اسلام آباد (سہ پہر) اڑان پاکستان پروگرام ; معاشی استحکام سے پائیدار ترقی
اسلام آباد (سہ پہر)پاکستان کا معاشی سفر اب استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو رہا ہے، جہاں کلی معیشت کے بنیادی اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ کا متوازن ہونا، اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے، جس کے بعد حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو (GDP) کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر طویل المیعاد ترقی میں بدلنے کے لیے حکومت عالمی بینک جیسے اداروں کے تعاون سے گہری ساختی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت گندم اور چینی جیسی بنیادی اجناس کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کر کے نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹ میں صحت مند مسابقت پیدا ہو، جبکہ ‘اڑان پاکستان’ جیسے پروگراموں کے ذریعے ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان مثبت پیش رفتوں کے باوجود ترقی کی یہ راہ اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے خالی نہیں ہے۔ ملک کے اندر سیاسی دھرنے، ہڑتالیں اور احتجاج معیشت کو روزانہ اربوں روپے کا بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ بیرونی خطرات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ استحکام نے ملک کو سنبھلنے کا موقع ضرور دیا ہے، لیکن حقیقی ترقی کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، نجی شعبے کو آگے لانا اور سخت معاشی فیصلوں کا تسلسل برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ عالمی بینک 670 ملین ڈالر کے مالیاتی پروگرام کو ایسی اصلاحات سے مشروط کر رہا ہے، جن میں ایکسپورٹ/امپورٹ آرڈر 2022 سے گندم اور چینی کو خارج کرنا، یوریا کی درآمد میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا اور سرمایہ کاری و تجارت کی راہ میں حائل ضابطہ جاتی رکاوٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں اس ربط کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اتحادی ممالک کے ساتھ امریکہ کے بڑے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے بلند محصولات عائد کرنے کی خاطر عالمگیریت کو ترک کررہی ہے جبکہ مخالف ممالک پر پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں۔
یورپی یونین اب ماضی کی طرح ایک اقتصادی طاقت کے بجائے ایسے اتحاد کے طور پر سامنے آئی ہے جو روس کے ساتھ اپنی تاریخی دشمنی کو اخراجات کی ترجیحات کا تعین کرنے دے رہا ہے۔ خاص طور پر محدود مالی وسائل کو سماجی اور پیداواری شعبوں پر خرچ کرنے کے بجائے فوجی سازوسامان جمع کرنے پر صرف کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور اس کے آثار آج یورپ کے کئی دارالحکومتوں میں نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب مغرب قرضوں کے بحران سے دوچار ہے جس نے عالمی قیادت برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ نے مؤثر طور پر پیٹرو ڈالر کے دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت خلیجی ممالک امریکی ٹریژری بانڈز خریدتے تھے، جس سے امریکہ کو مالیاتی منڈیوں سے انتہائی کم شرح پر قرض حاصل کرنے میں مدد ملتی تھی۔
اس کے علاوہ یورپی یونین نے یوکرین کے لیے مزید 70 ارب یورو قرض لیا ہے۔ یہ فرض کیا جا رہا ہے کہ جنگ میں روس کی شکست کے بعد یہ رقم روس سے وصول کر لی جائے گی حالانکہ زمینی حقائق واضح طور پر اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں۔
عالمی نظام میں واضح طور پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر یہ بات حیران کن ہے کہ عالمی بینک کی ٹیم، دیگر کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر، پاکستان جیسے مقروض ممالک پر ایسی شرائط مسلط کرنے پر بدستور اصرار کر رہی ہے جو موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان شرائط پر مذاکرات کرنے والے نمائندے انہیں چیلنج نہیں کررہے۔
عالمی بینک 2022 کے آرڈر سے گندم اور چینی کو خارج کرکے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر بھی زور دے رہا ہے، حالانکہ یہ آرڈر حکومت کو ان دونوں اہم اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کی نگرانی اور قلت یا اضافی رسد کی صورت میں مناسب تدارکی اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی اور حال کی حکومتیں اس بات کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہیں کہ آیا واقعی کسی شے کی قلت موجود ہے یا نہیں۔ اکثر ایسی صورتوں میں بھی برآمدی سبسڈی دے دی جاتی ہے جب سرے سے اضافی ذخائر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ماضی میں ایسے فیصلے بھی کیے گئے جن کے تحت نجی شعبے کو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن سے زیادہ قیمت ادا کرکے اسی شے کو دوبارہ درآمد کرنا پڑا۔
پاکستان میں آزاد منڈی کا نظام رائج نہیں ہے بلکہ یہاں مخصوص تجارتی تنظیموں کے قیام کے ذریعے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ اور بالادستی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ تنظیمیں اپنے ارکان کے مالی مفادات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے اپنے نمایاں سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی کسانوں کے بجائے آڑھتیوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں، جو چھوٹی سطح پر اجارہ داروں کی طرح کام کرتے ہیں۔
عالمی بینک کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا، جسے 2023 کے وسط میں اعلیٰ ترین سطح پر اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، تمام انتظامی رکاوٹیں دور کرنے اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے ازالے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اب تک اس کی کامیابی محدود رہی ہے، تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار بحال ہونے کے ساتھ ایس آئی ایف سی کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔
لہٰذا، کثیرالجہتی مالی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں پر خود بھی عمل کریں جن کی پاسداری کا مشورہ وہ اپنے معاونت کے طلب گار رکن ممالک کو دیتے ہیں۔ انہیں اپنے اداروں میں طرزِ حکمرانی کی اصلاحات متعارف کرانی چاہییں، خواہ اس مقصد کے لیے موجودہ عملے کو بدلتے ہوئے عالمی نظام سے ہم آہنگ ہونے کی تربیت دی جائے یا انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی پیشکش کرکے ایسے افراد بھرتی کیے جائیں جو عالمی تبدیلیوں کی نوعیت اور سمت سے پوری طرح آگاہ ہوں۔
مزید برآں، پاکستان جیسے امداد کے طلب گار ممالک کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ مذاکرات کے لیے ایسے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے جو بدلتے عالمی حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور مستقبل کی سمت کا درست ادراک رکھتے ہوں۔ اُڑان پاکستان” وزارتِ منصوبہ بندی اور حکومتِ پاکستان کا ایک جامع پانچ سالہ قومی معاشی تبدیلی کا منصوبہ (2024-2029) ہے جس کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔ اس دور رس منصوبے کا طویل المیعاد وژن 2035 تک پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا اور 2047 تک دنیا کی پہلی 10 بڑی معیشتوں میں شامل کرنا ہے، اور یہ پورا پروگرام “5Es” یعنی پانچ کلیدی ستونوں کے فریم ورک پر استوار ہے۔
اس منصوبے کا پہلا بڑا مقصد برآمدات میں اضافہ (Exports) ہے، جس کے تحت ملکی برآمدات کو بڑھا کر 50 سے 60 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنا کر بیرونی قرضوں پر ملکی انحصار کا مستقل خاتمہ کیا جا سکے۔ دوسرا اہم پہلو ڈیجیٹل پاکستان (E-Pakistan) ہے جس کا ہدف آئی ٹی اور فری لانسنگ کی برآمدات کو 5 ارب ڈالر تک لے جانا ہے تاکہ ملک میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر نوجوانوں کے لیے علم پر مبنی ٹیکنو-اکانومی تشکیل دی جا سکے۔
اس فریم ورک کا تیسرا ستون ماحول اور موسمیاتی تبدیلی (Environment & Climate Change) ہے، جس کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد تک کمی لانے، ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المیعاد توازن کے ساتھ ساتھ پانی اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے مقاصد شامل ہیں۔ چوتھا اہم مقصد توانائی اور انفراسٹرکچر (Energy & Infrastructure) ہے، جس کا ہدف صنعتی ترقی کو سہارا دینے کے لیے سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کرنا اور بجلی پیدا کرنے کے ملکی نظام میں قابلِ تجدید توانائی (Renewable Power) کا حصہ 10 فیصد تک بڑھانا ہے۔
منصوبے کا پانچواں اور آخری ستون مساوات اور بااختیار بنانا (Equity, Ethics & Empowerment) ہے، جس کے تحت غریب طبقے کی آمدنی میں بہتری لا کر غربت کی شرح میں کم از کم 13 فیصد تک کمی کرنے کا ہدف ہے تاکہ سماجی انصاف کو فروغ دے کر پسماندہ طبقات بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکے۔ حکومت جیو-اکانومکس کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھ کر اس پروگرام کے تحت مائنز، منرلز اور زراعت کے شعبوں میں نجی اور بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے کوشاں ہے۔ “ای پاکستان” (E-Pakistan) فریم ورک کا مقصد پاکستان کو ایک جدید، نالج بیسڈ ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کرنا ہے، جس کے تحت آئی ٹی برآمدات کو اگلے چند سالوں میں 5 سے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق اس وقت ملک میں 6 لاکھ 25 ہزار سے زائد آئی ٹی ورکرز اور 3 لاکھ سے زیادہ فعال فری لانسرز موجود ہیں، جن کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملکی معیشت کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
اس حکمتِ عملی کے پہلے بڑے حصے میں انسانی سرمائے کی ترقی اور فری لانسنگ کا فروغ شامل ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی تربیت دینے کے لیے نیشنل انکیوبیشن سینٹرز (NICs) کا جال بچھایا جا رہا ہے جہاں اب تک 1300 سے زائد اسٹارٹ اپس کو سپورٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ ‘DigiSkills.pk’ جیسے بڑے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں تاکہ وہ گھر بیٹھے ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما سکیں۔
دوسرا اہم پہلو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ہے، جس کے لیے ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی، 5G ٹیکنالوجی کے اجراء، کلاؤڈ فرسٹ پالیسی (Cloud First Policy)، اور ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک پر کام جاری ہے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) پیدا کی جا سکے، آئی ٹی کمپنیوں کے لیے آپریشنل رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے، اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ٹیک انڈسٹری کی طرف راغب کیا جا سکے۔
اس فریم ورک کا تیسرا ستون ای گورننس اور سرکاری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن ہے، جہاں سرکاری اداروں میں شفافیت لانے، کرپشن کے خاتمے اور عوامی خدمات کی تیز ترین فراہمی کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کے تحت 180 سے زائد منصوبوں پر کام ہو رہا ہے تاکہ حکومتی کاغذی کارروائی کو ڈیجیٹلائز کر کے پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مکمل طور پر پیپر لیس اور شفاف بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی موجودہ صورتحال تیز رفتار تبدیلی اور اہم اصلاحات کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں انٹرنیٹ روابط اور حکومتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن میں نمایاں پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی حالیہ پالیسیوں اور عالمی اداروں کے تعاون کی بدولت ملک کے بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی اور صنعتی نمو کو تیز کیا جا سکے۔
ملک نے حال ہی میں اپنے ٹیلی کام سیکٹر کی تاریخ کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامی کامیابی سے مکمل کی ہے جس کے بعد پہلے فیز کے تحت ملک کے 24 بڑے شہروں، بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور لاہور میں 1,700 سے زائد سائٹس پر ابتدائی 5G سروسز کا تجربہ شروع کیا جا چکا ہے جہاں اوسط انٹرنیٹ اسپیڈ 130 Mbps تک ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ پی ٹی اے (PTA) کے کمرشل رول آؤٹ پلان کے مطابق اگلے مرحلے میں اسے مزید صنعتی زونز اور سیکنڈری شہروں تک پھیلایا جائے گا۔ تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے اب تک 2 لاکھ 34千 کلومیٹر سے زائد طویل آپٹیکل فائبر کیبل (OFC) کا جال بچھایا جا چکا ہے اور حکومت نے صوبوں کی مشاورت سے ‘رائٹ آف وے’ (Right-of-Way) چارجز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو سالوں میں ملک کی اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں لگ بھگ 68 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی بینک کے 78 ملین ڈالر کے تعاون سے جاری ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (DEEP) کے تحت پاکستان نے اپنے نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر (NDEL) کو مربوط کر دیا ہے جہاں نادرا (NADRA) کے ‘PakID Vault’ اور پاک ایپ (Pak App) کے ذریعے اب شہریوں کے شناختی کارڈ، لائسنس اور دیگر سرکاری دستاویزات ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستیاب ہیں، جبکہ پنجاب میں انٹرنیٹ اور کیش لیس پیمنٹس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے 70 ملین ڈالر کا ‘کنیکٹڈ پنجاب’ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے جو 2031 تک کروڑوں لوگوں کو ڈیجیٹل پبلک سروسز فراہم کرے گا۔ تاہم، ڈیجیٹل رابطوں اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی پاکستان کو سائبر حملوں، منظم پراپیگنڈے اور ڈیٹا کی حفاظت جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے مطابق ملکی اہم معلوماتی انفراسٹرکچر کا تحفظ اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا سیکیورٹی فریم ورک کو مزید سخت بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
معاشی استحکام کو پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا پاکستان کا سب سے بڑا موجودہ ہدف ہے، جس کے لیے حکومت کلی معیشت کے حاصل شدہ استحکام کو نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے جوڑ رہی ہے۔ معاشی ماہرین اور حکومتی حکام کے مطابق، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری جیسے اقدامات صرف بنیادی گنجائش فراہم کرتے ہیں، لیکن جب تک ان اعداد و شمار کو نئی صنعتوں کے قیام اور روزگار کی فراہمی میں نہیں بدلا جاتا، عام آدمی تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ سکتے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے درج ذیل کلیدی حکمتِ عملیوں پر کام کیا جا رہا ہے: ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے “اُڑان پاکستان” پروگرام کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، اور مائنز و منرلز جیسے شعبوں میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا رہا ہے، کیونکہ سرکاری شعبے کے بجائے نجی شعبہ ہی روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے میں “ای پاکستان فریم ورک کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں اور فری لانسنگ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں روزگار حاصل کر کے قیمتی زرِ مبادلہ کما سکیں اور آئی ٹی کی برآمدات کو 5.5 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی عالمی بینک کے تعاون سے جاری ساختی اصلاحات کے تحت کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے، تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار بلا جھجھک پاکستان میں کارخانے اور نئی کمپنیاں قائم کر سکیں جس سے مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبوں میں نئی اسامیاں پیدا ہوں گی۔ توانائی کے شعبے میں سستی اور قابلِ تجدید بجلی کی فراہمی پر کام ہو رہا ہے تاکہ صنعتی لاگت کم ہو، ملکی برآمدات مسابقتی بنیں، اور کارخانے بند ہونے کے بجائے چوبیس گھنٹے چلیں جس سے موجودہ ملازمین کا روزگار محفوظ رہے اور نئے مواقع بھی سامنے آئیں۔