LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کی کمانڈ میں 12 ربیع الاول سیکیورٹی آپریشن: پیشگی تیاری، مربوط کمانڈ اور مکمل آپریشنل ریڈینس کی کامیاب مثال

اسلام آباد (سہ پہر) 12 ربیع الاول کے موقع پر ضلع اٹک بالخصوص حسن ابدال میں سیکیورٹی انتظامات محض ایک روایتی ڈیوٹی پلان نہیں تھے بلکہ ایک منظم آپریشنل سیکیورٹی فریم ورک کے تحت مکمل کیے گئے، جس کا بنیادی مقصد مذہبی اجتماعات کو محفوظ بنانا، امن و امان کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کے خلاف پیشگی حفاظتی حصار قائم کرنا تھا۔

اس پورے آپریشن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول، فیلڈ مانیٹرنگ، سچویشنل اویئرنیس، انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن اور ریپڈ رسپانس کو بنیادی ستون کی حیثیت حاصل رہی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کی براہِ راست نگرانی نے سیکیورٹی ڈسپوزیشن کو محض کاغذی منصوبہ بندی کے بجائے گراؤنڈ لیول پر ایک فعال اور مربوط آپریشن میں تبدیل کیا۔

12 ربیع الاول سے قبل ڈی پی او اٹک نے ڈپٹی کمشنر اٹک مدثر احمد شاہ کے ہمراہ حسن ابدال کا فیلڈ وزٹ کیا۔ اس موقع پر مرکزی جلوس کے روٹ، حساس مقامات، داخلی و خارجی راستوں، پولیس پکٹس، ٹریفک ڈسپوزیشن اور مجموعی سیکیورٹی پوسچر کا جائزہ لیا گیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن اٹک زینب ایوب، ایس ڈی پی او حسن ابدال اور دیگر متعلقہ افسران کی موجودگی نے فیلڈ کمانڈ کو مزید مربوط بنایا۔

اس دورے کی اہمیت صرف معائنہ تک محدود نہیں تھی۔ اسے سیکیورٹی پلان کی گراؤنڈ ویلیڈیشن قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک مؤثر کمانڈ وہی ہوتی ہے جو فائلوں اور بریفنگ رومز سے نکل کر زمینی صورتحال کو خود دیکھے، ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرے اور فیلڈ کمانڈرز کو واضح، قابلِ عمل اور بروقت ہدایات جاری کرے۔ ڈی پی او اٹک کی کمانڈ اپروچ میں یہی پہلو نمایاں رہا۔

سیکیورٹی ڈسپوزیشن میں بنیادی ترجیح پری ایمپٹو سیکیورٹی کو دی گئی، یعنی کسی واقعے کے رونما ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی اور ان کے سدباب کے لیے حفاظتی اقدامات کو پہلے ہی فعال رکھا گیا۔ حساس مقامات کی نگرانی، مشکوک افراد و اشیاء کی پڑتال، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ اور پولیس نفری کی مناسب تعیناتی اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔

ڈی پی او اٹک کی جانب سے افسران و جوانوں کو مسلسل ہائی الرٹ اسٹیٹس برقرار رکھنے کی ہدایت بھی اسی آپریشنل سوچ کی عکاس تھی۔ سیکیورٹی آپریشن میں چند لمحوں کی غفلت بعض اوقات بڑے خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے فیلڈ فورس کو مسلسل چوکس رکھنا اور ہر غیر معمولی سرگرمی کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کی ہدایت ایک اہم کمانڈ فیصلہ تھا۔

یہاں سچویشنل اویئرنیس کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ اہلکاروں کو اپنے اردگرد کے ماحول، افراد کی نقل و حرکت اور غیر معمولی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ کسی بھی بڑے اجتماع کی سیکیورٹی میں یہی ابتدائی مشاہدہ پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔ خطرے کی بروقت شناخت، بروقت اطلاع اور بروقت ردعمل ہی مؤثر سیکیورٹی کی بنیاد بنتا ہے۔

اس پورے سیکیورٹی میکنزم کا دوسرا اہم پہلو جوائنٹ کمانڈ کوآرڈینیشن تھا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی اعلیٰ سطحی قیادت کا مشترکہ فیلڈ وزٹ اس بات کا مظہر تھا کہ سیکیورٹی، انتظامی معاملات اور ٹریفک مینجمنٹ کو الگ الگ سرگرمیوں کے بجائے ایک ہی آپریشنل تصویر کے تحت دیکھا گیا۔

ایس پی انویسٹی گیشن اٹک زینب ایوب، ایس ڈی پی او حسن ابدال اور دیگر افسران کی موجودگی نے کمانڈ چین کو فیلڈ سطح پر مضبوط رکھا۔ اس نوعیت کا مربوط نظام کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فیصلہ سازی کے عمل کو تیز اور ادارہ جاتی ردعمل کو مؤثر بناتا ہے۔

ٹریفک ڈسپوزیشن بھی سیکیورٹی پلان کا ایک اہم حصہ رہی۔ مرکزی جلوس کے دوران شرکاء کی نقل و حرکت، عام شہریوں کی آمد و رفت اور ایمرجنسی سروسز کے لیے راستوں کی دستیابی کو برقرار رکھنا محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ براہِ راست آپریشنل سیفٹی کا معاملہ ہے۔ اس پہلو پر خصوصی توجہ نے سیکیورٹی پلان کو مزید جامع بنایا۔

ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کا واضح پیغام تھا کہ امن دشمن عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان محض سخت لہجے کا اظہار نہیں بلکہ زیرو کمپرو مائز سیکیورٹی پالیسی کا واضح عکاس تھا۔

 

تاہم اس سخت گیر سیکیورٹی پوسچر کے ساتھ عوامی سہولت اور مذہبی عقیدت کے احترام کو بھی برقرار رکھا گیا۔ ریاستی ادارے کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ خطرے کو کنٹرول کرتے ہوئے شہریوں کو تحفظ کا احساس بھی فراہم کرے۔ عید میلاد النبی ﷺ جیسے مقدس موقع پر اٹک پولیس نے اسی توازن کو سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔

اس آپریشن کا ایک انتہائی اہم پہلو فورس مورال بھی تھا۔ فرنٹ لائن پر تعینات پولیس افسران اور جوان کسی بھی سیکیورٹی پلان کی اصل قوت ہوتے ہیں۔ مسلسل ڈیوٹی، ہجوم کی نگرانی، مشکوک سرگرمیوں پر نظر، ٹریفک کنٹرول اور ہنگامی صورتحال کے لیے ذہنی تیاری ایک کڑے آپریشنل امتحان سے کم نہیں۔ ڈی پی او کی جانب سے فیلڈ فورس کی حوصلہ افزائی نے کمانڈ اور جوانوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کیا۔

کیپٹن (ر) علی بن طارق کی کمانڈ اپروچ کا نمایاں پہلو یہ بھی رہا کہ انہوں نے صرف احکامات جاری کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر سیکیورٹی ڈسپوزیشن کا جائزہ لیا۔ ایک مؤثر کمانڈر کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے جوانوں کو صرف ذمہ داری نہیں دیتا بلکہ مشکل ڈیوٹی کے دوران ان کے ساتھ کھڑا بھی ہوتا ہے۔

مجموعی سیکیورٹی آپریشن کو تین بنیادی اصولوں میں سمیٹا جا سکتا ہے: پریوینشن، پری پیئرڈنس اور ریسپانس۔ پہلے مرحلے میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی، دوسرے میں مناسب نفری اور وسائل کی پیشگی تعیناتی جبکہ تیسرے مرحلے میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے فوری نمٹنے کی صلاحیت کو یقینی بنایا گیا۔

یہاں اصل کامیابی کسی بڑی کارروائی کا ہونا نہیں بلکہ ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہونے دینا ہے جس میں بڑے پیمانے پر ردعمل کی ضرورت پیش آئے۔ مؤثر سیکیورٹی دراصل وہ ہوتی ہے جس کی موجودگی محسوس ہو مگر جس کے باعث امن و امان متاثر نہ ہو۔

12 ربیع الاول کے موقع پر حسن ابدال میں اختیار کیا گیا سیکیورٹی ماڈل اسی فلسفے کی عملی مثال نظر آیا۔ کمانڈ واضح، چین آف کمانڈ فعال، فیلڈ فورس الرٹ، نگرانی مسلسل اور ادارہ جاتی رابطہ برقرار رہا۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیکیورٹی انتظامات میں سختی کے ساتھ پیشہ ورانہ تحمل کو برقرار رکھا گیا۔ مذہبی اجتماعات میں عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پولیس کا کام صرف راستے بند کرنا یا نفری کھڑی کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا، ہجوم کو منظم رکھنا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری حفاظتی ردعمل دینا ہے۔

ڈی پی او اٹک کی براہِ راست نگرانی میں مکمل ہونے والے اس سیکیورٹی آپریشن نے یہ ثابت کیا کہ کامیاب کمانڈ صرف احکامات سے نہیں بنتی؛ اس کے لیے وژن، فیلڈ پریزنس، فیصلہ سازی، ڈسپلن اور اپنی فورس پر اعتماد ضروری ہے۔

حسن ابدال میں 12 ربیع الاول کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات اسی جامع کمانڈ فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اٹک کے ساتھ مشترکہ فیلڈ کوآرڈینیشن، متعلقہ پولیس افسران کی موجودگی، حساس مقامات کی نگرانی، ٹریفک مینجمنٹ اور جوانوں کی مسلسل الرٹنس نے ایک مربوط حفاظتی نظام تشکیل دیا۔

حتمی تجزیہ یہی ہے کہ اٹک پولیس نے 12 ربیع الاول کے سیکیورٹی چیلنج کو روایتی ڈیوٹی کے بجائے ایک مکمل آپریشنل مشن کے طور پر لیا۔ ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق کی قیادت میں اختیار کیے گئے اقدامات نے یہ پیغام واضح کر دیا کہ امن و امان کے معاملے میں اٹک پولیس دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ پری ایمپٹو اور پرو ایکٹو سیکیورٹی پوسچر پر یقین رکھتی ہے۔

اور شاید اسی لیے اس پورے آپریشن کی سب سے جامع تشریح صرف چند الفاظ میں ممکن ہے:

کمانڈ فیصلہ کن، ڈسپوزیشن مضبوط، فورس ہائی الرٹ، کوآرڈینیشن مؤثر اور مشن واضح — امن ہر قیمت پر۔

X