اسلام آباد (سہ پہر) معرکہ حق ; وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کا موثرکردار
اسلام آباد (سہ پہر) معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص)میں وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کا کردار موثر رہا, معرکہ حق میں سفارتی، بیانیہ سازی اور عسکری محاذ پر پاکستان کی کامیابی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
معرکہ حق کے حوالے سے وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کا کردار عسکری کارروائی کے متوازی “انفارمیشن وارفیئر” (بیانیے کی جنگ) کو سنبھالنا تھا، جس کا مقصد بھارتی پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزارتِ اطلاعات کے آفیشل بیانات کی روشنی میں اس حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. بھارتی پروپیگنڈے کی ناکامی ;
وزارتِ اطلاعات کے مطابق، مئی 2025ء کے تنازع کے دوران بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف جھوٹی خبروں (Fake News) کا ایک طوفان کھڑا کیا۔
وزارت نے اسے “منظم پروپیگنڈا” قرار دیا اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے حقائق پیش کیے تاکہ بھارت کا دہشت گردی کا بیانیہ بے اثر ہو سکے۔
2. جدید ڈیجیٹل حکمت عملی (Geo-Tagging);
وفاقی وزیر اطلاعات نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے روایتی طریقوں کے بجائے جدید ڈیجیٹل اسٹریٹجی اپنائی:جیو ٹیگنگ: پاکستانی ٹیموں نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے سوشل میڈیا صارفین تک براہِ راست رسائی حاصل کی۔
قومی نغمے اور ویڈیوز: بھارتی عوام کے موبائل فونز تک پاکستان کے قومی نغمے، مسلح افواج کے ترانے اور جے ایف-17 تھنڈر کی کارروائیوں کی ویڈیوز پہنچائی گئیں تاکہ بھارتی عوام اپنی حکومت کے دعوؤں کی حقیقت جان سکیں۔
3. پابندیوں کا جواب سچائی سےجب بھارت نے سچ کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر پابندی لگائی، تو وفاقی وزارتِ اطلاعات نے جوابی پابندی لگانے کے بجائے “اوپن میڈیا پالیسی” اپنائی۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کا موقف تھا کہ “دشمن سچ ہضم نہیں کر پا رہا، اس لیے ہم حقائق دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔”
4. عالمی میڈیا سے رابطہ;
وزارتِ اطلاعات نے غیر ملکی صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز (جیسے رائٹرز، بی بی سی اور الجزیرہ) کو بروقت معلومات اور شواہد فراہم کیے، جس کے نتیجے میں عالمی میڈیا نے بھارتی دعوؤں کے برعکس پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار اور فضائی برتری کی رپورٹس شائع کیں۔
5. سویلین اور عسکری قیادت کا اشتراک;
وزارتِ اطلاعات نے ڈی جی آئی ایس پی آر (DG, ISPR) کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دیا، جس نے ثابت کیا کہ قوم اور ادارے دشمن کے ہائبرڈ حملوں کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔وفاقی وزارتِ اطلاعات نے معرکہ حق کو صرف ایک عسکری فتح نہیں بلکہ “سچائی کی فتح” کے طور پر پیش کیا، جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک پرامن، مضبوط اور ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوایا۔ سچ کی جنگ (The Battle of Truth) ایک دستاویزی تصویری کتاب (Pictorial Book) ہے جسے وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے اشتراک سے مئی 2025ء کے پاک بھارت تنازع (معرکہِ حق) کے ایک سال مکمل ہونے پر شائع کیا ہے۔
اس کتاب اور اس کے پسِ منظر کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تقریبِ رونمائی: اس کتاب کی باقاعدہ تقریبِ رونمائی مئی 2026ء میں پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف تھے۔
بنیادی مقصد: یہ کتاب مئی 2025ء کے دوران پاکستان کی عسکری، سفارتی اور خاص طور پر بیانیے کے محاذ (Narrative Front) پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کی دستاویزی تاریخ ہے۔ اس میں تصویری شواہد کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان نے حقائق کی بنیاد پر عالمی سطح پر بھارتی پروپیگنڈے کو شکست دی۔
وزارتِ اطلاعات کا بیانیہ:
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، یہ کتاب محض ایک تصویری مجموعہ نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ “سچائی کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی”۔ انہوں نے اسے “سچائی کی فتح” قرار دیا کیونکہ پاکستان نے بھارت کے فالس فلیگ آپریشن (پہلگام واقعہ) کے خلاف شواہد پر مبنی بیانیہ پیش کیا۔
کتاب کے مندرجات:
یہ کتاب قیامِ پاکستان سے لے کر معرکہِ حق کے تمام اہم واقعات اور آپریشنز کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اس میں پاک فضائیہ کی جرات، بھارتی طیاروں کی تباہی، اور دشمن کے دفاعی نظام پر میزائل حملوں کے تاریخی لمحات کو تصاویر کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس کتاب کے تمام حقوق پاکستانی عوام کے نام کیے ہیں تاکہ مستقبل کی نسلیں اپنی قومی دفاعی تاریخ سے آگاہ رہ سکیں۔
یہ کتاب اس بات کی علامت ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سچائی اور ڈیجیٹل محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔
بیانیے کے محاذ (Narrative Front) سے مراد وہ ڈیجیٹل اور نفسیاتی جنگ ہے جو مئی 2025ء کے تنازع (معرکہِ حق) کے دوران روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ لڑی گئی۔
جدید جنگی حکمتِ عملی میں اسے “ففتھ جنریشن وارفیئر” کہا جاتا ہے، جہاں گولی سے زیادہ “معلومات” (Information) کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
معرکہِ حق کے دوران اس محاذ پر ہونے والی اہم کارروائیاں درج ذیل تھیں:
1. سچائی بمقابلہ پروپیگنڈا (Truth vs Propaganda)
بھارت کا بیانیہ: بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور اسے “دہشت گرد ریاست” ثابت کرنے کے لیے میڈیا ٹرائل شروع کیا۔
پاکستان کا جوابی بیانیہ: پاکستان نے دفاعی انداز اپنانے کے بجائے “جارحانہ سچائی” (Aggressive Truth) کی پالیسی اپنائی۔
وزارتِ اطلاعات اور آئی ایس پی آر نے ثبوتوں، جیو ٹیگنگ اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے بھارتی دعوؤں کو دنیا بھر کے سامنے جھوٹا ثابت کیا۔
2. ڈیجیٹل سرجیکل اسٹرائیک (Digital Surgical Strike)
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، پاکستان نے اس محاذ پر دشمن کو اس کے اپنے گھر میں شکست دی:
براہِ راست رسائی:
پاکستانی سائبر ٹیموں نے بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے فیڈز (Feeds) میں براہِ راست حقائق پر مبنی ویڈیوز اور پاک فضائیہ کی کامیابیوں کے مناظر پہنچائے۔
نفسیاتی اثر:
جب بھارتی عوام نے اپنی ہی سرحدوں کے اندر تباہ شدہ فوجی تنصیبات اور طیاروں کے ملبے کی ویڈیوز دیکھیں، تو بھارتی حکومت کا داخلی بیانیہ بکھر گیا اور عوام نے اپنی قیادت سے سوالات کرنا شروع کر دیے۔
3. عالمی میڈیا کا اعتماد;
پاکستان نے غیر ملکی صحافیوں کے لیے “اوپن ڈور پالیسی” اپنائی۔ انہیں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا گیا،
جس کے نتیجے میں بی بی سی، رائٹرز اور الجزیرہ جیسے اداروں نے بھارتی نقصانات اور پاکستان کی فضائی برتری کی غیر جانبدارانہ تصدیق کی، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔
4. نوجوان نسل (Gen Z) کا کردار;
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عام شہریوں اور نوجوان سوشل میڈیا صارفین نے ایک “ڈیجیٹل فوج” کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے ہیش ٹیگز (جیسے #MarkaeHaq اور #BattleOfTruth) کے ذریعے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کا موقف اجاگر کیا اور بھارتی “بوٹ نیٹ ورکس” (Bot Networks) کو ناکام بنایا۔
بیانیے کے محاذ پر پاکستان کی فتح نے یہ ثابت کر دیا کہ “سچ کی جنگ” (Battle of Truth) جیتنے کے لیے صرف ٹینکوں اور طیاروں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بروقت معلومات اور درست بیانیہ دشمن کے بڑے سے بڑے میڈیا نیٹ ورک کو مفلوج کر سکتا ہے۔ مئی 2025ء کے تنازع (معرکہِ حق) کے دوران سائبر کارروائیاں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز محض معاون نہیں بلکہ ایک مکمل جنگی محاذ کے طور پر ابھرے۔
مئی 2026ء کی تازہ ترین رپورٹس کی روشنی میں تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. سائبر کارروائیاں (Cyber Operations)
پاکستان نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ “سائبر وارفیئر” کا بھرپور استعمال کیا تاکہ دشمن کی جنگی مشینری کو مفلوج کیا جا سکے:
پاور گرڈ پر حملہ:
پاکستانی سائبر ماہرین نے ایک منظم حملے کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد الیکٹرک گرڈ کو غیر فعال (Dysfunctional) کر دیا، جس سے دشمن کی نقل و حمل اور مواصلات میں شدید خلل پڑا۔آپریشن سالار:
پاکستانی ہیکرز کے رضا کار گروپوں نے “آپریشن سالار” کے تحت بھارتی دفاعی ویب سائٹس اور اہم فوجی تنصیبات کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔
کمیونیکیشن ہبز کی بندش:
پاک فضائیہ کے سربراہ کے مطابق، عسکری سائبر حملوں کا ہدف بھارتی مواصلاتی مراکز (Communication Hubs) اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر تھا۔
جیو ٹیگنگ اور پیغامات:
پاکستانی ڈیجیٹل ٹیموں نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے عوام تک براہِ راست جے ایف-17 تھنڈر کی ویڈیوز اور قومی نغمے پہنچائے، جس سے دشمن کے اندرونی اعصاب پر دباؤ بڑھا۔
2. سوشل میڈیا ٹرینڈز اور بیانیے کی جنگ ;
سوشل میڈیا پر پاکستان نے “حقائق پر مبنی بیانیہ” پیش کر کے بھارتی ڈس انفارمیشن کو شکست دی:
کلیدی ہیش ٹیگز: ٹویٹر (X) اور فیس بک پر #MarkaeHaq، #BattleOfTruth اور #OperationBunyanUnMarsoos جیسے ٹرینڈز دنیا بھر میں سرفہرست رہے،
جنہوں نے پاکستان کے دفاعی موقف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔بھارتی فیک نیوز کا پردہ چاک:
بھارتی میڈیا نے جب “لاہور اور ملتان کی بندرگاہوں” (Ports) کی تباہی جیسی مضحکہ خیز خبریں پھیلائیں، تو پاکستانی صارفین اور وزارتِ اطلاعات نے ان کا مذاق اڑا کر بھارتی بیانیے کی ساکھ عالمی سطح پر ختم کر دی۔
ملبے کے شواہد:
پاک فضائیہ کے گرائے گئے بھارتی طیاروں (بشمول رافیل اور سخوئی) کے ملبے کی ویڈیوز اور تصاویر نے سوشل میڈیا پر بھارت کے “آل از ویل” (All is well) کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کیا۔
میمز (Memes) کا استعمال:
محققین کے مطابق، پاکستان نے میمز اور مختصر ویڈیوز کو بطور “نرم ہتھیار” استعمال کر کے عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کیا اور بھارتی پروپیگنڈے کو غیر مؤثر بنایا,
3. سچ کی جیت (The Battle of Truth)
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، بھارت نے سچ کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگائی، لیکن پاکستان نے “اوپن میڈیا پالیسی” اپنا کر عالمی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا، جس سے ثابت ہوا کہ سچائی پاکستان کے ساتھ ہے۔
اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معرکہِ حق نے ثابت کر دیا کہ اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ سرورز اور اسمارٹ فونز سے بھی لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔
مئی 2025ء کے تنازع (معرکہِ حق) کے دوران عالمی میڈیا کی رپورٹس اور دستاویزی شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مئی 2026ء کی اپڈیٹس کے مطابق، بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے سامنے آنے والے اہم دستاویزی ثبوت درج ذیل ہیں:
1. آزاد ذرائع سے طیاروں کی تباہی کی تصدیق;
رائٹرز اور بی بی سی (Reuters & BBC): ان عالمی اداروں نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں (پلوامہ اور پانپور) میں گرنے والے طیاروں کے ملبے کی سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی ویڈیوز جاری کیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ بھارتی فضائیہ کو فضا میں غیر معمولی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post): امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ بھارت کے جدید ترین رافیل (Rafale) طیاروں میں سے کم از کم ایک طیارہ تکنیکی طور پر “ناکارہ” یا تباہ ہوا، جس کی فرانسیسی حکام نے بھی خاموشی سے تحقیقات کیں۔
2. بھارتی دعوؤں کی تردید (Fact-Checking)نیویارک ٹائمز اور سی این این: جب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے ایف-16 یا جے-10 سی طیارے گرائے ہیں، تو ان اداروں نے پینٹاگون اور آزاد دفاعی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی انوینٹری (Inventory) مکمل ہے اور کسی طیارے کی کمی نہیں پائی گئی۔الجزیرہ (Al Jazeera): الجزیرہ نے ایک دستاویزی رپورٹ جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ بھارتی میزائلوں نے پاکستانی فوجی تنصیبات کے بجائے کھلے میدانوں اور جنگلات کو نشانہ بنایا، جس سے بھارت کے “سرجیکل سٹرائیک” کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔
3. سچ کی جنگ (The Battle of Truth) –
دستاویزی کتابپاکستانی وزارتِ اطلاعات نے عالمی میڈیا کی ان تمام رپورٹس، سیٹلائٹ تصاویر اور غیر ملکی صحافیوں کے بیانات کو ایک کتاب “سچ کی جنگ” میں یکجا کیا ہے۔ اس کتاب میں درج ذیل ثبوت شامل ہیں:
بھارتی پائلٹس کے ریڈیو رابطوں کی ٹرانسکرپٹس۔تباہ شدہ بھارتی دفاعی نظام (S-400) کی تصاویر۔مغربی دفاعی ماہرین کے وہ انٹرویوز جن میں انہوں نے پاک فضائیہ کی بی وی آر (BVR) صلاحیتوں کو بھارت سے بہتر قرار دیا۔
4. غیر ملکی صحافیوں کے دورے;
پاکستان نے اوپن میڈیا پالیسی کے تحت بین الاقوامی صحافیوں کو ان مقامات کا دورہ کرایا جہاں بھارت نے حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ ان صحافیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا، جس نے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔عالمی میڈیا کے ان دستاویزی ثبوتوں نے ثابت کیا کہ معرکہِ حق میں پاکستان نے نہ صرف سرحد پر بلکہ انفارمیشن وار کے محاذ پر بھی حقائق کی بنیاد پر فتح حاصل کی۔ معرکہِ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کے حوالے سے وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کی حالیہ دستاویزات اور وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کے بیانات کے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں:
وفاقی وزیرِ اطلاعات کی پریس کانفرنس اور اہم بیانات
(مئی 2026ء)معرکہِ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں ایک سیمینار اور میڈیا سے گفتگو کے دوران درج ذیل کلیدی نکات بیان کیے:
عالمی بیانیے کی فتح:
عطا تارڑ نے کہا کہ معرکہِ حق میں پاکستان کی کامیابی محض فوجی نہیں بلکہ سفارتی اور بیانیے کی سطح پر بھی ایک “تاریخی فتح” تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی تمام تر اشتعال انگیزی پروپیگنڈے اور افسانوں پر مبنی تھی، جسے پاکستان نے سچائی کے ذریعے عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔
پہلگام “فالس فلیگ” آپریشن:
وزیرِ اطلاعات نے پہلگام واقعے کو بھارت کا “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ واقعے کے صرف 10 منٹ کے اندر ایف آئی آر کیسے درج ہوئی اور کیوں بھارت نے وزیراعظم شہباز شریف کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کیا؟
ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی کامیابی:
وزیرِ اطلاعات نے انکشاف کیا کہ معرکہِ حق کے دوران پاکستان کے نوجوانوں (Gen Z) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے روایتی میڈیا کے ساتھ مل کر قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان نے جیو ٹیگنگ اور بروقت معلومات کی فراہمی کے ذریعے بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے جھوٹ پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
سویلین اور عسکری قیادت کا اشتراک:
انہوں نے واضح کیا کہ اس فتح کے پیچھے سویلین اور عسکری قیادت (بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر) کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور “ون پیج” کی حکمت عملی تھی۔
وزارتِ اطلاعات کی سرکاری دستاویزات اور رپورٹس;
وزارت کی جانب سے جاری کردہ حقائق نامے (Dossier) اور رپورٹس میں درج ذیل اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں:
بھارتی نقصانات;
8 بھارتی طیارے (بشمول 3 رافیل، سخوئی-30 اور مگ-29) اور درجنوں ڈرونز مار گرائے گئے
دفاعی نظام کی تباہی ;
بھارت کا S-400 میزائل سسٹم اور برہموس اسٹوریج سہولیات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا
عالمی ساکھپاکستان کو ایک “سنجیدہ اور ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت” کے طور پر تسلیم کیا گیا
آئی ایس پی آر اور وزارتِ اطلاعات کے مطابق، معرکہِ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع بلکہ سائبر اور انفارمیشن وارفیئر میں بھی دشمن پر واضح برتری رکھتا ہے۔
معرکہ حق ,Marka-e-Haq میں پاکستان نےسچائی کی طاقت سے بھارتی پروپیگنڈے کو شکست دی,معرکہ حق” Marka-e-Haq پاکستان کی دفاعی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے،“معرکۂ حق” ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن اور سنہری باب ہے جس نے پاکستانی قوم کے حوصلے، ایمان اور جذبۂ حب الوطنی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ “معرکہ حق” (آپریشن بنیان المرصوصOperation Bunyan-un-Marsoos) پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک غیر معمولی عسکری کامیابی کے طور پر ابھرا ہے، جسے قوم کے عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا سنہری باب قرار دیا جا رہا ہے۔
مئی 2025 کو پیش آنے والا یہ معرکہ ایک سال مکمل کر چکا ہے، مگر اس کی گونج آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہے, وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان کی جنگی، سفارتی اور بیانیہ کے محاذ پر فتح تاقیامت یاد رکھی جائے گی، معرکہ حق میں کامیابی سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے، قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں لوک ورثہ میں وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے زیر اہتمام معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص سے منسوب تقریب میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے، مئی میں اس عظیم فتح کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پاکستانی قوم کو عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں بچوں اور بچیوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی جو اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اپنی افواج پاکستان کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے اور آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کا جشن منانے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کا جذبہ، حوصلہ اور ہمت دیکھ کر یقین ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق میں ہمیں فتح عطا فرمائی، اسی طرح پاکستان کا مستقبل بھی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو مملکت خداداد اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور اس کی عظیم نعمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا اور برصغیر کے مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا، اسے قائداعظم محمد علی جناح نے عملی جامہ پہنایا اور آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ کہا کہ ہمارے دشمن کو ہر کچھ عرصے بعد ہماری یہ آزادی کھٹکتی ہے اسی لئے وہ مسلسل اس تاک میں رہتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کس طرح سازش کی جائے اور اسے کیسے نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال مئی میں جب پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن کیا گیا تو پاکستان نے نہایت واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا اور پوری دنیا کو بتایا کہ ہم اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ اور منصفانہ انکوائری ہو تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے ممالک میں جبکہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دینے والے ممالک میں شامل ہے، پاکستان اور بھارت دو مختلف سمتوں پر کھڑے ہیں۔ پاکستانی قوم کا ہر طبقہ دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے قربانیاں دے رہا ہے جبکہ بھارت دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور دنیا آج اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی تحقیقات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا واضح وژن تھا، اللہ تعالیٰ نے قوم کو معرکہ حق میں شاندار فتح نصیب فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جس انداز میں جنگ حکمت عملی مرتب کی اس کے تحت پاکستان نے نہ صرف اپنا موثر دفاع کیا بلکہ بھارت کے متعدد جہاز بھی گرائے جو ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ جب فتح میزائل دشمن کی دفاعی تنصیبات پر گرا تو چند گھنٹوں کے اندر ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کرنے والے بھارتی نمائندوں کے چہرے مرجھا گئے۔ چند گھنٹوں میں ہی بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، اگر جنگ نہیں چاہتے تھے تو حملہ کیوں کیا تھا؟ ان کے ٹی وی پر بیٹھے لوگ بوکھلاہٹ میں جھوٹ بولتے تھے کہ ہم نے لاہور اور ملتان کی بندرگاہیں تباہ کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سازش بری طرح ناکام ہوئی، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جنگی محاذ سمیت بیانیہ اور سفارتی محاذوں پر بھی فتح عطا فرمائی جس کو تاقیامت یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک جری اور بہادر قوم ہے، پوری قوم اپنی افواج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے اپنی فوج کے ہمراہ بنیان مرصوص بن کر دکھایا جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب فرمائی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر علامہ اقبال کے چند اشعار بھی پڑھے۔
”یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی“وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں سفارتی، بیانیہ سازی اور عسکری محاذ پر پاکستان کی کامیابی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص اور معرکۂ حق نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان اور وقار دیا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ بھارت ان ممالک میں شامل ہے جو دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے گزشتہ سال مئی میں ایک فالس فلیگ آپریشن کیا جس پر پاکستان نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا اور آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی، جس کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، نے ملک کے دفاع کو یقینی بنایا۔ ے مزید کہا کہ اس کارروائی کے دوران پاکستانی افواج نے بھارت کے 8 طیارے مار گرائے۔
قبل ازیں تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جبکہ قاری عطاء الرحمان نے تلاوت کلام پاک کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل بچوں کے ہمراہ کینڈل لائیٹ ویجل میں بھی شامل ہوئے۔ اس دوران پاک فوج نے معرکۂ حق کی تاریخی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر ’ہم ہیں بنیان مرصوص‘ کا پُراثر ٹیزر جاری کیا ہے، جس میں شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اور قوم کی جانب سے ان کی عظیم قربانیوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے۔ یہ ٹیزر نہ صرف شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ قوم اور افواجِ پاکستان کے درمیان مضبوط رشتے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں صارفین فوجی جوانوں کی جرأت، بہادری اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
ارم نامی صارف نے لکھا کہ معرکہِ حق نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی امن کا حقیقی ضامن ہے۔ اب دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ مہر گل یوسفزئی کہتی ہیں کہ معرکۂ حق نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ہے اور اس کی خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ آج جب ہم معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں تو ہمارا عزم پہلے سے زیادہ پختہ ہے۔ یہ فتح ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم متحد رہیں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں تو کوئی بھی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ ایک صارف نے لکھا کہ جھوٹی خبروں اور افواہوں کے اس دور میں عوام نے صرف اپنی فوج کے مؤقف پر اعتماد کیا اور معرکۂ حق نے ثابت کر دیا کہ جب قوم اور افواج ایک ہوں تو فتح ہمیشہ قدم چومتی ہے۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل افواجِ پاکستان نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا تھا۔ اس معرکے نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط، مؤثر اور ناقابلِ تسخیر ہے۔معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی عوام کی جانب سے پاک فوج کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی بڑی تعداد پاک فوج کے کردار، قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے معرکۂ حق کو قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔صارفین نے مختلف پوسٹس اور تبصروں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہ معرکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ ’بنیانُ مرصوص‘ کو قومی یکجہتی اور مضبوط عزم کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ان ردعمل میں عوام نے پاک فوج کے کردار کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قومی سلامتی اور استحکام کے لیے اس کی خدمات کو قابلِ فخر قرار دیا ہے۔ وسیم عباسی نے پاک فوج کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دلیری کی تاریخ ہے۔ بیان مرصوص یعنی پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار ہے اور دنیا نے یہ منظر کم ہی دیکھے ہونگے۔ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ بنیان مرصوص کا جذبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اتحاد، ایمان اور حوصلے سے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ بنیان مرصوص کا جذبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اتحاد، ایمان اور حوصلے سے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔علی حسن نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق بنیان مرصوص کے یہ مناظر ہمیشہ کیلئے یادگار بن چکے ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں کا جذبہ ،جرات ،بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت پوری دنیا نے دیکھی کہ کیسے انہوں نے چند گھنٹوں میں 6 گنا بڑے دشمن کو دھول چٹا دی ۔صابر محمود ہاشمی لکھتے ہیں کہ جہاں ہم معرکہ حق بنیان مرصوص کا ایک سال مکمل ہونےکی شاندار یادیں تازہ کر رہے ہیں وہیں دشمن کے زخم بھی تازہ کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر نہ صرف اپنی فوج کےساتھ کھڑی بلکہ اس جنگ کو خوب انجوائے کیا بہادری کی تاریخ رقم کرکےدشمن سے پوری دنیا کو حیران کردیا۔اسد چوہدری لکھتے ہیں کہ معرکہ حق کا جشن پوری مسلم امہ کو منانا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان نے خطے کو’بھارتی بدمعاشی‘ سے بچا لیا۔ پاکستان آج ان کا نیٹ سیکیورٹی پروائڈربن چکا ہے۔معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر مسلح افواج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور پختہ عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔ افواج کے مطابق معرکۂ حق کے دوران دشمن نے پاکستان کی عسکری قوت، تیاری اور فیصلہ کن صلاحیت کا عملی مشاہدہ کیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ کسی بھی مہم جوئی یا جارحیت کی صورت میں جواب پہلے سے زیادہ سخت، فوری اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا جبکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے افواجِ پاکستان ہر سطح پر مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہیں۔
بیانیے کی جنگ (Battle of Narratives) معرکہِ حق کا وہ اہم ترین محاذ تھا جہاں پاکستان نے روایتی ہتھیاروں کے بجائے حقائق، شفافیت اور جدید ڈیجیٹل حکمتِ عملی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ جنگ دشمن کے “جعلی بیانیے” (Fake Narrative) کو سچائی سے شکست دینے کا نام ہے۔
اس محاذ کے چند کلیدی پہلو درج ذیل ہیں:
. سچائی بمقابلہ سنسنی خیزیبھارتی رویہ:
بھارتی میڈیا نے جنگ کے دوران حد درجہ سنسنی خیزی پھیلائی اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کے جہاز گرانے اور نقصانات کے دعوے کیے۔پاکستانی حکمتِ عملی: پاکستان نے “اوپن ڈور پالیسی” اپنائی۔ غیر ملکی میڈیا اور دفاعی اتاشیوں (Defence Attachés) کو ان مقامات کا دورہ کروایا گیا جہاں بھارت نے حملوں کا دعویٰ کیا تھا، جس سے بھارتی جھوٹ عالمی سطح پر بے نقاب ہوا۔
. پہلگام واقعے کا فیکٹ چیک;
وزارتِ اطلاعات نے پہلگام واقعے کو بھارت کا “فالس فلیگ آپریشن” ثابت کرنے کے لیے ٹھوس دستاویزی شواہد پیش کیے۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ بھارت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خود ساختہ بحران پیدا کیا، جسے عالمی میڈیا (بی بی سی، رائٹرز) نے بھی اپنی رپورٹس میں جگہ دی۔
3. ڈیجیٹل یلغار;)وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کے مطابق، پاکستان نے بیانیے کی جنگ میں درج ذیل نئے طریقے اپنائے:جیو ٹیگنگ: بھارتی سرحد کے اندر موجود صارفین تک سچائی پر مبنی مواد براہِ راست پہنچایا گیا۔سوشل میڈیا فورس: پاکستانی نوجوانوں (Gen Z) نے فیس بک، انسٹاگرام اور X پر #MarkaeHaq اور #BattleOfTruth جیسے ٹرینڈز کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کیا۔
“سچ کی جنگ” دستاویزی کتاباس محاذ کی تمام تر تفصیلات کو محفوظ کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے “سچ کی جنگ” نامی کتاب شائع کی، جو اس بات کی سند ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ درست معلومات اور مضبوط بیانیے سے جیتی جاتی ہیں۔حاصلِ کلام بیانیے کی اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اب دشمن کے ہائبرڈ اور نفسیاتی حملوں کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ عالمی برادری نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور سچی ریاست کے طور پر تسلیم کیا، جبکہ بھارت کو اپنے ہی پروپیگنڈے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی نئی سائبر پالیسی اور بھارتی میڈیا پر “معرکہِ حق” کے اثرات مئی 2025 کے تنازع کے بعد کی صورتحال کو واضح کرتے ہیں:
1. پاکستان کی نئی سائبر پالیسی ;
معرکہِ حق کے دوران سائبر وارفیئر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، حکومت پاکستان نے دفاعی اور سویلین اداروں کے اشتراک سے ایک جامع نیشنل سائبر ڈیفنس اسٹریٹجی متعارف کرائی ہے:
نیشنل سائبر کمانڈ کا قیام:
مسلح افواج کے تحت ایک باقاعدہ سائبر کمانڈ کو مزید فعال کیا گیا ہے جو اب فضائیہ، بحریہ اور بری فوج کے ساتھ مل کر “ملٹی ڈومین” آپریشنز کا حصہ ہے۔
سویلین-ملٹری اشتراک:
نئی پالیسی کے تحت وزارتِ اطلاعات اور آئی ٹی ماہرین کو دفاعی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے تاکہ دشمن کے ہائبرڈ حملوں اور ڈس انفارمیشن کا فوری جواب دیا جا سکے۔
بنیادی ڈھانچے کا تحفظ:
پاور گرڈز، بینکنگ سسٹم اور مواصلاتی ڈھانچے کو “سائبر شیلڈ” کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی سائبر حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔
جارحانہ سائبر صلاحیت:
پالیسی میں دفاع کے ساتھ ساتھ دشمن کے جنگی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے “جارحانہ سائبر ٹولز” کی تیاری پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
2. بھارتی میڈیا پر شکست کے اثرات;
مئی 2025 کے معرکے میں بیانیے کی جنگ ہارنے کے بعد بھارتی میڈیا کو اندرونی اور بیرونی طور پر شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے:
ساکھ کا بحران (Credibility Crisis): بی بی سی، رائٹرز اور عالمی فیکٹ چیکرز کی جانب سے بھارتی میڈیا کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کیے جانے کے بعد، بھارتی نیوز چینلز کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا لگا۔ انہیں عالمی سطح پر “پروپیگنڈا مشین” قرار دیا گیا۔اندرونی احتساب:
بھارتی عوام اور دانشوروں نے پہلی بار اپنے میڈیا اور حکومت سے سخت سوالات کیے۔
“پہلگام واقعے” جیسے بیانیوں کے فلاپ ہونے پر سوشل میڈیا پر بھارتی اینکرز کا مذاق اڑایا گیا۔
پالیسی میں تبدیلی:
بھارتی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹیز اب سوشل میڈیا پر سخت پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ سچائی جو پاکستان کی طرف سے جیو ٹیگنگ کے ذریعے دکھائی گئی ان کے عوام تک نہ پہنچ سکے۔
نفسیاتی شکست:
بھارتی میڈیا جو ہمیشہ “سرجیکل اسٹرائیک” کی باتیں کرتا تھا، معرکہِ حق کے بعد دفاعی پوزیشن پر آگیا۔ اب وہاں “پاکستان کی سائبر برتری” اور “جے ایف-17 کی کارکردگی” پر تشویش ناک پروگرامز نشر کیے جا رہے ہیں,
پاکستان کی نئی سائبر پالیسی اب “ڈیجیٹل ڈیٹرنس” پر مبنی ہے، جبکہ بھارتی میڈیا اب بھی اس صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے کہ کس طرح ایک محدود وقت میں پاکستان نے ان کے پورے انفارمیشن نیٹ ورک کو غیر مؤثر بنا دیا۔ معرکہِ حق کے بعد جنوبی ایشیا کے دفاعی اور معاشی منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ پاکستان نے اپنی ٹیکنالوجی کو برآمدی منڈی میں متعارف کرایا ہے، جبکہ بھارت اپنے سائبر دفاع کو ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔
پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات
(Defense & Tech Exports);
معرکہِ حق میں پاکستانی ہتھیاروں اور سافٹ ویئر کی کامیابی نے عالمی منڈی میں پاکستان کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں:
جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Block III):
مئی 2025 کے فضائی معرکے میں رافیل اور سخوئی کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد، کئی ممالک (بشمول آذربائیجان، عراق، اور نائجیریا) نے اس طیارے کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی:
پاکستان کے تیار کردہ شاہپر-2 اور براق ڈرونز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ڈرونز کی “لو کاسٹ، ہائی امپیکٹ” کارکردگی نے انہیں افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر:
پاکستان کی نجی آئی ٹی کمپنیوں اور دفاعی اداروں نے مل کر ایسے سائبر ڈیفنس ٹولز تیار کیے ہیں جو “اینٹی ہیکنگ” اور “انفارمیشن سیکیورٹی” کے لیے برآمد کیے جا رہے ہیں۔
2026 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز:
پاکستان اب اپنے تیار کردہ جامرز (Jammers) اور سگنل انٹیلیجنس سسٹم بھی دوست ممالک کو فراہم کر رہا ہے۔
2. بھارت کے حالیہ سائبر دفاعی اقدامات;
معرکہِ حق کے دوران پاور گرڈ کی بندش اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کی ناکامی کے بعد بھارت نے اپنے سائبر دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں: بھارت نے اپنی سائبر پالیسی کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ کیا ہے، جس کا مرکز “کریٹیکل انفراسٹرکچر” (پاور گرڈ، ریلوے، بینکنگ) کو سائبر حملوں سے بچانا ہے۔ بھارتی فوج نے اپنی سائبر ایجنسی (DCA) کو ایک مکمل تینوں افواج کی مشترکہ کمانڈ میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ پاکستان کی جانب سے ہونے والے کسی بھی مستقبل کے سائبر حملے کا جواب دیا جا سکے۔
بھارت نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر “سائبر شیلڈ” بنانے کے معاہدے کیے ہیں تاکہ اپنے حساس ڈیٹا کو ہیکنگ سے محفوظ رکھ سکے۔ بھارت نے “سائبر وال” کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے جس کا مقصد جنگی حالات میں پاکستان کی طرف سے آنے والے بیانیے (جیسے جیو ٹیگنگ ویڈیوز) کو بلاک کرنا ہے۔ پاکستان اب ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک “سروس فراہم کنندہ” کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ بھارت اپنی گذشتہ ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے “ڈیجیٹل قلعے” کی مرمت میں مصروف ہے۔مئی 2025ء کے تنازع (معرکہِ حق) کے دوران سائبر کارروائیاں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز محض معاون نہیں بلکہ ایک مکمل جنگی محاذ کے طور پر ابھرے۔
مئی 2026ء کی تازہ ترین رپورٹس کی روشنی میں تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. سائبر کارروائیاں (Cyber Operations)
پاکستان نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ “سائبر وارفیئر” کا بھرپور استعمال کیا تاکہ دشمن کی جنگی مشینری کو مفلوج کیا جا سکے:
پاور گرڈ پر حملہ:
پاکستانی سائبر ماہرین نے ایک منظم حملے کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد الیکٹرک گرڈ کو غیر فعال (Dysfunctional) کر دیا، جس سے دشمن کی نقل و حمل اور مواصلات میں شدید خلل پڑا۔آپریشن سالار:
پاکستانی ہیکرز کے رضا کار گروپوں نے “آپریشن سالار” کے تحت بھارتی دفاعی ویب سائٹس اور اہم فوجی تنصیبات کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔
کمیونیکیشن ہبز کی بندش:
پاک فضائیہ کے سربراہ کے مطابق، عسکری سائبر حملوں کا ہدف بھارتی مواصلاتی مراکز (Communication Hubs) اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر تھا۔
جیو ٹیگنگ اور پیغامات:
پاکستانی ڈیجیٹل ٹیموں نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے عوام تک براہِ راست جے ایف-17 تھنڈر کی ویڈیوز اور قومی نغمے پہنچائے، جس سے دشمن کے اندرونی اعصاب پر دباؤ بڑھا۔
2. سوشل میڈیا ٹرینڈز اور بیانیے کی جنگ ;
سوشل میڈیا پر پاکستان نے “حقائق پر مبنی بیانیہ” پیش کر کے بھارتی ڈس انفارمیشن کو شکست دی:
کلیدی ہیش ٹیگز: ٹویٹر (X) اور فیس بک پر #MarkaeHaq، #BattleOfTruth اور #OperationBunyanUnMarsoos جیسے ٹرینڈز دنیا بھر میں سرفہرست رہے،
جنہوں نے پاکستان کے دفاعی موقف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔بھارتی فیک نیوز کا پردہ چاک:
بھارتی میڈیا نے جب “لاہور اور ملتان کی بندرگاہوں” (Ports) کی تباہی جیسی مضحکہ خیز خبریں پھیلائیں، تو پاکستانی صارفین اور وزارتِ اطلاعات نے ان کا مذاق اڑا کر بھارتی بیانیے کی ساکھ عالمی سطح پر ختم کر دی۔
ملبے کے شواہد:
پاک فضائیہ کے گرائے گئے بھارتی طیاروں (بشمول رافیل اور سخوئی) کے ملبے کی ویڈیوز اور تصاویر نے سوشل میڈیا پر بھارت کے “آل از ویل” (All is well) کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کیا۔
میمز (Memes) کا استعمال:
محققین کے مطابق، پاکستان نے میمز اور مختصر ویڈیوز کو بطور “نرم ہتھیار” استعمال کر کے عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کیا اور بھارتی پروپیگنڈے کو غیر مؤثر بنایا,
3. سچ کی جیت (The Battle of Truth)
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، بھارت نے سچ کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگائی، لیکن پاکستان نے “اوپن میڈیا پالیسی” اپنا کر عالمی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا، جس سے ثابت ہوا کہ سچائی پاکستان کے ساتھ ہے۔
اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معرکہِ حق نے ثابت کر دیا کہ اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ سرورز اور اسمارٹ فونز سے بھی لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔
مئی 2025ء کے تنازع (معرکہِ حق) کے دوران عالمی میڈیا کی رپورٹس اور دستاویزی شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مئی 2026ء کی اپڈیٹس کے مطابق، بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کی جانب سے سامنے آنے والے اہم دستاویزی ثبوت درج ذیل ہیں:
1. آزاد ذرائع سے طیاروں کی تباہی کی تصدیق;
رائٹرز اور بی بی سی (Reuters & BBC): ان عالمی اداروں نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں (پلوامہ اور پانپور) میں گرنے والے طیاروں کے ملبے کی سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی ویڈیوز جاری کیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ بھارتی فضائیہ کو فضا میں غیر معمولی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post): امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ بھارت کے جدید ترین رافیل (Rafale) طیاروں میں سے کم از کم ایک طیارہ تکنیکی طور پر “ناکارہ” یا تباہ ہوا، جس کی فرانسیسی حکام نے بھی خاموشی سے تحقیقات کیں۔
2. بھارتی دعوؤں کی تردید (Fact-Checking)نیویارک ٹائمز اور سی این این: جب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے ایف-16 یا جے-10 سی طیارے گرائے ہیں، تو ان اداروں نے پینٹاگون اور آزاد دفاعی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی انوینٹری (Inventory) مکمل ہے اور کسی طیارے کی کمی نہیں پائی گئی۔الجزیرہ (Al Jazeera): الجزیرہ نے ایک دستاویزی رپورٹ جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ بھارتی میزائلوں نے پاکستانی فوجی تنصیبات کے بجائے کھلے میدانوں اور جنگلات کو نشانہ بنایا، جس سے بھارت کے “سرجیکل سٹرائیک” کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔
3. سچ کی جنگ (The Battle of Truth) –
دستاویزی کتابپاکستانی وزارتِ اطلاعات نے عالمی میڈیا کی ان تمام رپورٹس، سیٹلائٹ تصاویر اور غیر ملکی صحافیوں کے بیانات کو ایک کتاب “سچ کی جنگ” میں یکجا کیا ہے۔ اس کتاب میں درج ذیل ثبوت شامل ہیں:
بھارتی پائلٹس کے ریڈیو رابطوں کی ٹرانسکرپٹس۔تباہ شدہ بھارتی دفاعی نظام (S-400) کی تصاویر۔مغربی دفاعی ماہرین کے وہ انٹرویوز جن میں انہوں نے پاک فضائیہ کی بی وی آر (BVR) صلاحیتوں کو بھارت سے بہتر قرار دیا۔
4. غیر ملکی صحافیوں کے دورے;
پاکستان نے اوپن میڈیا پالیسی کے تحت بین الاقوامی صحافیوں کو ان مقامات کا دورہ کرایا جہاں بھارت نے حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ ان صحافیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا، جس نے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔عالمی میڈیا کے ان دستاویزی ثبوتوں نے ثابت کیا کہ معرکہِ حق میں پاکستان نے نہ صرف سرحد پر بلکہ انفارمیشن وار کے محاذ پر بھی حقائق کی بنیاد پر فتح حاصل کی۔