LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) ایران کے خاموش فوج نے دنیا کو حیران کر دیا ہے

اسلام آباد (سہ پہر) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں بارود کی بو صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور انسانی ضمیر تک سرایت کر چکی ہے۔ شام سے عراق، یمن سے غزہ اور ایران تک پھیلی ہوئی جنگیں کسی ایک ملک یا ایک تنازعے کی کہانی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، غلط فیصلوں اور طاقت کے غرور کا نتیجہ ہیں۔
اگر ہم تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز رہا ہے۔ عراق جنگ، جس نے ایک خودمختار ریاست کو کھنڈر میں بدل دیا، اس کی بنیاد بھی اسی سوچ پر رکھی گئی تھی کہ طاقت کے ذریعے خطے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ شام میں خانہ جنگی نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا اور عالمی طاقتیں وہاں بھی اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑتی رہیں۔ یمن میں جاری تنازعہ نے انسانی تاریخ کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا، جہاں بھوک، بیماری اور جنگ نے مل کر زندگی کو عذاب بنا دیا۔
غزہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ المناک ہے، جہاں نہتے شہری، خواتین اور بچے مسلسل بمباری کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہر نئی صبح ملبے سے لاشیں نکالنے سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات خوف کے سائے میں ختم ہوتی ہے۔ عالمی قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقیات یہاں بے معنی نظر آتے ہیں۔
ایران کے ساتھ کشیدگی بھی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ حالات نے اسے ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ماضی میں ایران کو اکثر ایک ایسا ملک سمجھا جاتا رہا جو براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی گروپس کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے، مگر موجودہ صورتحال نے اس تاثر کو چیلنج کیا ہے۔ اب یہ سوال عالمی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا انہوں نے ایران کی عسکری اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو کم سمجھا؟
اسرائیلی قیادت، خصوصاً وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے کر نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ بے گناہ انسانوں کے خون کو بھی نظر انداز کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کو انصاف پر فوقیت دی گئی، اس کے نتائج تباہ کن نکلے۔
ایران کے خلاف سخت اقدامات اور مسلسل دباؤ نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، ہمیشہ سے ایک حساس نقطہ رہا ہے۔ اگر یہاں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی خدشات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل کر جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب اندھی طاقت کی سیاست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوامی دباؤ حکومتوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگیں ہمیشہ فوجوں کے درمیان ہونی چاہئیں، مگر جب عام شہری نشانہ بنتے ہیں تو یہ نہ صرف جنگی جرم ہوتا ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم بھی شمار ہوتا ہے۔ بچوں، خواتین اور بے گناہ افراد کا قتل کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں ہو سکتا۔
آج کی دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر صورتحال کو بروقت نہ سنبھالا گیا تو یہ تنازعات ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کی موجودگی اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا ہے۔
ایسے میں ثالثی کی کوششیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ مختلف علاقائی ممالک کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، مگر اصل مسئلہ بڑی طاقتوں کی ضد اور مفادات ہیں۔ جب تک طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح نہیں دی جائے گی، امن ایک خواب ہی رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری ایک واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔ جارحیت کو روکنے، جنگی جرائم کا احتساب کرنے اور متاثرہ ممالک کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ محض بیانات اور قراردادیں اب کافی نہیں رہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تاریخ ہمیشہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون ظالم تھا اور کون مظلوم۔ آج جو فیصلے کیے جا رہے ہیں، وہ آنے والی نسلوں کی تقدیر کا تعین کریں گے۔ اگر دنیا نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو یہ آگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

X