LOADING

Type to search

پاکستان

ملتان (سہ پہر) خانیوال ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری

ملتان (سہ پہر) خانیوال ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ۔ مزید 5 مقدمات درج ۔ اس آپریشن کو باقاعدہ ہائی الرٹ سٹیٹس میں لانچ کیا گیا، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں مزید 5 نئی ایف آئی آرز درج کر کے مافیا کے خلاف عملی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک اور بھرپور ایکشن نے مافیا کی صفوں میں شدید کھلبلی مچا دی ہے جبکہ کئی عناصر ڈیفینسو موڈ میں چلے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی کسی روایتی تفتیش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ، ٹارگٹڈ آپریشن ہے، جس میں ہر کیس کو باقاعدہ سکریننگ، ویری فکیشن اور گراؤنڈ اسیسمنٹ کے مراحل سے گزارا گیا۔ شواہد کی بنیاد پر مقدمات کو ری اوپن کیا گیا اور جھوٹے بیانیے کو ایک ایک کر کے نیوٹرلائز کیا گیا۔
تمام ایف آئی آرز پولیس فارم 24-5(1) کے تحت درج کی گئی ہیں، جبکہ قانونی محاذ پر اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کی دفعات 22-2(a) اور 22-2(b) کو بطور پرائمری لیگل ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 182، 213 اور 427 کو بھی شامل کر کے ملزمان کے خلاف مضبوط قانونی شکنجہ تیار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ قانونی فریم ورک اس آپریشن کا کور کمانڈ اسٹرکچر ہے، جس کے تحت تمام کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
گراؤنڈ لیول پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق تھانہ حویلی کورنگا میں درج مقدمہ نمبر 555 کو جب ڈیٹیلڈ انویسٹی گیشن کے لیے کھولا گیا تو زیادتی کی کوشش کا دعویٰ مکمل طور پر فالس انٹیلی جنس ثابت ہوا۔ تفتیشی ٹیم نے شواہد، گواہیوں اور موقع کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے کر کیس کو ڈسمینٹل کر دیا۔
اسی طرح تھانہ سرائے سدھو میں رپورٹ نمبر 661 کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جہاں مدعیہ نے عدالت میں پیش ہو کر خود اعتراف کیا کہ مقدمہ محض “غلط فہمی” کی بنیاد پر درج کروایا گیا تھا۔ یہ بیان اس پورے آپریشن میں ایک بریک تھرو مومنٹ ثابت ہوا، جس نے مافیا کے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا۔
تھانہ صدر کبیر والا میں درج رپورٹس 898 اور 300/26 میں بھی صورتحال اسی نوعیت کی رہی۔ یہاں مدعیہ نے اپنے الزامات سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کرتے ہوئے حلفیہ بیان دیا کہ مقدمات جھوٹے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک منظم طریقے سے جھوٹے مقدمات درج کروا کر شہریوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا، جسے اب سسٹیمیٹک طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔
تھانہ سٹی کبیر والا میں درج رپورٹس 1197 اور 383/26 میں تفتیشی ٹیم نے ایویڈنس بیسڈ اپروچ اپناتے ہوئے کیسز کا جائزہ لیا۔ مدعی کے بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد سامنے آیا، جس کے بعد کیسز کو ان ویلیڈیٹ قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح تھانہ سٹی خانیوال میں رپورٹ نمبر 497/26 کے تحت مدعی نے باقاعدہ اعتراف کیا کہ اس نے بے گناہ افراد کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروایا تھا، جس پر فوری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کو زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت چلایا جا رہا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی نرمی یا رعایت کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رہے گی اور ایسے عناصر کو ہر صورت اکاؤنٹیبل بنایا جائے گا۔
یہ کریک ڈاؤن درحقیقت ایک فُل اسکیل آپریشن کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مزید کیسز کی نشاندہی ہو چکی ہے، جن پر کام جاری ہے اور جلد ہی مزید ایف آئی آرز درج کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ڈسمینٹل کرنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق اس آپریشن کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے نظام انصاف پر اعتماد بحال ہوگا اور حقیقی متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں آسانی پیدا ہوگی۔ جھوٹے مقدمات نہ صرف بے گناہ شہریوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کو بھی دباؤ میں لے آتے ہیں، جس کے خاتمے کے لیے یہ کارروائیاں ناگزیر تھیں۔
مجموعی طور پر خانیوال میں جاری یہ ایکشن ایک فیصلہ کن معرکہ بن چکا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے واضح حکمت عملی کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ اس آپریشن نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ ریاستی ادارے اب مکمل طور پر متحرک ہیں اور قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

X