میں ملک کو حاصل ہونے والے بڑے معاشی فوائد درج ذیل ہیں:1۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمیسستا پٹرول اور ڈیزل: ایران امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
اس اکارڈ سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، جس سے تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور پاکستان کا امپورٹ بل (زرِ مبادلہ کے اخراجات) اربوں ڈالر کم ہو جائے گا۔
مہنگائی میں کمی:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے سے مال برداری کے اخراجات کم ہوں گے، جس کا براہِ راست فائدہ عام صارف کو سستی اشیاء کی صورت میں ملے گا۔
2۔ پاک-ایران تجارتی راستوں کی بحالی اور گیس پائپ لائنسیلٹرڈ بارڈر ٹریڈ: جنگ کے خاتمے سے پاک ایران بارڈر مارکیٹس دوبارہ فعال ہو جائیں گی، جس سے چاول، پھل اور ٹیکسٹائل کی ایرانی مارکیٹ تک قانونی رسائی ممکن ہوگی۔
پاک-ایران گیس پائپ لائن (IP Project): امریکی پابندیوں کے خوف سے معطل یہ اہم ترین منصوبہ اس اکارڈ کے تحت امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کو سستی توانائی ملے گی۔
3۔ پاکستان کی جیوسٹریٹجک اہمیت اور بیرونی سرمایہ کاری;سرمایہ کاروں کا اعتماد: پاکستان کا ایک کامیاب عالمی ثالث (Global Mediator) کے طور پر ابھرنا ملک میں سیاسی اور سٹریٹجک استحکام کی علامت بنے گا، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں (FDI) کا اعتماد بحال ہوگا۔سعودی عرب اور یو اے ای سے فنڈز: پاکستان کی اس کامیاب ڈپلومیسی کے بدلے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری (SIFC کے ذریعے) اور مالیاتی پیکجز ملنے کی راہیں ہموار ہوں گی۔4۔ سی پیک (CPEC) اور علاقائی روابط (Connectivity)گوادر پورٹ کا فعال ہونا: خلیجِ فارس میں امن برقرار رہنے سے گوادر بندرگاہ کی اہمیت دوچند ہو جائے گی، اور وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کے راستے عالمی تجارت کے لیے مزید متحرک ہوں گی۔پاکستان عالمی سیاست میں پہلے ہی ایک مقام رکھتا تھا اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث اسے خطے کی عالمی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا حالیہ ایران۔ امریکہ و اسرائیل جنگ میں اسے سفارتی سطح پر بھی بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ پاکستان تیسری عالمی جنگ رکوانے کا مرکزی کردار بن گیا ہے۔ آج اسے عالمی طاقتوں کی نہ صرف مکمل پشت پناہی حاصل ہوگئی ہے بلکہ پاکستان کے ثالثی کردار کو عرب و عجم نے ہی نہیں بلکہ شرق و غرب نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔”اسلام آباد اکارڈ” کے مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے کنٹرول اور انتظام کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے، اور یہ نکتہ مذاکرات میں شدید ترین تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے [aljazeera.com]۔ امریکہ اور ایران دونوں اس تزویراتی (Strategic) بحری راستے پر اپنے اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے باعث سخت ترین موقف پر اڑے ہوئے ہیںایران اور امریکا کو جنگ ختم کرنے کا جامع منصوبہ موصول ہو گیا ہے جس پر دونوں ممالک اب غور کر رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے، پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔ اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔ ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے،
قبل ازیں امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔ قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کی تصدیق یا تردید نہیں کررہے، ہمارا مؤقف ہے کہ امن کا عمل جاری ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں تاہم انہوں نے اس معاملے پر حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہونے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام (ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں) آج تہران کا دورہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ پاکستانی حکام کے اس دورے سے یہ عمل مزید آگے بڑھے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ دیکھتے ہیں ایران سے معاہدہ ہو پاتا ہے یا نہیں، اتحادی متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، ایران معاملے پر ہم نیٹو اتحادیوں سے بہت ناراض ہیں، اسپین کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے جیسے اقدامات نیٹو اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کا یورپ کے لیے فائدہ تو واضح ہے لیکن امریکا کے لیے اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اسے خطے میں ایسے اڈے حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ مشرق وسطیٰ یا دیگر خطوں میں کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اپنی عسکری طاقت کا اظہار کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایک اچھا اور جامع معاہدہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی ترجیح ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے، اگر ہم ایک بہتر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔
ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اگر کوئی اچھا معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکا خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی اچھے نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے تو صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ میں ان آپشنز کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ آپشنز کیا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورت حال میں کچھ اچھے آثار ضرور نظر آ رہے ہیں لیکن وہ فی الحال حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اگلے چند دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس سسٹم کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اگر ایران بحری جہازوں کی آمدورفت پر کنٹرول برقرار رکھنے یا فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات کی صورت میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو عملی طور پر ناممکن سمجھا جائے گا۔ روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی تجارتی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کی جانب سے پابندیاں یا مالی شرائط عالمی توانائی اور تجارتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر اپنی پالیسی اور مؤقف واضح طور پر برقرار رکھے گا۔ایران نے اپنی تازہ ترین ترمیم شدہ تجویز میں واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی سمندری حدود کا حصہ ہے اور اس کے انتظام، سیکیورٹی اور کنٹرول پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ایران نے شرط رکھی ہے کہ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کے اطراف قائم امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ تجارتی جہاز رانی معمول پر آ سکے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ یہ آبنائے ایک بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ ہے، جسے کسی ایک ملک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔مشترکہ ٹول ٹیکس کا فارمولا: اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک متبادل تجویز سامنے آئی تھی جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایک مشترکہ “ٹول ٹیکس” (محسول) عائد کیا جائے اور اس کی نگرانی ایک مشترکہ بین الاقوامی کمیٹی کرے۔ تاہم، ایران نے اس تجویز کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔