LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) جمہوری استحکام، سب کی اجتماعی ذمہ داری

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سے ملاقات میں ان سے انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں پارلیمان میں موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ اور تحریک انصاف کی رہنماؤں کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب بڑی پیش رفت ہے وطن عزیز اس وقت جن مسائل مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہے اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں اپنے پاؤں پر ہم نے خود کلہاڑیاں ماری ہیں ملک کو درپیش مسائل کی جڑیں ماضی کے ادوار کے غلط فیصلوں میں پیوست ہیں قیام پاکستان کے فوری بعد بانیان پاکستان داغ مفارقت دے گئے جس سے نوازائیدہ ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع میسر نہیں آسکا اور یہاں ایک سیاسی خلاء پیدا ہوگیا جبکہ سیاست دانوں کی اگلی کھیپ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے بجائے اسے اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرنے میں مصروف ہوگئی ہے جس سے ہمیں مضبوط سیاسی بنیادیں میسر نہ آسکیں تاہم الیہ یہ ہے کہ بعد میں آنے والوں نے بھی اپنی ذمہ داری کا ادراک نہیں کیا اور غیر پسندیدہ سیاسی روایات کے تسلسل کو جاری رکھا 1990 کی دہائی اس ضمن میں ایک مثال کا درجہ رکھتی ہے جب یکے بعد دیگرے چار جمہوری حکومتوں کو رخصت کیا گیا اور نتیجتا ملک آمریت کی کھائی میں اتر گیا 2006 میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کا میثاق جمہوریت پر اتفاق خوش آئند پیش رفت تھی جس میں مل کر آگے بڑھنے کا عہد باندھا گیا تھا اور مسائل کو جمہوری انداز سے پارلیمان کے اندر حل کرنے پر اتفاق کیا گیا مگر جب اقتدار جمہوری حکومتوں کے پاس آیا تو ماضی کے عہد و پیمان کو یکسر مسترد اور معاہدات کو فراموش کردیا گیا حصول اقتدار کے لئے دوبارہ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا استعمال شروع ہو گیا جس کا خمیازہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا جمہوریت ایک سیاسی اخلاقی معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے جس کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظرئیے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں لفظ جمہوریت کا ماخذ ایک یونانی لفظ ڈیماس کریٹاس ہے جس کے معنی عوام کی حکومت عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے ہے جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کو گاڑی کے دو پہیوں کی مانند سمجھا جاتا ہے جن کا توازن اور ہم آہنگی نظام کی گاڑی کو آگے بڑھانے کے لئے بنیادی شرط ہے بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں پہیے متضاد سمتوں میں چلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام اور سیاسی اداروں کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا ہے جمہوریت کے لئے شفاف انتخابات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں پاکستان میں جمہوری عدم استحکام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمار ی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات کو عوامی رائے کے طور پر قبول کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف انتخابات کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہر جماعت انتخابات میں ہر صورت جیتنا چاہتی ہے اور اس کیلئے منفی حربے استعمال کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا جاتا۔ اقتدار کے اس طمع نے ملک کی سیاسی جماعتوں کو اور ملک میں مجموعی طور پر جمہوریت کو کمزور کیا ہے سیاسی جماعتوں کے کمزور ڈھانچے کو بیان کرنے کیلئے یہی کافی ہے کہ مرکزی دھارے کی تمام جماعتوں میں مرکزی قیادت مخصوص گھرانوں تک محدود ہے سیاسی جماعت کا یہ ماڈل جمہوری اعتبار سے ناقص ہے اس کے نقائص میں یہ بھی شامل ہے کہ سیاسی جماعتیں عام انتخابات کو بقا کی جنگ سمجھ کر لڑتی ہیں اور ان کے نزدیک انتخابی برتری قواعد و قوانین پر عمل کرنے سے زیادہ اہم بن جاتی ہے اس سسٹم سے آ نے والی حکومتیں ملک کو کیا سیاسی استحکام عطا کر سکتی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہونا چاہیے اس میں دو رائے نہیں کہ جمہوریت فی زمانہ بہتر ین سیاسی نظام ہے مگر مثالی جمہوریت کا انحصار شفاف انتخابات پر ہے انتخابی عمل جس قدر شفاف غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو گا جمہوریت اسی قدر مستحکم ہو گی یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ملک میں اب تک ہونے والے تقریبا تمام انتخابات دھن دھونس دھاندلی بے بنیاد الزام تراشیوں منفی پروپیگنڈے اور طاقتور حلقوں کی جانب سے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی خاطر اختیار کئے جانے والے ہتھکنڈوں کے سبب غیر معتبر قرار پاتے رہے ہیں گزشتہ 47 سال کے دوران ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو کسی بھی سیاسی جماعت نے صدق دل سے قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے انتخابی نظام نہ صرف اپنی افادیت کھوتا جارہا بلکہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے 2008 کے بعد سے تین اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے مگر ملک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکا سیاسی تسلسل تو قائم ہوگیا مگر سیاسی استحکام ایک خواب کی مانند ہے ہمارے ہاں مسائل کا ادراک سب کو ہے مگر ان کے حل کی جانب قدم بڑھانے کو کوئی تیار نہیں ملک کو اسوقت سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل المدت معاشی پالیسیوں اور میثاق جمہوریت یعنی ایک نئے عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاسی تبدیلیاں معاشی عمل پر اثر انداز نہ ہوں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے یہ کام سیاسی اور ریاستی اداروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی انتشار نے ملک کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ملتی اس سیاسی انتشار کی وجہ سے خود سیاسی جماعتیں بہت بڑے خسارے میں ہیں سیاسی قائدین کی عوامی حمایت اور پسندید گی کے گراف میں کمی واقع ہو رہی ہے اور سیاسی کشیدگی کے ماحول کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے اعتماد اور توقعات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے یقینی ہے اور یہ صرف عام آدمی کا مسئلہ نہیں سرمایہ کار اور صنعت کار طبقہ بھی اس بد اعتمادی کے ماحول سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے موجودہ حالات میں سیاسی قائدین کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ریاست کو سیاست پر ترجیح دیں’ سیاسی انتشار کا خاتمہ کریں اور قومی یکجہتی کا ایسا ماحول پیدا کریں جو ملک کو درپیش مسائل مشکلات اور بحرانوں سے نکالنے میں معاون ومدد گار ثابت ہو یقینا پاکستان اس وقت مشکلات سے دوچار ہے مگر حیات اقوام اونچ نیچ اور شیریں وتلخ حالات ہی سے عبارت ہوتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ چہار سو گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے اور کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ایسے میں قوم کے رہنماؤں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امید کی شمع روشن رکھیں اور مسلسل آگے بڑھتے ہیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بحران ہی اقوام کو مضبوط اور طاقتور بناتے ہیں ہمارا ساماجی وسیاسی نظام اور ریاستی ڈھانچہ قائم ہے اور حوصلہ بھی پست نہیں مشکلات ضرور ہیں مگر بہتر لائحہ عمل اپنا کر ان سے باہر نکلنے کا راستہ نکالا جاسکتا ہے اگرچہ یہ راستہ کچھ دشوار اور طویل ہے مگر بالکل واضح ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام طبقات ہائے فکر بالخصوص سیاسی قیادت اپنے ذاتی اور گروہی مقاصد سے باہر نکل کر اور اپنی انا کو پس پشت ڈال کر ملک وقوم کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے یہی ہمارے مسائل کا اصل حل ہے یہ امر مسلمہ ہے کہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کے بغیر سیاسی اور جمہوری گاڑی چل نہیں سکتی سیاسی ہیجان کم ہوگا تو سماج بھی مضبوط ہوگا اور معیشت بھی تیزی سے مستحکم ہونے لگے گی پاکستان پون صدی مکمل کر چکا ہے اتنا وقت کسی قوم کو اپنی سمت متعین کرنے کے لئے کم نہیں ہوتا مگر ہماری قومی پیش رفت کو دیکھا جائے تو ہم آج بھی انہی مسائل سے نمٹ رہے ہیں جن سامنا قیام پاکستان کے کچھ عرصہ کے بعد ہی کرنا پڑ گیا تھا ملک میں جمہوری استحکام ایک اجتماعی ذمہ داری ہے سیاسی جماعتیں جب تک جمہوری اقدار کے احترام اور اصولوں کو اپنے منشور اور عمل کا حصہ نہیں بنا تیں اس وقت تک ملک میں جمہوری بقائ شفافیت اور استحکام ممکن نہیں ملک میں شفاف غیر جانبدرانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنا کر ہی جمہوری کایا کلپ ہوسکتی ہے**

X