اسلام آباد (سہ پہر) عالمی چیلنجز ;مؤثر حکمرانی کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا، اسپیکر سردار ایاز صادق
اسلام آباد (سہ پہر)، ؛ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے پلینری سیشن بعنوان “مؤثر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے لیے پارلیمنٹ کا استحکام” سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط پارلیمنٹ ہے اور پاکستان کو بدلتی عالمی صورتِ حال میں اپنے ریاستی و جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ یہ دو روزہ فورم وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی حکمرانی کے روایتی ڈھانچوں کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی پارلیمانی اور انتظامی صلاحیتیں مضبوط کر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اسپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت انتظامی و مالی اختیارات کو شخصی صوابدید سے نکال کر کثیر الجماعتی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جس سے شفافیت اور اجتماعی نگرانی کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ، جدید مہارتوں کا فروغ اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کارکردگی میں بہتری آئی۔ ان اصلاحات سے سالانہ تقریباً 140 ملین روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مقدمات میں کمی کے باعث مزید مالی بچت بھی ممکن ہوئی۔ سپیکر نے بتایا کہ مالی نظم و ضبط کو مضبوط کر کے انٹرنل آڈٹ اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا، جس سے مالی سال 2024-25 میں 3.172 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آرگینوگرام کے نفاذ سے اقربا پروری کی جگہ پیشہ ورانہ معیار آیا، بروقت ترقیوں کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہوا، جبکہ کلیدی کارکردگی اشاریے اور تربیتی پروگرامز سے سیکرٹریٹ کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ای سیکرٹریٹ کے نفاذ سے فائلنگ، پروکیورمنٹ، وزیٹر مینجمنٹ اور سکیورٹی کے تمام عمل الیکٹرانک ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015 سے شمسی توانائی استعمال کر کے دنیا کی پہلی سو فیصد گرین پارلیمنٹ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ مضبوط قانون سازی بھی اس کی بنیاد ہے۔ پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے لیے متعدد قوانین مضبوط کیے؛ رائٹ ٹو انفارمیشن نے شہریوں کو نگرانی کا اختیار دیا جبکہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ نے مالیاتی نظم کو مؤثر بنایا کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کیں، جس سے بجٹ پارلیمانی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پارلیمانی نگرانی آئینی ذمہ داری ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی فعال کارکردگی سے واضح پیغام جاتا ہے کہ کوئی اختیار بلا نگرانی نہیں۔ خواتین، بچوں، نوجوانوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق پارلیمانی فورمز سے پالیسی سازی میں شمولیت کو وسعت دی گئی ہے، اور نوجوانوں کو پروگرامز، انٹرن شپس اور عوامی رابطہ اقدامات کے ذریعے جمہوری عمل سے جوڑا جا رہا ہے۔ عالمی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ دنیا گہرے تغیر کے مرحلے سے گزر رہی ہے، مصنوعی ذہانت معیشت اور سیاست کو نئی شکل دے رہی ہے، لیکن ضابطہ جاتی ڈھانچے پیچھے ہیں اور اخلاقی سوالات بڑھ رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو عالمی معیارات میں مؤثر آواز کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے اور پارلیمانوں کو ڈیٹا تحفظ، ڈیجیٹل حقوق اور ذمہ دارانہ جدت سے متعلق قانون سازی کی صلاحیت مضبوط کرنی ہوگی، ورنہ عدم مساوات بڑھے گی، جبکہ دانشمندانہ قانون سازی نئے مواقع کھول سکتی ہے۔ اسپیکر نے پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی پارلیمانی فورمز میں فعال شرکت سے پاکستان کی جمہوری شناخت اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستحکم پارلیمنٹ، مضبوط جمہوریت اور مؤثر حکمرانی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں اور قومی اداروں کی مضبوطی ہی عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کرے گی۔