اسلام آباد (سہ پہر) چالیس سال بمقابلہ چند دن: عالمی منافقت کا نوحہ دنیا نے دیکھا کہ ایک قوم نے اپنے نظریے اور خود مختاری کی خاطر چالیس سال تک بدترین معاشی محاصرے اور پابندیوں کا سامنا نہایت جرات اور استقامت سے کیا۔
اسلام آباد (سہ پہر) چالیس سال بمقابلہ چند دن: عالمی منافقت کا نوحہ دنیا نے دیکھا کہ ایک قوم نے اپنے نظریے اور خود مختاری کی خاطر چالیس سال تک بدترین معاشی محاصرے اور پابندیوں کا سامنا نہایت جرات اور استقامت سے کیا۔ ایران پر لگی ان پابندیوں نے اسے جھکنے پر تو مجبور نہ کیا، لیکن جب قدرت نے پانسہ پلٹا اور آج عالمی حالات کے جبر نے دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں کو صرف چند دن کی ابنائے حرمز کی پابندیوں نے دنیا کو توانائی کے بحران کا ذائقہ چکھایا، تو پوری دنیا کی “چیخیں” آسمان تک پہنچ گئیں۔ یہ وہ عالمی منافقت ہے جہاں طاقتور کے لیے قانون الگ اور کمزور کے لیے الگ ہے۔
قرآن کی روشنی میں استقامت اور حق اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں حق پر ڈٹ جانے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے:”اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا…” (سورۃ السجدہ: 30)”بے شک جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ۔”ایران کی چالیس سالہ جدوجہد اس بات کی گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی غیرت کا سودا نہیں کرتی، تو اللہ کی غیبی مدد اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ دوسری طرف، وہ طاقتیں جو دوسروں پر پابندیاں لگا کر انہیں بھوکا مارنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ قرآن کے اس فرمان کی زد میں ہیں:”وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ…” (سورۃ ابراہیم: 42)”اور تم ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو ظالم کر رہے ہیں۔”حدیثِ نبوی ﷺ اور عدل کا پیمانہ
نبی کریم ﷺ نے اس معاشرے کو ہلاکت کی نوید سنائی جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے پیمانے الگ ہوں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
”تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی بڑا (طاقتور) چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اسے سزا دیتے۔” (صحیح بخاری)
آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ ایران پر دہائیوں سے لگی پابندیاں “عالمی امن” کے نام پر جائز قرار دی گئیں، لیکن جیسے ہی ان پابندیوں کا اثر عالمی معیشت اور پیٹرول کی قیمتوں کی صورت میں مغرب تک پہنچا، تو وہی قوانین بوجھ بن گئے۔ یہ دہرا معیار ہی دنیا کی تباہی کا سبب ہے۔:ایران پر سے پابندیاں ختم ہونی چاہئیں یا نہیں؟اسلامی نقطہ نظر سے کسی بھی قوم کا معاشی استحصال کرنا یا اسے بنیادی ضروریات سے محروم کرنا ‘ظلم’ کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر دنیا آج اپنی “چیخوں” کو خاموش کرنا چاہتی ہے، تو اسے ایران سمیت تمام مظلوم قوموں پر سے ناجائز معاشی زنجیریں کھولنی ہوں گی۔دنیا کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پابندیاں کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نفرتوں کا بیج ہیں۔ ایران نے ثابت کیا کہ وہ پابندیوں کا “خوف” نہیں رکھتا، لیکن دنیا نے ثابت کر دیا کہ وہ ان پابندیوں کے نتائج بھگتنے کی “سکت” نہیں رکھتی۔ اب وقت ہے کہ عالمی طاقتیں ضد چھوڑ کر عدل و انصاف کی بنیاد پر معاشی پالیسیاں بنائیں، ورنہ قدرت کا انتقام معیشتوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔