LOADING

Type to search

پاکستان

اٹک (سہ پہر) پولیس کا خالی بینک اکاؤنٹ والا انسپکٹر — ایمانداری ابھی زندہ ہے

اٹک (سہ پہر) اس ملک میں ایمانداری اب کوئی معمول کی بات نہیں رہی۔ یہ ایسی خبر بن چکی ہے جسے سن کر آدمی دوبارہ پوچھتا ہے: ’’واقعی؟‘‘

محمد جنید بھی اسی ’’واقعی؟‘‘ کا ایک دلچسپ جواب ہیں۔

بی ایس انجینئرنگ، آئی ٹی 2014 کے بعد پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پولیس میں آئے۔ سب انسپکٹر رہے، انسپکٹر بنے، چوکی انچارج کی ذمہ داریاں نبھائیں، انویسٹی گیشن آفیسر رہے، پی آر او کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، مختلف رینکس کے اہلکاروں اور افسران کے ساتھ کام کیا، تھانوں اور چوکیوں کی عملی زندگی دیکھی اور 2026 میں انسپکٹر کے عہدے پر پروموٹ ہوئے۔

عہدے بدلتے رہے، ذمہ داریاں بڑھتی رہیں، افسر تبدیل ہوتے رہے، لیکن محمد جنید کے بارے میں ایک بات آج بھی حیران کن ہے: ان کی زندگی کا حساب کتاب شاید وہیں کھڑا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔

بینک اکاؤنٹ خالی۔
جیز کیش اکاؤنٹ خالی۔
سواری کے نام پر موٹر سائیکل۔
اور گھر چلانے کے لیے سرکاری تنخواہ۔

یہ تفصیل کسی فلم کا منظر نہیں بلکہ ہمارے اسی معاشرے کی ایک ایسی کہانی ہے جہاں سرکاری عہدہ بعض لوگوں کے لیے دولت بنانے کا ذریعہ بن جاتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اختیار کو صرف ذمہ داری سمجھ کر نبھاتے ہیں۔

محمد جنید کی اصل کہانی ان کے عہدے سے زیادہ ان کے طرزِ زندگی میں چھپی ہے۔ اتنے برس پولیس سروس میں رہنے کے باوجود ان کے پاس دکھانے کو کوئی غیرمعمولی دولت نہیں۔ نہ گاڑیوں کی قطار، نہ آسائشوں کی نمائش اور نہ دولت کے انبار۔

بس ایک ملازمت، ایک موٹر سائیکل اور تنخواہ پر چلتی زندگی۔

محمد جنید نے پولیس کی نوکری صرف فائلوں میں نہیں کی۔ انہوں نے پولیس کی وہ دنیا بھی دیکھی ہے جو عام آدمی کو نظر نہیں آتی۔ کبھی چوکی، کبھی تھانہ، کبھی انویسٹی گیشن، کبھی افسر کے دفتر کی ذمہ داری اور کبھی پی آر او کی حیثیت سے پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار۔

پی آر او کی ذمہ داری بھی معمولی نہیں ہوتی۔ ایک طرف پولیس کا ادارہ، دوسری طرف عوام اور میڈیا؛ ایک طرف افسران کی ہدایات، دوسری طرف واقعات کی حقیقت۔ ایسے ماحول میں الفاظ، لہجے اور معلومات کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

محمد جنید نے یہ مرحلہ بھی دیکھا اور نبھایا۔

انہوں نے کانسٹیبل سے لے کر افسر تک پولیس کے مختلف طبقات کے ساتھ کام کیا۔ یہی وہ تجربہ ہے جو کسی افسر کو محض فائلوں کا نہیں بلکہ پورے نظام کا آدمی بناتا ہے۔

انہوں نے انویسٹی گیشن میں بھی کام کیا، جہاں فائل کے ہر صفحے کے پیچھے کسی انسان کی زندگی ہوتی ہے۔ چوکی انچارج رہے تو عوام سے براہِ راست واسطہ پڑا۔ سب انسپکٹر کی حیثیت سے ماتحت اہلکاروں کی ذمہ داری سنبھالی اور انسپکٹر بننے کے بعد اختیار کے ساتھ جواب دہی کا بوجھ بھی اٹھایا۔

شاید اسی لیے آج ان کے تجربے کو کسی ایک عہدے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں آدمی کی حیثیت اکثر اس کے بینک اکاؤنٹ، گاڑی اور گھر سے ناپی جاتی ہے۔

گاڑی کون سی ہے؟
گھر کہاں ہے؟
اکاؤنٹ میں کتنا ہے؟

لیکن محمد جنید کی زندگی ان سوالوں کے سامنے ایک مختلف جواب پیش کرتی ہے۔

اگر سرکاری ملازمت میں رہ کر کسی نے اپنی جائز آمدن سے زیادہ دولت جمع نہیں کی تو کیا یہ ناکامی ہے؟

یا پھر مسئلہ اس معاشرتی سوچ کا ہے جس میں ایمانداری کو معمول کے بجائے غیرمعمولی واقعہ سمجھ لیا گیا ہے؟

اسی پس منظر میں ڈی پی او اٹک کیپٹن علی بن طارق کی جانب سے محمد جنید کو ریڈر تعینات کرنے کا فیصلہ قابلِ تحسین دکھائی دیتا ہے۔

یہ محض ایک دفتری تقرری نہیں بلکہ اعتماد کا اظہار بھی ہے۔

پولیس میں ریڈر کا منصب افسر کے دفتر کا اہم اور حساس انتظامی کردار ہے۔ فائلیں، اطلاعات، ملاقاتوں کا نظام، احکامات اور مختلف نوعیت کے معاملات اس ذمہ داری سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہاں پیشہ ورانہ تجربے کے ساتھ اعتماد بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

ایسے منصب پر ایک ایسے افسر کو ذمہ داری دینا جس نے فیلڈ، انویسٹی گیشن، پی آر او اور انتظامی معاملات میں کام کیا ہو، ایک مثبت فیصلہ ہے۔

کیپٹن علی بن طارق کے فیصلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس میں صرف ظاہری قابلیت نہیں بلکہ کردار، تجربے اور اعتماد کو بھی اہمیت دی جا سکتی ہے۔

محمد جنید کے پاس پولیس سروس کا عملی تجربہ ہے۔ وہ ماتحت اہلکاروں کی مشکلات سے واقف ہیں، عوامی شکایات کا سامنا کر چکے ہیں، انویسٹی گیشن کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں اور میڈیا و پولیس کے درمیان رابطے کی نزاکتوں سے بھی واقف ہیں۔

ریڈر کی ذمہ داری میں یہ تجربہ یقیناً ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ہمیں ایسے فیصلوں پر بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہر روز پولیس کے بارے میں بری خبریں سننے کے بعد کبھی کبھار ایک اچھی خبر بھی ضروری ہوتی ہے۔

کسی ایسے اہلکار کا ذکر بھی ہونا چاہیے جو خاموشی سے اپنی ڈیوٹی کرتا رہا۔

کسی ایسے افسر کا نام بھی سامنے آنا چاہیے جس نے برسوں کی ملازمت کے باوجود اپنے لیے دولت کے پہاڑ نہیں بنائے۔

اور کسی ایسے انتظامی فیصلے کو بھی سراہنا چاہیے جس میں کسی شخص کے ماضی کے تجربے اور کردار کو اہمیت دی جائے۔

محمد جنید کے پاس شاید بڑا بینک بیلنس نہیں، جیز کیش میں بھی کوئی بڑی رقم نہیں اور دفتر آنے کے لیے شاندار گاڑی بھی نہیں۔

لیکن اگر ایک سرکاری ملازم کے پاس تجربہ، ذمہ داری کا احساس، پیشہ ورانہ ساکھ اور لوگوں کا اعتماد موجود ہو تو یہی اس کا اصل اثاثہ ہے۔

خالی بینک اکاؤنٹ ہمیشہ غربت کی علامت نہیں ہوتا۔

کبھی یہ اس بات کی گواہی بھی ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنی جائز آمدن سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اور موٹر سائیکل ہمیشہ کم حیثیتی کی علامت نہیں ہوتی۔

کبھی ایک موٹر سائیکل پر آنے والا افسر ان لوگوں سے زیادہ امیر ہوتا ہے جن کے گیراج میں کئی گاڑیاں کھڑی ہوں، کیونکہ اس کے پاس وہ دولت ہوتی ہے جو خریدی نہیں جا سکتی:

لوگوں کا اعتماد۔

محمد جنید کی کہانی کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک پولیس افسر کی تعریف نہیں بلکہ اس سوچ کی حوصلہ افزائی ہے کہ اداروں میں اچھے کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔

کیپٹن علی بن طارق کی جانب سے محمد جنید کو ریڈر کی ذمہ داری دینا اسی حوالے سے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔

کیونکہ اس زمانے میں جب ہم اکثر پوچھتے ہیں:

’’اس نے کتنا بنایا؟‘‘

کبھی یہ سوال بھی پوچھ لینا چاہیے:

’’اس نے اپنی دیانت، کردار اور ضمیر میں سے کتنا بچایا؟‘‘

شاید محمد جنید کی سب سے بڑی دولت یہی ہے۔

X