LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) اکستان میں اکثر نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے۔ لیکن یہ بحث اکثر سیاسی نعروں اور لسانی شناخت کے گرد گھومنے لگتی ہے۔

اسلام آباد (سہ پہر) اکستان میں اکثر نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے۔ لیکن یہ بحث اکثر سیاسی نعروں اور لسانی شناخت کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ کوئی اسے وفاق کو مضبوط کرنے کا راستہ سمجھتا ہے، کوئی اسے سیاسی منصوبہ قرار دیتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر موجودہ صوبے اپنے مسائل حل نہیں کر پا رہے تو مزید صوبے بنانے سے مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

یہ سوال اپنی جگہ بالکل جائز ہے۔ لیکن ایک دوسرے سوال سے فرار ممکن نہیں: کیا 1947ء کے پاکستان کی انتظامی ساخت 2026ء کے 24 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کے لیے اب بھی کافی ہے؟

پاکستان کی آبادی 241.49 ملین تک پہنچ چکی ہے اور سالانہ شرحِ نمو 2.55 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 127.69 ملین، سندھ کی 55.70 ملین اور خیبر پختونخوا کی 40.86 ملین ہے۔ یہ اعداد محض آبادی کا شمار نہیں، بلکہ ریاست کے لیے ایک بڑا انتظامی سوال ہیں: کیا اتنی بڑی آبادی کو چند بڑے صوبائی دارالحکومتوں سے مؤثر طریقے سے تعلیم، صحت، روزگار، پولیس، زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان کو نئے صوبوں کے بارے میں جذباتی یا جماعتی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی، معاشی، آئینی اور قومی مفاد کی بنیاد پر سنجیدہ بحث شروع کرنی چاہیے۔ لیکن یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف نقشے پر نئی سرحد کھینچ دینے سے نہ معیشت ٹھیک ہوتی ہے اور نہ کرپشن ختم ہوتی ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی مسئلہ یہ ہے کہ آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی سرگرمیوں نے پرانے انتظامی ڈھانچے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کی آبادی تقریباً 12.8 کروڑ ہے۔ ایک صوبے کے اندر جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب، پوٹھوہار اور دوسرے خطوں کے معاشی، جغرافیائی اور سماجی مسائل ایک جیسے نہیں۔ لاہور سے بیٹھ کر جنوبی پنجاب کے کسی دور دراز ضلع کے اسکول، ہسپتال، آبپاشی، صنعت، پولیس اور بلدیاتی مسائل کی نگرانی کرنا ایک پیچیدہ انتظامی عمل بن جاتا ہے۔

نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل نسلی یا لسانی شناخت نہیں بلکہ administrative proximity یعنی حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے۔ حکومت جتنی عوام کے قریب ہوگی، اتنا ہی شہری کے لیے اپنے نمائندے، افسر، ہسپتال، اسکول، پولیس اور مقامی انتظامیہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔

لیکن صرف نقشے پر نئی سرحد کھینچ دینے سے معیشت ٹھیک نہیں ہوتی اور کرپشن ختم نہیں ہوتی۔ نئے صوبوں کے ساتھ لازماً یہ اصلاحات ہونی چاہئیں: تمام سرکاری خریداری کی مکمل e-procurement؛ صوبائی بجٹ کا عوامی آن لائن ڈیش بورڈ؛ ہر ترقیاتی منصوبے کی لاگت اور تکمیل کی تاریخ عوام کے سامنے؛ آزاد صوبائی audit mechanism؛ پولیس اور سول بیوروکریسی میں merit-based appointments؛ مقامی حکومتوں کو براہِ راست مالیاتی اختیارات؛ صوبائی اسمبلی کے اخراجات اور ارکان کی مراعات میں شفافیت؛ سرکاری زمین اور معدنی وسائل کے ریکارڈ کی digitisation؛ سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی مؤثر نگرانی؛ شہریوں کے لیے online complaint اور tracking system۔

اگر نئے صوبے بنے تو معاشی فائدہ کیسے ہوگا؟ اگر منصوبہ بندی درست ہو تو نئے صوبے کئی شعبوں میں مثبت اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ وسائل کی بہتر تقسیم، مقامی صنعت کو فروغ، روزگار کے نئے مراکز، حکومت عوام کے قریب، سیاسی نمائندگی بہتر ہوگی۔ لیکن یہاں بھی شرط وہی ہے: نمائندگی خاندان، برادری اور جاگیرداری کے بجائے کارکردگی پر مبنی ہو۔

لیکن نئے صوبے کرپشن کو کم کرنے کا ضمانت نہیں دیتے۔ اگر ایک بڑے صوبے کا وزیر، سیکریٹری یا افسر کرپشن کرتا ہے تو چھوٹے صوبے میں بھی وزیر، سیکریٹری یا افسر کرپشن کرسکتا ہے۔ بلکہ خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر نگرانی کا نظام کمزور ہو تو چھوٹے صوبے میں مقامی اشرافیہ زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔

پاکستان پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ اگر ہم چار صوبوں کو آٹھ یا دس صوبوں میں تبدیل کردیں اور ہر صوبے کے لیے نئی اسمبلی، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، سیکریٹریز، محکمے، پولیس ہیڈکوارٹر، سرکاری رہائش گاہیں اور ہزاروں نئی پوسٹیں بنا دیں تو قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا۔

پاکستان میں اصل مسئلہ شاید صوبوں سے زیادہ “اختیار” کا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اختیار صوبے سے ضلع، ضلع سے تحصیل اور تحصیل سے یونین کونسل تک حقیقی معنوں میں منتقل نہیں ہوا۔

پاکستان کو صرف نئے صوبے نہیں بلکہ نئی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو administrative restructuring کرنی چاہیے۔ مثلاً نئا صوبہ = نئی bureaucracy نہیں، بلکہ بہتر bureaucracy۔ جہاں ممکن ہو موجودہ محکموں کو reorganise کیا جائے، غیر ضروری عہدے ختم کیے جائیں، digital government اختیار کی جائے اور administrative overhead کو محدود رکھا جائے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت کا موضوع ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے سے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف، کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے سے سیاسی کشمکش اور معاشی проблемы بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

ایک نئے صوبے میں اقلیت بننے والی آبادی یہ محسوس کرسکتی ہے کہ اسے سیاسی یا معاشی طور پر پیچھے کیا جارہا ہے۔ اس لیے، اصول واضح ہونے چاہیے کہ نیا صوبہ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ عوام کی بہتر حکمرانی کے لیے ہو۔

نئے صوبوں کے لیے آئینی تحفظات، مساوی شہریت، زبانوں کے احترام، اور وسائل کی شفاف تقسیم کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، وسائل کی تقسیم کے لیے واضح آئینی اور مالیاتی اصول بھی ضروری ہیں۔

پاکستان میں پانی، گیس، بجلی، معدنیات، بندرگاہوں، زرعی پیداوار، اور ٹیکس آمدنی پہلے ہی حساس موضوعات ہیں۔ نئے صوبوں کے بعد یہ سوال زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے کہ کون سا وسیلہ کس صوبے کا ہے؟ آمدنی کہاں جمع ہوگی؟ NFC میں حصہ کیسے ملے گا؟ قدرتی وسائل کی royalty کیسے تقسیم ہوگی؟

اگر ان سوالات کے واضح آئینی اور مالیاتی اصول پہلے طے نہ کیے گئے تو نئے صوبے سیاسی استحکام کے بجائے نئی مرکز گریز کشمکش پیدا کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے شاید بہترین ماڈل یہ ہوسکتا ہے: وفاق → صوبہ → مضبوط ڈویژن/ریجن → بااختیار ضلع → منتخب اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومت۔

یعنی اگر فوری طور پر نئے صوبے بنانا سیاسی طور پر مشکل ہے تو بھی بڑے صوبوں کے اندر مضبوط انتظامی علاقے بنائے جاسکتے ہیں۔ اور اگر مستقبل میں کسی علاقے کو صوبہ بنانا ہو تو اس کے لیے واضح معیار مقرر کیے جائیں۔

مثلاً کم از کم آبادی، جغرافیائی تسلسل، قابلِ عمل معاشی بنیاد، متوقع اپنے وسائل اور محصولات، انتظامی دارالحکومت کی موجودگی، انفراسٹرکچر کی بنیادی صلاحیت، عوامی مشاورت، مالیاتی viability، اقلیتوں اور مختلف لسانی گروہوں کے حقوق کا تحفظ، اور واضح transitional financial plan۔

اس طرح نیا صوبہ کسی سیاسی جماعت کا انتخابی وعدہ نہیں بلکہ قومی administrative policy بن جائے گا۔ پاکستان کو “صوبہ سازی” کے ساتھ NFC بھی تبدیل کرنا ہوگا۔

اگر نئے صوبے بن گئے مگر مالی وسائل کی تقسیم کا فارمولا پرانا رہا تو نئے صوبے مسلسل وفاق یا دوسرے صوبوں کے محتاج رہیں گے۔

عالمی بینک نے 2026ء میں بھی پاکستان کے fiscal federalism میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ موجودہ نظام میں وفاقی مالی خسارے، کمزور revenue mobilisation اور صوبائی و مقامی سطح پر اخراجات کی ترجیحات کے مسائل موجود ہیں۔

اس لیے نئے صوبوں کے ساتھ نیا مالیاتی معاہدہ بھی ضروری ہوگا۔ دنیا کا سبق: نقشہ نہیں، ادارے کامیاب ہوتے ہیں۔ بھارت بتاتا ہے کہ چھوٹی ریاست بعض حالات میں بہتر ترقی کرسکتی ہے، مگر ہر چھوٹی ریاست کامیاب نہیں ہوتی۔

جنوبی افریقہ بتاتا ہے کہ صوبائی حکومتیں قومی اتحاد، نمائندگی اور decentralisation کا ذریعہ بن سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے واضح اختیارات، مالیاتی نظام اور accountability ضروری ہے۔

پاکستان کا اپنا تجربہ بتاتا ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کے باوجود local government اور fiscal management کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔

لہٰذا یہ کہنا غلط ہوگا کہ “نئے صوبے بناؤ، پاکستان خود بخود ترقی کر جائے گا۔” لیکن یہ کہنا بھی اتنا ہی غلط ہوگا کہ “نئے صوبوں کی کوئی ضرورت نہیں، موجودہ نقشہ ہمیشہ کافی رہے گا۔”

اصل حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ کیا نئے صوبے پاکستان کو سیاسی طور پر مستحکم کرسکتے ہیں؟ ہاں، اگر انہیں صحیح طریقے سے بنایا جائے۔

ایک ایسا علاقہ جس کے لوگ دہائیوں سے یہ محسوس کرتے ہوں کہ ان کے مسائل مرکزی یا صوبائی دارالحکومت تک نہیں پہنچتے، اسے آئینی اور جمہوری طریقے سے زیادہ خودمختار انتظامی اکائی دینا سیاسی alienation کم کرسکتا ہے۔

لیکن اگر صوبہ سازی صرف کسی جماعت کو انتخابی فائدہ دینے، کسی مخالف جماعت کا ووٹ بینک توڑنے یا کسی مخصوص اشرافیہ کو نیا اقتدار دینے کے لیے کی جائے تو نتیجہ الٹا ہوسکتا ہے۔

نیا صوبہ سیاسی محرومی کا علاج بن سکتا ہے، مگر سیاسی انجینئرنگ کا آلہ بن جائے تو مسئلہ مزید سنگین کرسکتا ہے۔ کیا پاکستان کو پانچ، چھ یا دس صوبے بنانے چاہیےں؟

اس سوال کا جواب پہلے سے طے شدہ تعداد میں نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ “ہر حال میں دس صوبے بنانے ہیں۔”

اس کے بجائے اصول ہونا چاہیے: جتنی انتظامی اکائیاں مؤثر، مالی طور پر قابلِ عمل اور عوامی خدمت کے لیے ضروری ہوں، اتنی بنائی جائیں۔

ممکن ہے کچھ علاقوں کے لیے مکمل صوبہ بہترین حل ہو، جبکہ دوسرے علاقوں کے لیے مضبوط regional government یا بااختیار local government کافی ہو۔

یعنی one-size-fits-all نظام ختم کرنا ہوگا۔ سب سے بڑا سوال: کیا نئے صوبے معیشت کو مستحکم کرسکتے ہیں؟ براہِ راست نہیں، لیکن بالواسطہ طور پر بہت مدد کرسکتے ہیں۔

معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں investment، exports، tax reform، energy reform، human capital، education، health، agriculture اور industrialisation کی ضرورت ہے۔ نیا صوبہ ان تمام شعبوں کے لیے بہتر administrative platform فراہم کرسکتا ہے۔

لیکن اگر نیا صوبہ صرف ایک نیا وزیراعلیٰ، نئی اسمبلی، نئے سیکریٹریٹ اور نئے سیاسی عہدے پیدا کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے اصلاح نہیں بلکہ administrative inflation ہوگا۔

پاکستان کی آبادی 2023ء میں ہی 241.49 ملین ہوچکی تھی، جبکہ ملک کی آبادی اور افرادی قوت میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی 2026ء میں نشاندہی کی ہے کہ ہر سال تقریباً 3.5 ملین پاکستانی labour force میں داخل ہوتے ہیں؛ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر، مالی طور پر ذمہ دار اور عوام کے قریب ہونا ہوگا۔

لہٰذا پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو “پنجابی بمقابلہ سندھی”، “مرکزی بمقابلہ علاقائی” یا “سیاسی جماعت بمقابلہ سیاسی جماعت” کے چشمے سے دیکھنا قومی نقصان ہوگا۔

اس بحث کو ایک بڑے سوال میں تبدیل کرنا چاہیے: پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی، بدلتی ہوئی معیشت اور پیچیدہ سیاسی ضروریات کے لیے 21ویں صدی کا بہترین حکومتی ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے؟

اگر تحقیق، عوامی مشاورت، مالیاتی viability، مضبوط مقامی حکومت، شفافیت اور آئینی اتفاقِ رائے کے بعد نئے صوبے بنتے ہیں تو یہ پاکستان کی administrative restructuring کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

لیکن اگر صرف نقشہ بدلا اور حکمرانی کا کلچر نہ بدلا تو پاکستان کو نئے صوبے نہیں بلکہ نئی مشکلات ملیں گی۔ مختصر فیصلہ یہی ہے: پاکستان کو شاید چھوٹے انتظامی یونٹوں کی ضرورت ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اسے چھوٹی، جواب دہ اور عوام کے قریب حکومت کی ضرورت ہے۔

نئے صوبے کامیاب تب ہوں گے جب ان کا مقصد اقتدار کی تقسیم نہیں بلکہ اختیار، وسائل اور جواب دہی کی تقسیم ہو۔ اور شاید پاکستان کی سیاسی و معاشی stability کا اصل راستہ یہی ہے: طاقت کو اسلام آباد سے صوبوں تک، صوبوں سے اضلاع تک، اور اضلاع سے عوام تک منتقل کیا جائے—مگر ہر سطح پر اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہو۔

X