LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) آپریشن غضب للحق ; پاک افواج کےکامیاب فضائی حملےجاری، افغان ڈرون حملے ناکام

اسلام آباد (سہ پہر) آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے کامیاب فضائی حملےجار ی ہیں، افغان ڈرونز حملے افواج پاکستان نے ناکام بنا دیئے ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان نے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملہ کیا، جو اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچے۔ان ڈرونز کو ’سافٹ اور ہارڈ کِل‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے روکا گیا۔ تام ان ڈرونز کے ملبے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور ’ہمیں دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے افغان طالبان کی حکومت چلتی ہےبیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایک طرف افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مظلومیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں تو دوسری طرف، وہ اپنی دہشت گرد پراکسیوں اور ڈرونز کے ذریعے عام شہریوں کو فعال طور پر نشانہ بناتے ہیں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عام ڈرونز تھے اور انھیں الیکٹرانک آلات کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بتایا تھا کہ جمعہ کی شام شہر کے سیکٹر آئی نائن میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ڈی ایس پی انڈسٹریل ایریا سرفراز بٹ کا کہنا ہے کہ ڈرون گرنے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس علاقے میں ضروری کارروائی کر رہی ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے، ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا۔جہاں تباہ شدہ ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شخص زخمی ہوا حملے عوام میں خوف پھیلانے کی افغان طالبان کی ناپاک کوشش ہے، عوام اور مسلح افواج افغانستان پر قابض کرائے کی دہشتگرد ملیشیا کی حقیقت جانتے ہیں۔افغان سرزمین سے دہشتگردوں کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔ افواج دہشتگردی اور اس کی تمام شکلوں کے خلاف ثابت قدمی سے لڑتی رہیں گی ,دوسری طرف اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں منڈلانے والے دو ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کو مار گرایا اور حملہ ناکام بنا دیا حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجہ سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن کچھ دیر کیلئے متاثر ہواجسے فوری بحال کر دیا گیا، سیکورٹی ذرائع نے دونوں مشکوک ڈرون افغانستان آنے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مار گرایا گیاہے، جبکہ افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے جمعہ کی شام فیض آباد کے نزدیک واقع اہم فوجی تنصیب ’حمزہ (کیمپ)‘ کو نشانہ بنایا ہے اور وہاں موجود کمانڈ سینٹر اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں کافی نقصان ہوا ہے۔۔سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا کہ ’اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر آج کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم تمام پروازیں اب معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق شہر کے تین حساس مقامات پر کوہاٹ قلعہ 9 ڈویژن اور کوہاٹ کینٹ کے اندر ڈرونز سے حملے افواج پاکستان نے ناکام بنا کر ڈرونز مار گرا دیئے گئے ۔ حملوں میں تین افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں سی ایم ایچ کوہاٹ منتقل کیا گیا۔
علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق کوہاٹ شہر کے حساس اور شہری علاقوں میں افغان اور انڈین پراکسی کی جانب سے ڈرون حملے ناکام بنا دئیے گئے، حملوں میں تین افراد زخمی ہوئےجبکہ ڈرونز کو بھی مار گرا دئیے گئے، چوتھا حملہ اور دھماکہ بھر دوبارا کوہاٹ قلعہ پر ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ڈرون حملے ہوتے ہی شہر میں ایمرجنسی سائرن بجتے رہے، سکیورٹی مزیدسخت کر دی گئی، علاوہ ازیں لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہوگئے، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف اوروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں شہید ہونے والے ایس ایچ او اور پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کا اظہارکیا۔ علاوہ ازیں دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فضائیہ نے کابل، پکتیا اور قندھار میں حملہ کرکے طالبان رجیم کے تربیتی کیمپ ، قندھار ایئرفیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اور ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر تباہ کر دیئے گئے، آپریشن کے دوران اب تک آپریشن کے دوران663دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں منڈلانے والے دو یو اے وی کو فضائی دفاع نے جمعے کو مار گرایا سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں حمزہ کیمپ کے کے اوپر دو ڈرون منڈلا رہے تھے جنہیں ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کیلئے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو روکے جانے کے بعد اسلام آباد کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہے۔سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا کہ ’اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر آج کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم تمام پروازیں اب معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔ ادھر کوہاٹ شہر کے حساس اور شہری علاقوں میں افغان اور انڈین پراکسی کی جانب سے ڈرون حملے ناکام بنا دئیے گئے۔ حملوں میں تین افراد زخمی ہوئےجبکہ ڈرونز کو بھی مار گرا دئیے گئے۔ڈی پی او کوہاٹ شہباز الٰہی اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق شہر کے تین حساس مقامات پر کوہاٹ قلعہ 9 ڈویژن اور کوہاٹ کینٹ کے اندر ڈرونز سے حملے افواج پاکستان نے ناکام بنا کر ڈرونز مار گرا دیئے گئے ۔ حملوں میں تین افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں سی ایم ایچ کوہاٹ منتقل کیا گیا۔پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گرد ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،ان حملوں میں پاک افواج نےافغانستان کے دارالحکومت کابل میں 313 کور کے انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ قندھار ایئر فیلڈ کی آئل ڈمپ سائٹس پر 13 مارچ کی شب پاک فوج کے حملوں کی ویڈیو جاری کردی گئی جس میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔پاک فوج نے قندھار ایئر فیلڈ آئل اسٹوریج سائٹس کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کر دیا، یہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دہشتگرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں تراوو دہشت گرد کیمپس کو کامیابی سے نشانہ بنا یا گیا موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کیاگیا,ایک اور فضائی حملے کے دوران صوبہ پکتیا میں شیرِناؤ دہشت گرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تاڑ نے آپریشن غضب للحق پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے فتنہ خوارج اور افغان طالبان کے نقصانات کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق میں اب تک 663 فتنہ خوارج و افغان طالبان کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ آپریشن غضب للحق میں اب تک 887 سے زائد فتنہ خوارج و افغان طالبان زخمی ہوئے ہیں۔وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن غضب للحق میں اب تک 249 چیک پوسٹیں تباہ اور 44 چیک پوسٹیں قبضے میں لے کر تباہ کر دی گئیں, آپریشن میں اب تک 224 ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ کیے جا چکے ہیں افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے 70 مقامات کو فضائی کاروائیوں میں نشانہ بنایا گیا، 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشتگردوں اور ان کی لاجسٹک بیسز اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا آپریشن غضب للحق میں کسی بھی شہری آبادی یا سول انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ افغان عبوری حکومت کے بعض عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
جمعہ کی صبح افغان طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں فوجی چھاؤنی کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔ وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ کوہاٹ چھاؤنی پر ڈرون حملہ گذشتہ رات کی گئی پاکستانی بمباری کے جواب میں کیا گیا ہے۔جمعہ کی صبح کوہاٹ میں یکے بعد دیگرے تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ کوہاٹ پولیس کی خصوصی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے جام کر دیا تھا۔ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کے سگنلز جام کیے گئے جس کے بعد موٹر بند ہونے سے ڈرون زمین پر گر گیا۔
اُدھر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سرہ غوڑ گئی میں بھی ایک ڈرون گرنے سے دو بچیاں زخمی ہو گئی ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ کلی ملاخیل میں ایک گھر پر ڈرون گرنے سے مکان کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا اور ملبے تلے آ کر دو بچیاں زخمی ہوئیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جاری تنازع اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ افغانستان اور اسلام آباد میں طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ پاکستانی طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں اور پاکستان کے اندر ان کے بڑھتے ہوئے مہلک حملے ہیں۔ بظاہر یہ مسئلہ اس نہج پر پہنچ گیا کہ اس نے پاکستان کو افغانستان میں فضائی حملے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کابل میں طالبان حکومت ’مسلح گروپوں کی سرگرمیوں کو روکے، خاص طور پر پاکستانی طالبان تحریک، جو افغان سرزمین پر پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر انھیں سرحد پار پاکستان میں اہداف کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ تاہم کابل میں طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’ہم کسی کو بھی افغان سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیتے۔
دوسری جانب اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اس نے بین الاقوامی اداروں کو ثبوت فراہم کیے ہیں کہ پاکستانی طالبان تحریک کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے کچھ افغان صوبوں جیسے کنڑ، ننگرہار اور پکتیکا میں سرگرم ہیں اور وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔کابل کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان کے متعدد پناہ گزین خاندانوں کو سرحدی علاقوں سے افغانستان کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا ہے، جو 2014 میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ کابل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی طالبان اور اسلام آباد کے درمیان کم از کم دو بار ثالثی کی کوشش کی ہے۔ لیکن مذاکرات کی ناکامی اور پاکستان میں حملوں میں اضافے سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد ختم ہو گیا ہے۔خیال رہے کہ طالبان کی حکومت دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد پاکستانی طالبان کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور دوسری طرف دونوں گروپوں کے درمیان نظریاتی اور تاریخی تعلقات ہیں جنھیں توڑنا طالبان حکومت کے لیے آسان نہیں۔جب پاکستان نے گزشتہ سال 9 اکتوبر کو پکتیکا میں فضائی حملہ کیا، تو سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے رہنما نور ولی محسود کو ختم کرنا تھا۔
ان دعوؤں کے بعد، ٹی ٹی پی نے پہلے مسٹر محسود کی ایک آڈیو ریکارڈنگ اور پھر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انھوں نے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور پاکستان میں ہیں,2009 اور 2018 کے درمیان، افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ پاکستانی طالبان کے تین رہنما: بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود ، اور ملا فضل اللہ امریکی فضائی حملے میں مارے گئے، جس کے بعد نور ولی محسود کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔نور ولی محسود اور افغانستان کی کہانی تین دہائی قبل شروع ہوئی تھی۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں، طالبان کی پہلی حکومت کے دوران، وہ شمالی افغانستان میں طالبان مخالف گروپ ’شمالی اتحاد‘ کے خلاف لڑے تھے۔ کچھ عرصے بعد وہ اپنے ملک واپس آ گئے اور چند سال بعد پاکستانی طالبان کے ساتھ اسلام آباد کے خلاف ایک اور جنگ میں حصہ لیا۔پاکستانی طالبان کے رہنما نور ولی محسود اور ان سے پہلے تین دیگر رہنماؤں نے پاکستانی حکومت کے خلاف تحریک کی لڑائی کو ’دفاعی جہاد‘ قرار دیا۔اپنی کتاب ’دی محسود ریوولوشن ساؤتھ وزیر ستان: فرام برٹش رول ٹو امیریکن کولونائزیشن‘ میں لکھا ہے: ’قبائل (وزیرستان میں) القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن امریکہ کی درخواست پر، پاکستانی فوج نے 2001 کے بعد قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیا، جو قبائلی مہمان نوازی کے روایتی اصول سے متصادم تھا اور یہیں سے جنگ کا آغاز ہوا۔‘ دوسری جانب پاکستانی حکومتوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انھوں نے 20 سالہ امریکی موجودگی کے دوران افغان طالبان کو پناہ گاہیں اور مدد فراہم کی۔پاکستانی اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات دسمبر 2007 میں پاکستانی طالبان تحریک کے باضابطہ قیام سے پہلے شروع ہوئے تھے۔حریک کا ابتدائی گروپ ان پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل تھا جو 1990 کی دہائی کی جنگوں میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر لڑے تھے۔ 2001 میں طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے اور افغانستان سے ان کی پسپائی کے بعد ان پاکستانی جنگجوؤں نے متعدد افغان طالبان کو قبائلی علاقوں میں پناہ دی۔ افغان طالبان نے ان محفوظ ٹھکانوں سے امریکی افواج اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اتحاد کے خلاف افغانستان میں اپنی جنگ کا آغاز کیا۔

اپنی کتاب میں، نور ولی محسود نے سابق پاکستانی وزیر اعظم اور ممتاز سیاستدان بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستانی فوج کی کارروائیوں نے ان کی سرگرمیاں شدید حد تک محدود کر دیں اور انھیں افغانستان کی سرحدوں تک پہنچا دیا۔ پاکستانی طالبان کے رہنما کے طور پر مقرر ہونے کے بعد، محسود نے تحریک کو ایک مرکزی تنظیم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جو افغان طالبان کے طریقے سے کام کرے گی ان کوششوں کے نتیجے میں اگست 2020 سے اب تک تقریباً 80 چھوٹے اور بڑے گروپ پاکستانی طالبان تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔ تاہم، افغان جنگ پر افغان طالبان کی اجارہ داری کے برعکس، پاکستانی طالبان تحریک کا حکومت مخالف مسلح گروہوں پر مکمل کنٹرول نہیں ہے، اور محسود کی کوششوں کے باوجود، کئی اہم گروپ اب بھی آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے اپنے متوازی ڈھانچے کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی طالبان تحریک کے اندر مرکزی قیادت اور سابقہ ​​بااثر گروپ جماعت الاحرار کے درمیان تنازعات موجود ہیں۔‘نور ولی محسود نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی طالبان کی تحریک ابھی قائم نہیں ہوئی تھی، بیت اللہ محسود نے افغان طالبان کمانڈروں ملا داد اللہ اور اختر محمد عثمانی کی درخواستوں کی بنیاد پر ’فدائین‘ (خودکش بمباروں) کو بھرتی کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اس وقت محسود قبیلے کے بہت سے نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر کام کیا اور 2005 میں قندھار میں پہلے دو خودکش بمبار اسی قبیلے کے افراد تھے۔ نیوز ایجنسی نے 2005 میں ملا داد اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ طالبان گروپ نے امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے ’200 سے زائد رضاکار خودکش بمبار‘ تیار کیے تھے۔ور ولی محسود کا دعویٰ ہے کہ 700 سے 800 قبائلی افراد خودکش حملوں میں یا افغان جنگ کے اگلے مورچوں میں ہلاک ہوئے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان طالبان قبائلی علاقوں میں بعض افغان طالبان کو پناہ دینے اور اپنے لیڈر ’امیر المومنین‘ سے بیعت کرنے پر خود کو پاکستانی طالبان کا مقروض سمجھتے ہیں۔30 اگست 2007 کو جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے عسکریت پسندوں نے 100 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو پکڑ لیا۔اگرچہ اس وقت لڑائی زیادہ تر پاکستانی فریقوں کے درمیان تھی لیکن اس واقعے کا فائدہ افغان طالبان کو ہوا جو پاکستانی جیلوں میں تھے۔طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا خلیل الرحمان حقانی نے 2024 میں شمشاد ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’چار سال‘ سے پاکستانی جیل میں تھے۔اسی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی رہائی کے لیے شرط یہ رکھی گئی تھی کہ پاکستانی جیلوں سے 33 افراد کو رہا کیا جائے۔ان افراد میں خلیل الرحمان حقانی، سراج الدین حقانی کے بھائی نصیر الدین حقانی، ان کے ماموں مالی خان کے علاوہ افغان طالبان کے ایک سرکردہ کمانڈر اختر محمد عثمانی کے دو بھائی بھی شامل تھے۔یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان افراد کو رہا کر دیا گیا۔ 10 دسمبر 2024 کو افغان کابینہ کے سینیئر رُکن اور اہم طالبان رہنما خلیل الرحمان حقانی دارالحکومت کابل میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری عالمی شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کی مقامی شاخ ’داعش خراسان‘ نے قبول کی۔لیکن دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً دو دہائیوں سے تعلقات مستحکم نہیں ہیں۔ 2014 کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ سرگرمیوں کی سطح بتدریج کم ہوئی اور بعض صورتوں میں مکمل طور پر رک گئی، کیونکہ پاکستانی طالبان کے کئی گروپ قبائلی علاقوں سے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں داخل ہوئے۔ اطلاعات تھیں کہ ان میں سے کچھ گروپوں نے اس وقت کی افغان حکومت کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے تھے، جس کے تحت انھیں افغان سرزمین پر آباد ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، یہ گروپ اب کھل کر افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ تاہم، دونوں تحریکوں کے درمیان عمومی تعلقات اب بھی برقرار ہیں اور کوئی نظریاتی یا تنظیمی توڑ نہیں ہےپاکستانی طالبان جنگجوؤں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹوں میں بھی مختلف اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، 2010 کی دہائی میں اس گروپ میں جنگجوؤں کی تعداد کا تخمینہ 30,000 سے 35,000 تھا، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کمیٹی کی جولائی 2025 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستانی طالبان کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو ہیں۔پاکستان پیس سٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد سے پاکستان میں پاکستانی طالبان تحریک کے حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔طالبان حکومت کے قیام سے پہلے پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن اب اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ طالبان حکومت اور پاکستانی طالبان تحریک کے درمیان کیا تعلقات ہیں؟طالبان حکومت نے پاکستانی طالبان رہنماؤں اور افغانستان میں خفیہ ٹھکانوں کی موجودگی کے دعوؤں کی مسلسل تردید کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے معاہدوں پر قائم ہے اور کسی گروپ کو افغان سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔حالیہ جھڑپوں کے بعد، افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پاکستانی حکومت کے ’ایک مخصوص حلقے‘ پر دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھیں پاکستانی عوام اور حکومت کی اکثریت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں پاکستانی طالبان تحریک کے رہنما نور ولی محسود کو ایک مسجد میں اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ’پاکستانی طالبان امارت اسلامیہ افغانستان کی ایک شاخ ہے؛ دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے ہیں۔‘افغانستان میں گذشتہ چار سالوں میں پاکستانی طالبان تحریک کے کم از کم دو کمانڈروں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ عمر خالد خراسانی، گروپ کے بانیوں میں سے ایک (صوبہ پکتیا میں 8 اگست 2022) اور یاسر، جسے ’پیرکی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے (قندھار میں 23 اگست 2022)ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ’پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی‘ کی 35ویں رپورٹ میں ایک رکن ملک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی طالبان تحریک نے کنڑ، ننگرہار، خوست، اور پکتیکا صوبوں میں نئے تعلیمی اور تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔افغانستان میں طالبان کی حکومت نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رہنما کا مؤقف ہے کہ اس کے ارکان کو دوسرے ممالک میں ’جہاد‘ کے لیے نہیں جانا چاہیے اور وہاں جنگ نہیں کرنی چاہیے۔
مئی 2025 میں، طالبان کے ایک سینئر سرکاری اہلکار نے کابل میں پولیس کی گریجویشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ’جہاد‘ کے لیے بیرون ملک نہیں جانا چاہیے کیونکہ ’امیر نے حکم دیا ہے کہ ان کے لیے ملک سے باہر کوئی جہاد نہیں کیا جائے گا۔اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، افغان طالبان نے کابل میں پاکستانی طالبان تحریک اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کے کم از کم دو دور کی میزبانی کی۔ یہ میزبانی اس بات کی علامت تھی کہ افغان طالبان اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ پاکستانی طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ کوششیں بے نتیجہ رہیں طالبان حکومت کو ایک بار پھر وہی بڑی غلطی کا سامنا ہے جو اس نے اپنے پہلے دور میں کی تھی۔اس کارروائی کی وجہ سے طالبان کی پہلی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اب جب کہ افغانستان پاکستانی طالبان کی میزبانی کر رہا ہے، یہ مسئلہ تشدد کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی ذرائع ابلاغ کے پردے سے اوجھل ہو جانے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاحال جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک کی کارروائیوں میں پاکستان نے افغان طالبان کے پانچ سو سے زائد جنگجو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔‘پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان نے افغان طالبان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ انھیں پاکستان یا دہشت گرد تنظیموں کے درمیان ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔’انتہائی واضح، نمایاں اور قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان طالبان کو یہ انتخاب کرنا ہو گا۔‘ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان بارہا افغان طالبان سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کرے اور ان کے خلاف عملی اقدامات کرے جو نظر بھی آئیں اور قابل تصدیق بھی ہوں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔افغان طالبان حکومت کے مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور افغان سر زمین پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی کارروائیوں میں استعمال ہو چکی ہے جن میں بے شمار عام افراد اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے دوست ممالک کے ثالثوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مسائل کا حل نکالا جائے تاہم اس کا فائدہ نہیں ہوا۔پاکستان کا افغانستان یا افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے ’اور افغانستان کے اندر ہمارے اہداف دہشت گردوں کی تنصیبات اور ان کے سپورٹ سسٹمز ہیں جو انتہائی واضح انٹیلیجنس کی بنیاد پر چنے گئے ہیں پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ افغانستان کے خلاف جاری کارروائیاں اس ہی کوشش کی ایک کڑی ہیں جن کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔

X