LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) سیاسی وعسکری قیادت امن کے لئے سرگرم

اسلام آباد (سہ پہر) مشرق وسطی میں کشیدگی کے دوران مصالحت کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں اہم ملاقاتیں کیں آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ تہران پہنچے تو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے استقبال کیا عباس عراقچی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں مذاکرات کی میزبانی پاکستان اور ایران کے مضبوط تعلقات کا مظہر خطے میں امن و استحکام کیلئے ہماراعزم پختہ ہے فیلڈ مارشل کے اہم ترین دورے میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور پر بات چیت ہوئی وزیراعظم شہبازشریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میںدونوں رہنماں نے باہمی امور اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت خطے کی تازہ ترین صورت حال اور ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ قریب ہے امریکا ایران کیساتھ بہترین معاہدہ کرسکتا ہے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد موجود ہے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور وہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایرانی وفد کی پاکستان سے وطن واپسی کے بعد امریکا سے پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا پاکستان کے ذریعے امریکا سے تاحال پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے امریکا سے جنگ میں ایران کو پہنچے نقصانات کے ازالے پر بھی بات ہوئی جنگ کے خاتمے پر بات ہوئی ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی مذاکرات ہوئے پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے اب جو مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کیلئے ہوں گے پاکستان بقا پر مبنی سفارت کاری میں امریکہ اسرائیل ایران تنازعہ میں کوئی واضح موقف اختیار کئے بغیر خود کو ایک قابل اعتماد مسلم اور علاقائی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی “کثیر الجہتی” ہے جہاں وہ امریکہ سے معاشی تعلقات سعودی عرب سے دفاعی تعاون اور ایران سے کام کرنے والے تعلقات رکھتا ہے پاکستان کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ اس کی سٹریٹجک اور دفاعی صلاحیتیں بھی اسے عالمی سیاست میں ایک منفرد مقام دیتی ہے پاکستان دنیا کی ان چند ریاستوں میں شامل ہے جو ایٹمی صلاحیت رکھتی ہیں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے فوری بعد پاکستان نے بیک وقت عرب ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن رابطے قائم کر کے بہترین سفارت کاری کا جوعملی مظاہرہ کیا اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی نظریں مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا پر بدلتے سیاسی و عسکری منظر نامے پر مرکوز ہیں وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران ان گہری تزویراتی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد امریکہ ایران اور علاقائی ممالک میں کشیدگی کا خاتمہ اور خطے پائیدار امن کا قیام ہے سیاسی و عسکری قیادت کا اہم ترین دورہ سعودی عرب اور ایران بطور ثالث پاکستان کے کردار کو تقویت دیتا اور مستقل جنگ بندی کی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے سفارتی رابطوں میں تیزی سے یہ بات واصح ہوتی جارہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان برف کافی حد تک پگھل چکی ہے فریقین بیشتر معاملات پر اتفاق رائے کرچکے ہیں اور مستقل معاہدہ اب چند ہاتھ کی دوری پر رہ گیا ہے ایرانی وزارت خارجہ کا اگلے مذاکراتی دور کو مستقل جنگ بندی کی سمت قرار دینا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا بیان اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی غیر جانبدرانہ اور مصالحانہ کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور فریقین میں باہمی اعتماد بحال ہورہا ہے دونوں ممالک کے اعلی اس امر کے اشارے بھی دے رہے ہیں کہ بیشتر اختلافی معاملات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے چند تکنیکی یا جزوی معاملات ہی اب باقی ہیں اگر اس نازک موڑ پر تھوڑی مزید لچک دکھائی جائے اور فریقین اپنے موقف سے ذرا سا پیچھے ہٹ کر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تو آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور میں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن معاہدے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جس سے پوری دنیا بالعموم اور مشرق وسطی کا بالخصوص مستقل جڑا ہوا ہے ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے اے پی کو بتایا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے سے پہلے ثالث جن تین اہم نکات پر سمجھوتا کرنے پر زور دے رہے ہیں ان میں ایران کا جوہری پروگرام آبنائے ہرمز اور جنگ کے وقت ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں فریقین مذاکرات کے دوسرے دور میں کتنی لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں کیوبنکہ معاملہ پھر کچھ لو اور کچھ دو والا ہے تہران کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ کہ اس کے تمام مطالبات امریکہ تسلیم کرلے گا نہ ہی واشنگٹن کو اس خام خیالی میں رہنا چاہیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے فریق کبھی بھی اپنی ساری شرائط منوا کر نہیں اٹھتے بلکہ ان میں سے کچھ ہی فریق مخالف کے لئے قابل قبول ہوتی ہیں اور انہی پر اتفاق رائے کرنا پڑتا ہے یعنی فریقین کی شرائط بڑی لیکن مارجن محدود ہوتا ہے دوسری بات یہ ہے کہ جب معاملات بے حد پیچیدہ ہوں اور فریقین کے تقاضے ضرورت سے زیادہ بڑے تو پھر ایک نشست میں یا دو دنوں کے مذاکرات میں مسائل کا حل نکالنا مشکل ہوتا ہے امریکہ اور ایران دونوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افہام وتفہیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے طاقت اور بارود سے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کئے جانے والے فیصلے میدان جنگ میں کئے گئے فیصلوں سے کہیں زیادہ پائیدار ثابت ہوتے ہیں انسانیت کی بقاء اسی میں ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باہمی مسائل حل کئے جائیں جنگ بندی’ قیام امن اور علاقائی استحکام کے لئے پاکستان کی کوششیں اگرچہ نیک نیتی اور خلوص پر مبنی ہیں مگر ان کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی لچک پر ہے اگر کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو دنیا ایک ایسے اندھے کنویں میں گر جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ شدید تباہی سے ہوکر گزرتا ہے دعا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں اللہ کرے کہ معاہدہ ہوجائے تاکہ جنگ کی وجہ سے عالمی برادری کو جن خطرات اور خدشات کا سامنا ہے وہ دور ہو جائیں**

X