LOADING

Type to search

پاکستان

لاہور (سہ پہر) پاکستان کا صحت کا نظام اے آئی منصوبوں کو قومی سطح پر نافذ کرنے میں ناکام

لاہور (سہ پہر): پاکستان میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پہلی قومی کانفرنس لمز میں نیشنل اے آئی ہب کے تحت منعقد ہوئی، جس میں طبی ماہرین، محققین، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں اے آئی پر مبنی صحت کے منصوبے منتشر ہیں اور ایک مربوط قومی نظام کے بغیر ان کا وسیع پیمانے پر نفاذ ممکن نہیں۔

افتتاحی خطاب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈائریکٹر نیشنل اے آئی ہب، لمز ڈاکٹر مریم مصطفیٰ نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سرگرمیاں موجود ہیں لیکن یہ مختلف اداروں میں بکھری ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق اسپتال، جامعات، اسٹارٹ اپس اور سرکاری ادارے الگ الگ کام کر رہے ہیں جس کے باعث نہ صرف کام دہرایا جا رہا ہے بلکہ کامیاب منصوبے بھی قومی سطح پر نہیں پھیل پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ “اہم پیش رفت ایک دوسرے تک منتقل نہیں ہو رہی”۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اے آئی ٹولز، ڈیٹا اور صحت کے منصوبوں کا کوئی مشترکہ قومی نقشہ موجود نہیں، جس کے بغیر ہم آہنگی اور بڑے پیمانے پر نفاذ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ انفرادی منصوبوں سے نکل کر ایک مربوط قومی نظام تشکیل دیا جائے۔

لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کو درپیش ایک بڑے نظامی تبدیلی کے مسئلے پر مختلف فریقوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زچہ و بچہ اور نومولود بچوں کی اموات اب بھی بلند ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں آبادی میں تیزی سے اضافہ، صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ اور وسائل کی کمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور جدت اس چیلنج سے نمٹنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، تاہم صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ ان کے مطابق اصل تبدیلی کے لیے تین عناصر ضروری ہیں: جدت، عوام اور نظام کے رویوں میں تبدیلی، اور گورننس و مراعات میں بنیادی اصلاحات۔

ڈاکٹر علی چیمہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو ایک مکمل حل کے طور پر دیکھنا درست نہیں، کیونکہ اس میں غلط نتائج، تعصب اور محدودیت جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مضبوط اخلاقی اور ادارہ جاتی نظام ضروری ہے۔

ڈاکٹر مریم مصطفیٰ کی زیر صدارت ہونے والے پینل مباحثے میں ڈاکٹر نعیم مجید, محترمہ اسما (مرہم)، ڈاکٹر علی تراب (پی ایچ سی گلوبل) اور ڈاکٹر عامر عباس نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ ڈیجیٹل صحت اور مصنوعی ذہانت کے منصوبے ملک میں موجود ہیں لیکن زیادہ تر پائلٹ مرحلے میں ہی محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی، مشترکہ معیارات کا فقدان اور قومی سطح پر مربوط نظام کی عدم موجودگی ہے۔

منتظمین نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک قومی سمت متعین کرنے کی ابتدائی کوشش ہے، جس کا مقصد بکھرے ہوئے منصوبوں کو یکجا کر کے ایک مربوط نظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔

X