LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) بیوروکریسی کا نیا چہرہ: روہت کمار گنیتا کی مثالی کارکردگی

اسلام آباد (سہ پہر) ​میرا کبھی کسی افسر سے ذاتی کام نہیں ہوتا، میں احسان لینے کا عادی نہیں اور نہ بطور صحافی میں پیسے پکڑ کر کام کروانے کے لیے کسی افسر کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا پسند کرتا ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں، عوام کے اجتماعی مسائل کے لیے آواز اٹھاتا ہوں اور میرا قلم صرف اس وقت جنبش کرتا ہے جب میرا ضمیر مجھے ملامت کرے کہ اگر میں نے اس سچ کو بیان نہ کیا تو یہ تاریخ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ میں نے برسوں اس ملک کی سیاسی اور انتظامی راہداریوں میں عمر گزاری ہے، میں نے ان ایوانوں کو دیکھا ہے جہاں پالیسیاں بنتی ہیں اور ان جھونپڑیوں کو بھی دیکھا ہے جہاں ان پالیسیوں کی ناکامی کے نوحے لکھے جاتے ہیں۔ آج جب میں روہت کمار گنیتا کی کارکردگی پر قلم اٹھا رہا ہوں، تو یہ محض ایک افسر کی تعریف نہیں بلکہ اس مردِ حر کا قصیدہ ہے جس نے بیوروکریسی کے اس سڑے ہوئے نظام میں یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کا دامن صاف ہو اور نیت میں کھوٹ نہ ہو، تو وہ تنہا بھی ایک لشکر پر بھاری ہوتا ہے۔
​ہم جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں بیوروکریسی کا مطلب عموماً وہ کالی شیشوں والی گاڑیاں، پروٹوکول کی لمبی قطاریں اور وہ عالیشان کوٹھیاں ہیں جن کے باہر کھڑے سنتری عام آدمی کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کیسے اسسٹنٹ کمشنر کا عہدہ سنبھالتے ہی نوجوان افسران کے سر میں وہ فرعونی تکبر سما جاتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے دکھ درد سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ لیکن روہت کمار گنیتا اس بھیڑ میں ایک الگ تھلگ جزیرے کی طرح ہیں۔ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے منصب کو ایک نئے معنی عطا کیے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ بیوروکریسی “حاکمیت” کا نہیں بلکہ “خادمی” کا نام ہے۔ روہت نے اپنے دفتر کی دیواریں گرا دیں، انہوں نے ان ضابطوں کو پاؤں تلے روندا جو ایک بیوہ، ایک یتیم اور ایک لاچار کسان کو اپنے حق کے لیے مہینوں دھکے کھانے پر مجبور کرتے تھے۔
​روہت کمار کی کارکردگی کا سب سے درخشندہ پہلو ان کی بے باکی اور دیانت داری ہے۔ اس ملک میں جہاں پٹوار کلچر نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، جہاں ایک پٹواری کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، وہاں روہت کمار ایک قہر بن کر ان پر ٹوٹے۔ انہوں نے زمینوں کے انتقالات، وراثت کے جھگڑوں اور قبضوں کے ان ناسوروں کا علاج کیا جن پر بڑے بڑے سورما ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتے تھے۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں بہت کم ایسے افسر دیکھے ہیں جو فائل کے پیچھے چھپے اس انسان کے آنسو دیکھ سکیں جو انصاف کے لیے ایڑیاں رگڑ رہا ہو۔ روہت نے فائل ورک کے بجائے فیلڈ ورک کو ترجیح دی۔ وہ تپتی دھوپ ہو یا سردی کی لہر، وہ کبھی دفتر میں بیٹھ کر رپورٹیں پڑھتے نظر نہیں آئے بلکہ وہ موقع پر موجود ہوتے تھے جہاں مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔ ان کا یہ اسلوبِ حکمرانی ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
​جب ہم گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں تو روہت کمار گنیتا ایک جیتی جاگتی مثال بن کر سامنے آتے ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کی بات ہو یا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن، انہوں نے کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ میں نے سنا ہے کہ جب بڑے بڑے تاجروں اور بااثر سیاستدانوں نے اپنے مفادات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تو روہت نے ایک ہی جواب دیا کہ “میرا ضابطہ اخلاق صرف قانون ہے”۔ یہ وہ جرأت ہے جو آج کے دور میں بیوروکریسی میں مفقود ہو چکی ہے۔ روہت نے یہ ثابت کیا کہ ایک افسر اگر چاہے تو وہ مارکیٹ کی ریٹ لسٹ کو صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے غریب کی جیب کے مطابق نافذ بھی کرواتا ہے۔ ان کی اس کارکردگی نے ان کے علاقے کے غریب عوام کے دلوں میں ان کے لیے وہ جگہ بنا دی ہے جو بڑے بڑے سیاستدان برسوں کی مہم جوئی کے بعد بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
​روہت کمار کا ایک اقلیتی برادری سے تعلق ہونا اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ جب آپ کا کام بولتا ہے تو آپ کی شناخت ثانوی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بابا گرو نانک کے اس فلسفے کو عملی جامہ پہنایا کہ “سب سے اعلیٰ مذہب انسانیت کی خدمت ہے”۔ ان کی کارکردگی نے ان تمام تعصبات کو جلا کر راکھ کر دیا جو ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑ چکے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اس دھرتی کے سچے بیٹے ہیں جن کے سینے میں حب الوطنی کا دل دھڑکتا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے جو دورے کیے اور وہاں جس طرح کی اصلاحات متعارف کروائیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صرف انتظامی امور کے ماہر نہیں بلکہ ایک سماجی مصلح بھی ہیں۔ جب ایک اسسٹنٹ کمشنر اسکول میں جا کر بچوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ ان بچوں کو ایک خواب دیتا ہے کہ وہ بھی محنت کر کے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔
​روہت کمار گنیتا کی کارکردگی پر جتنا بھی لکھا جائے، وہ کم ہے۔ ان کی داستان ان سینکڑوں غریبوں کے چہروں پر لکھی ہے جنہیں ان کے دور میں انصاف ملا۔ ان کی کارکردگی کا اعتراف اس لیے ضروری ہے تاکہ اس نظام میں موجود دیگر افسران کو بھی یہ پیغام ملے کہ اصل عزت اور وقار عوام کی دعا میں ہے، پروٹوکول کی چمک دمک میں نہیں۔ میں نے ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طاقتوروں کو للکارا ہے، لیکن روہت جیسے سادھو صفت افسر کی تعریف کرنا بھی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
​تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو روہت کمار کی کامیابی کا راز ان کا “بیوروکریٹک ایگو” سے پاک ہونا ہے۔ وہ اس لکیر کے فقیر نہیں بنے جو عوام اور ریاست کے درمیان حائل ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اصلاحات کے لیے کسی بڑے بجٹ یا کسی مسیحا کا انتظار کرنے کے بجائے، اگر ایک افسر اپنے تفویض کردہ اختیارات کا ایمانداری سے استعمال کرے، تو وہ نظام کو بدل سکتا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کو جو تقدس بخشا ہے، وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ روہت کمار! آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ اس عہد کے ایک منفرد اور بلند پایہ افسر ہیں، اور آپ کی یہ کارکردگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ رہے گی۔ آپ کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا کیونکہ آپ نے کرسی کو نہیں، انسانیت کو عزت دی ہے۔ اس کالم کا مقصد خوشامد نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کا تجزیہ ہے جو ہماری بیوروکریسی کے مردہ جسم میں روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ہر ضلع میں ایک روہت کمار بیٹھ جائے، تو اس ملک کے آدھے سے زیادہ سماجی اور انتظامی مسائل دم توڑ دیں گئے ۔

X