اسلام آباد (سہ پہر) چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی متحرک قیادت میں سی ڈی اے: اسلام آباد کو دنیا کے ایک مثالی دارالحکومت میں تبدیل کرنے کی جانب سفر
اسلام آباد (سہ پہر) محض پاکستان کا وفاقی دارالحکومت نہیں بلکہ یہ دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ، شناخت اور پہلا تاثر ہے۔ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان، سفارتی مشنز، بین الاقوامی اداروں، غیر ملکی سفارت خانوں، قومی اداروں اور اہم معاشی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کی حیثیت سے اسلام آباد کی ذمہ داریاں کسی عام شہر سے کہیں زیادہ ہیں۔
اسلام آباد کی ترقیاتی اور بلدیاتی امور کی بنیادی ذمہ دار اتھارٹی کی حیثیت سے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) قومی اہمیت کا ایک منفرد ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی، بلڈنگ کنٹرول، رہائشی سہولیات، ماحولیاتی تحفظ، پانی کی فراہمی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، پارکس، سڑکیں، عوامی مقامات، ٹریفک مینجمنٹ، شہری سہولیات اور وفاقی دارالحکومت کی مجموعی ترقی و دیکھ بھال شامل ہیں۔
اس تناظر میں چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی متحرک قیادت ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید تیز کرنے اور اسلام آباد کو ایک جدید، پائیدار، سمارٹ، محفوظ، مؤثر، جامع اور عالمی سطح پر قابلِ تحسین مثالی دارالحکومت بنانے کی جانب ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف پیشہ ورانہ طرزِ عمل، انتظامی تجربے، اچھی حکمرانی، دیانت داری، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے عزم کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا وژن، دانش مندی اور قیادت اس امر پر مرکوز ہے کہ سی ڈی اے کو ایک روایتی انتظامی ادارے سے تبدیل کرکے ایک جدید، ٹیکنالوجی سے آراستہ، کارکردگی پر مبنی اور شہریوں کو مرکز نگاہ رکھنے والا ادارہ بنایا جائے، جو تیزی سے بدلتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔
ان کا حتمی مقصد محض سڑکیں، عمارات یا سیکٹرز تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مؤثر شہری نظام اور اعلیٰ کارکردگی کی حامل انتظامی ثقافت تشکیل دینا ہے جس میں منصوبہ بندی، ترقی، حکمرانی، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی پائیداری، مالیاتی نظم و نسق اور شہری خدمات باہم مربوط ہو کر اسلام آباد کو دنیا کے بہترین، خوبصورت، متحرک اور بہتر انتظام والے دارالحکومتوں میں شامل کر سکیں۔
سی ڈی اے اور اسلام آباد کے لیے ایک نیا وژن
اسلام آباد کی حقیقی تبدیلی کے لیے طویل المدتی وژن، مضبوط اداروں، پیشہ ورانہ انتظام اور پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔ چیئرمین سہیل اشرف کی قیادت میں سی ڈی اے کی اصلاحات کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ دنیا کے بہترین دارالحکومت کے لیے دنیا کے بہترین ادارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وژن کے تحت سی ڈی اے کو:
* شفاف اور جوابدہ؛
* مالی طور پر پائیدار؛
* مکمل طور پر ڈیجیٹل؛
* شہری مرکزیت پر مبنی؛
* ماحول دوست اور ذمہ دار؛
* پیشہ ورانہ بنیادوں پر منظم؛
* کارکردگی پر مبنی؛
* جدت پسند؛
* جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ؛ اور
* اسلام آباد کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق فوری ردِعمل دینے والا ادارہ
بنایا جانا چاہیے۔
اسی کے ساتھ اسلام آباد کو ایسا دارالحکومت بنایا جائے جو جدید انفراسٹرکچر کو قدرتی حسن کے ساتھ، معاشی مواقع کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ، اور جدید ٹیکنالوجی کو انسان دوست شہری ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔
اچھی حکمرانی کا فروغ
اچھی حکمرانی ادارہ جاتی تبدیلی کی بنیادی بنیاد ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی قیادت میں ایک مؤثر سی ڈی اے واضح پالیسیوں، شفاف طریقہ کار، قابلِ پیمائش اہداف اور مضبوط احتسابی نظام کے تحت کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
کارکردگی پر مبنی نظامِ حکمرانی کے تحت ہر بڑے شعبے اور ڈائریکٹوریٹ کے لیے واضح Key Performance Indicators (KPIs)، قابلِ پیمائش اہداف اور مقررہ مدت میں مکمل کیے جانے والے کام متعین ہونے چاہئیں۔ ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی کا جائزہ ادارہ جاتی انتظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
اندرونی آڈٹ، رسک مینجمنٹ، منصوبوں کی نگرانی اور جائزہ لینے کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت، منظور شدہ لاگت اور مطلوبہ معیار کے مطابق مکمل ہوں۔
اصول سادہ ہونا چاہیے:
درست پالیسی، درست فیصلہ، درست شخص، درست وقت اور درست نتیجہ۔
میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں، پیشہ ورانہ تعیناتیاں اور افسران و اہلکاروں کو ان کی اہلیت اور تجربے کے مطابق ذمہ داریاں دینا ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ صحیح شخص کو صحیح عہدے پر تعینات کرنا ایک کامیاب سرکاری ادارے کی بنیادی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن: سمارٹ سی ڈی اے کی تعمیر
شہری حکمرانی کا مستقبل ڈیجیٹلائزیشن سے وابستہ ہے۔ اسلام آباد کو ایک مثالی دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کو Smart CDA اور Smart Islamabad کے مربوط نظام کے تحت اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرنا چاہیے۔
اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے:
* اراضی اور جائیداد کے ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن؛
* GIS کی بنیاد پر اراضی کا انتظام اور شہری منصوبہ بندی؛
* آن لائن بلڈنگ پلان کی منظوری؛
* بلڈنگ کنٹرول کی ڈیجیٹل خدمات؛
* الیکٹرانک آفس اور فائل مینجمنٹ؛
* No Demand Certificate (NDC) کی آن لائن پراسیسنگ؛
* مربوط شہری شکایات کا نظام؛
* ٹیکس، فیس اور دیگر واجبات کی آن لائن ادائیگی؛
* شہری خدمات کے لیے موبائل ایپلی کیشنز؛
* ترقیاتی منصوبوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے ڈیش بورڈز؛
* مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹریفک اور انفراسٹرکچر مینجمنٹ؛
* ریئل ٹائم ڈیٹا اینالیٹکس؛
* ڈیجیٹل انفورسمنٹ اور انسپیکشن سسٹم؛ اور
* سی ڈی اے کے متعلقہ شعبوں کو باہم مربوط کرنے والے جامع ڈیٹا بیس۔
ٹیکنالوجی کا مقصد صرف کاغذی نظام کو ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومتی امور انجام دینے کے پورے طریقہ کار کو ازسرِنو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔
شہری کو جائز عوامی خدمت کے حصول کے لیے متعدد دفاتر کے چکر لگانے، بار بار دستاویزات جمع کرانے یا ذاتی روابط پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں قانونی اور تکنیکی طور پر ممکن ہو، تمام خدمات ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے واضح مدت، خودکار ٹریکنگ اور شفاف طریقہ کار کے ساتھ دستیاب ہونی چاہئیں۔
ایسی اصلاحات تاخیر میں کمی، صوابدیدی طریقوں کے خاتمے، شفافیت میں اضافے اور عوام کے اعتماد میں نمایاں بہتری کا باعث بنیں گی۔
شہری مرکزیت پر مبنی خدمات
کسی بھی عوامی ادارے کی حقیقی کامیابی اس کے دفاتر کے حجم سے نہیں بلکہ شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار سے ناپی جاتی ہے۔
سی ڈی اے میں ایسی انتظامی ثقافت کو فروغ دینا ضروری ہے جس میں شہریوں کے ساتھ عزت، شائستگی، انصاف اور پیشہ ورانہ انداز میں برتاؤ کیا جائے۔ ہر عوامی خدمت کے لیے واضح معیار اور مقررہ مدت ہونی چاہیے۔
ون ونڈو آپریشن کو مزید جدید بنا کر ایک مربوط Citizen Facilitation System میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جسے ڈیجیٹل خدمات اور مؤثر شکایات کے ازالے کے نظام سے منسلک کیا جائے۔
اہم اقدامات میں شامل ہوں:
* جدید ون ونڈو آپریشن سینٹرز؛
* مربوط آن لائن شہری پورٹلز؛
* 24 گھنٹے شکایات کے اندراج اور ٹریکنگ کی سہولت؛
* خدمات کی فراہمی کے واضح اوقات؛
* شہری سہولت مراکز؛
* بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے خصوصی معاونت؛
* باقاعدگی سے شہری اطمینان کے سروے؛
* عوامی مشاورت کا نظام؛
* ضرورت کے مطابق محکمانہ عوامی سماعتیں؛ اور
* زیرِ التوا شکایات کی شفاف نگرانی۔
مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سی ڈی اے اور شہری کے تعلق کو محض انتظامی تعامل سے تبدیل کرکے خدمت اور شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
سمارٹ شہری منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی
اسلام آباد کو ایک منصوبہ بند دارالحکومت کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی اصل ماسٹر پلاننگ اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ تاہم آبادی میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں تبدیلی، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، موسمیاتی تبدیلی اور رہائشی ضروریات میں ارتقا مسلسل اور سائنسی بنیادوں پر شہری منصوبہ بندی کا تقاضا کرتے ہیں۔
مستقبل کی منصوبہ بندی Compact، Connected، Inclusive اور Sustainable Urban Development کے اصولوں پر ہونی چاہیے۔
سی ڈی اے کو درج ذیل امور پر توجہ دینی چاہیے:
* موجودہ سیکٹرز کی تکمیل؛
* مناسب منصوبہ بندی کے تحت نئے رہائشی سیکٹرز کی ترقی؛
* کم لاگت اور قابلِ استطاعت رہائش؛
* جہاں منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی استعداد اجازت دے وہاں مناسب عمودی تعمیرات؛
* Transit-Oriented Development؛
* جدید پبلک ٹرانسپورٹ؛
* ذہین ٹریفک مینجمنٹ؛
* پارکنگ پلازے؛
* جدید کھیلوں کی سہولیات؛
* فوڈ اسٹریٹس اور تفریحی مقامات؛
* سیاحتی مراکز اور جدید ہاسپیٹیلٹی انفراسٹرکچر؛
* آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پارکس؛
* فیملی ریکریشن سینٹرز؛
* پیدل چلنے والوں کے لیے سازگار عوامی مقامات؛ اور
* موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والا انفراسٹرکچر۔
ترقی کو صرف تعمیر شدہ عمارتوں کی تعداد سے نہیں ناپا جانا چاہیے بلکہ معیارِ زندگی، رسائی، پائیداری، تحفظ اور شہری سہولت سے جانچا جانا چاہیے۔
رہائش اور سیکٹر ڈویلپمنٹ
قابلِ استطاعت اور مناسب منصوبہ بندی پر مبنی رہائش اسلام آباد کے مستقبل کا ایک اہم جزو ہونا چاہیے۔
سی ڈی اے کو رہائشی سیکٹرز کی ترقی اور تکمیل کا عمل تیز کرنا چاہیے، جبکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات مربوط انداز میں فراہم کی جائیں۔
ایک مکمل ترقی یافتہ سیکٹر میں شامل ہونا چاہیے:
* معیاری سڑکیں؛
* قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی؛
* سیوریج اور نکاسی آب؛
* بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات؛
* اسکول؛
* صحت کی سہولیات؛
* پارکس اور گرین اسپیسز؛
* کمرشل مراکز؛
* پبلک ٹرانسپورٹ سے رابطہ؛
* کمیونٹی سہولیات؛ اور
* محفوظ پیدل چلنے کا انفراسٹرکچر۔
GIS پر مبنی منصوبہ بندی، شفاف الاٹمنٹ کے طریقہ کار، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور قانون کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی عمل کو تیز کرتے ہوئے شفافیت اور معیار برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
بہتر منصوبہ بندی پر مبنی رہائش غیر رسمی آبادیوں پر دباؤ کم کرنے، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی اور محفوظ، جامع اور پائیدار کمیونٹیز کے قیام میں مدد دے سکتی ہے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے اثاثے: ماحول اور قدرتی حسن کا تحفظ
اسلام آباد کا سب سے بڑا مسابقتی فائدہ اس کا قدرتی ماحول اور خوبصورتی ہے۔ مارگلہ ہلز، جنگلات، گرین بیلٹس، پارکس، آبی ذخائر اور وسیع شجرکاری اسلام آباد کو دنیا کے بہت سے دیگر بڑے شہروں سے منفرد بناتے ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کو محض ایک اضافی ذمہ داری کے طور پر نہیں بلکہ دارالحکومت کی ترقیاتی پالیسی کے بنیادی جزو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اہم ترجیحات میں شامل ہوں:
* مارگلہ ہلز کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور بحالی؛
* بڑے پیمانے پر شجرکاری اور اربن فارسٹ؛
* گرین بیلٹس کا تحفظ؛
* پارکس میں توسیع اور ان کی بحالی؛
* قدرتی آبی ذخائر کی بحالی؛
* جدید ویسٹ کلیکشن اور ڈسپوزل سسٹم؛
* کچرے کی علیحدگی اور ری سائیکلنگ؛
* گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈز؛
* موزوں سرکاری سہولیات کی سولرائزیشن؛
* بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام؛
* فضائی معیار کی نگرانی؛
* پانی کے معیار کی نگرانی؛
* موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ لینڈ اسکیپنگ؛
* سڑکوں، میڈیئنز، چوراہوں اور عوامی مقامات کی خوبصورتی؛ اور
* سفاری پارک کا فروغ۔
رہنما اصول ہونا چاہیے:
فطرت کے ساتھ ترقی، فطرت کے خلاف نہیں۔
جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ
صاف ستھرا دارالحکومت مؤثر حکمرانی کی نمایاں علامت ہوتا ہے۔
سی ڈی اے کو سائنسی بنیادوں پر کچرے کی وصولی، منتقلی، علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ماحول دوست تلفی کے ذریعے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو مزید جدید بنانا چاہیے۔
مستقبل کے نظام میں بتدریج شامل ہونا چاہیے:
* منبع پر کچرے کی علیحدگی؛
* ری سائیکلنگ اور وسائل کی بازیابی؛
* جدید ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشنز؛
* ٹیکنالوجی کے ذریعے ویسٹ کلیکشن کی نگرانی؛
* مشینی صفائی کا نظام؛
* عوامی آگاہی مہمات؛
* جہاں مناسب ہو نجی شعبے کی شمولیت؛ اور
* صفائی کی خدمات کی ڈیٹا پر مبنی نگرانی۔
اسلام آباد میں صفائی کا معیار فوری، مسلسل اور مؤثر انداز میں برقرار رہنا چاہیے۔
پائیدار آبی تحفظ
پانی کا تحفظ جدید شہروں کو درپیش سب سے اہم چیلنجز میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کے وسائل میں کمی اور بڑھتی ہوئی کھپت اسلام آباد کے لیے ایک طویل المدتی واٹر سیکیورٹی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اسلام آباد واٹر ایجنسی کو پانی کے تحفظ، مؤثر استعمال، انفراسٹرکچر کی بحالی اور پانی کے ذرائع میں تنوع پر مبنی ایک مربوط حکمتِ عملی میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
اہم اقدامات میں شامل ہوں:
* پرانے پانی کے انفراسٹرکچر کی بحالی؛
* پانی کے ضیاع اور Non-Revenue Water میں کمی؛
* اسمارٹ واٹر میٹرنگ؛
* ٹیوب ویلز کی بہتر نگرانی؛
* ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ؛
* بارش کے پانی کو محفوظ کرنا؛
* گندے پانی کی صفائی اور دوبارہ استعمال؛
* قدرتی آبی ذخائر کا تحفظ؛
* زیرِ زمین پانی کی نگرانی؛ اور
* ذمہ دارانہ پانی کے استعمال کے حوالے سے عوامی آگاہی۔
پانی کو محض ایک بلدیاتی سہولت نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک قومی وسیلہ سمجھا جانا چاہیے۔
مالیاتی پائیداری: خود انحصار سی ڈی اے
سی ڈی اے کی مالیاتی خود انحصاری اور پائیداری اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تاکہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
مالیاتی پائیداری ادارہ جاتی اصلاحات کا ایک بنیادی ستون ہونی چاہیے۔
ایک جامع حکمتِ عملی میں شامل ہو:
* محصولات کی وصولی میں بہتری؛
* مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن؛
* بقایا جات کی بہتر وصولی؛
* کمرشل اثاثوں کا شفاف انتظام؛
* سی ڈی اے کی ملکیتی زمین اور جائیداد کا مؤثر استعمال؛
* شفاف اور مسابقتی اراضی نیلامیاں؛
* قانون کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس؛
* آمدنی کے ذرائع میں تنوع؛
* اخراجات میں مؤثر کمی؛
* توانائی کے مؤثر استعمال پر مبنی آپریشنز؛
* مالیاتی کنٹرولز میں بہتری؛ اور
* طویل المدتی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی۔
مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سی ڈی اے ایک ایسا ادارہ بنے جو شفافیت اور عوامی احتساب برقرار رکھتے ہوئے اپنے قانونی ذرائع سے زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرے، اسے مؤثر انداز میں منظم کرے اور دوبارہ شہری ترقی اور عوامی خدمات پر خرچ کرے۔
مالی طاقت بذاتِ خود منزل نہیں بلکہ بہتر عوامی خدمات اور تیز رفتار پائیدار ترقی کا ذریعہ ہے۔
شفافیت اور عوامی اعتماد
عوامی اعتماد کسی بھی سرکاری ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ سی ڈی اے کو شفافیت مزید مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات جاری رکھنے چاہئیں:
* الیکٹرانک پروکیورمنٹ؛
* شفاف ٹینڈرنگ؛
* ترقیاتی منصوبوں کی ڈیجیٹل نگرانی؛
* آزادانہ مالیاتی اور کارکردگی کے آڈٹس؛
* باقاعدگی سے ادارہ جاتی کارکردگی رپورٹس؛
* ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن؛
* واضح ریگولیٹری طریقہ کار؛
* مؤثر اندرونی احتساب؛
* مناسب اوپن ڈیٹا اقدامات؛ اور
* بے ضابطگیوں کی رپورٹنگ اور ازالے کے مضبوط نظام۔
شفافیت کو ادارہ جاتی نظام کا مستقل حصہ بنانا چاہیے تاکہ اچھی حکمرانی صرف کسی ایک افسر کی ذاتی نیت یا ارادے پر منحصر نہ رہے۔
انسانی وسائل میں سرمایہ کاری
کوئی بھی ادارہ بہترین افراد کے بغیر بہترین نہیں بن سکتا۔ سی ڈی اے کے ملازمین اس کا سب سے اہم ادارہ جاتی اثاثہ ہیں۔ اس لیے جدیدیت کے عمل کے ساتھ ایک جامع انسانی وسائل کی ترقی کا پروگرام بھی ضروری ہے۔
تربیت کی ترجیحات میں شامل ہوں:
* قیادت کی ترقی؛
* شہری منصوبہ بندی؛
* پراجیکٹ مینجمنٹ؛
* ڈیجیٹل گورننس؛
* GIS اور اسمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز؛
* مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس؛
* مالیاتی انتظام؛
* پروکیورمنٹ؛
* ماحولیاتی انتظام؛
* کسٹمر سروس؛
* ڈیزاسٹر مینجمنٹ؛ اور
* پیشہ ورانہ و تکنیکی مہارتیں۔
کارکردگی کا اعتراف، میرٹ پر مبنی ترقی، شفاف پروموشن سسٹم، ملازمین کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ تربیت ایک باصلاحیت اور متحرک افرادی قوت پیدا کر سکتی ہے۔
ایسی ثقافت تشکیل دینی چاہیے جس میں ملازمین یہ محسوس کریں کہ کارکردگی، دیانت داری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی و پذیرائی کی جاتی ہے۔
جدت اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار
ایک جدید دارالحکومت کو مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے۔ سی ڈی اے کی تربیتی اور ادارہ جاتی سیکھنے کی صلاحیت کو مزید ترقی دے کر Centre for Urban Innovation and Research قائم کیا جا سکتا ہے، جو شہری چیلنجز اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار پر تحقیق کرے۔
تحقیق کے اہم شعبوں میں شامل ہو سکتے ہیں:
* اسمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز؛
* مصنوعی ذہانت؛
* شہری نقل و حرکت؛
* قابلِ استطاعت رہائش؛
* موسمیاتی لچک؛
* پانی کا تحفظ؛
* ویسٹ مینجمنٹ؛
* ڈیجیٹل گورننس؛
* اربن فارسٹ؛
* آفات سے نمٹنے کی تیاری؛ اور
* پائیدار انفراسٹرکچر۔
یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں اور کامیاب دارالحکومتوں کی انتظامیہ کے ساتھ شراکت داری اسلام آباد کی منفرد ضروریات کے مطابق جدید حل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈیزاسٹر پریپئرڈنس اور شہری لچک
جدید دارالحکومتوں کو ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق واقعات کے لیے مکمل طور پر تیار ہونا چاہیے۔
سی ڈی اے کو درج ذیل نظام مزید مضبوط کرنے چاہئیں:
* ہنگامی ردِعمل کے نظام؛
* فائر اور ریسکیو کی صلاحیت؛
* شہری سیلاب سے نمٹنے کا نظام؛
* ہنگامی مواصلاتی نظام؛
* ڈیزاسٹر آپریشنز اور کوآرڈینیشن؛
* ابتدائی انتباہی نظام؛
* ایمرجنسی شیلٹرز اور رسپانس پلاننگ؛
* عوامی آگاہی؛ اور
* متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری۔
بہتر تیاری جانیں بچاتی ہے، انفراسٹرکچر کا تحفظ کرتی ہے اور بحران کے دوران عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔
تبدیلی کے محرک کے طور پر قیادت
ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایسی قیادت ضروری ہوتی ہے جو وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کا کردار انتہائی اہم ہے۔
چیئرمین سہیل اشرف کی متحرک قیادت میں ایک جدید سی ڈی اے کے لیے ضروری ہے کہ ترجیحات واضح کی جائیں، پیشہ ورانہ ٹیموں کو بااختیار بنایا جائے، احتساب یقینی بنایا جائے، جدت کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مسلسل اولین ترجیح حاصل رہے۔
دور اندیش قیادت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اصلاحات صرف پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں قابلِ مشاہدہ بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔
قیادت کا فلسفہ یہ ہونا چاہیے:
آگے بڑھ کر قیادت کرنا، ادارے کو بااختیار بنانا، میرٹ کا احترام کرنا، کارکردگی کو سراہنا، احتساب کو یقینی بنانا اور شہریوں سے مسلسل رابطے میں رہنا۔
اگر اس طرزِ عمل کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے تو سی ڈی اے محض ایک ترقیاتی اتھارٹی نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے سرکاری شعبے میں ادارہ جاتی اعلیٰ کارکردگی کا ایک قابلِ تقلید معیار بن سکتا ہے۔
اسلام آباد: دارالحکومت سے عالمی ماڈل تک
حتمی مقصد صرف اسلام آباد کو صاف، سرسبز اور خوبصورت بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا دارالحکومت تشکیل دینا ہونا چاہیے جو دنیا کو دکھا سکے کہ مؤثر حکمرانی، دانشمندانہ منصوبہ بندی، ماحولیاتی ذمہ داری اور جدید ٹیکنالوجی مل کر کیا حاصل کر سکتی ہیں۔
ایک مثالی اسلام آباد میں:
* عالمی معیار کا انفراسٹرکچر؛
* مؤثر عوامی خدمات؛
* صاف اور سرسبز ماحول؛
* قابلِ اعتماد پانی اور صفائی؛
* محفوظ اور قابلِ رسائی عوامی مقامات؛
* اسمارٹ موبیلٹی؛
* قابلِ استطاعت اور معیاری رہائش؛
* ڈیجیٹل حکومت؛
* شفاف انتظامیہ؛
* مالیاتی پائیداری؛
* ماحولیاتی تحفظ؛
* ثقافتی سرگرمیوں کی رونق؛
* سیاحتی مواقع؛
* سرمایہ کاری کی استعداد؛
اور سب سے بڑھ کر شہریوں کے لیے اعلیٰ معیارِ زندگی ہونا چاہیے۔
اختتامیہ
اسلام آباد کو دنیا کے ایک مثالی دارالحکومت میں تبدیل کرنا ایک بلند پایہ قومی مقصد ہے، لیکن یہ مقصد بصیرت افروز قیادت، ادارہ جاتی نظم و ضبط، پیشہ ورانہ انتظام، جدید ٹیکنالوجی، پائیدار منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی متحرک قیادت میں سی ڈی اے ادارہ جاتی جدیدیت اور شہری تبدیلی کے ایک جامع پروگرام کو مزید تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دنیا کے بہترین دارالحکومت کی جانب سفر کے لیے تسلسل، مستقل مزاجی، احتساب اور طویل المدتی ادارہ جاتی وژن ناگزیر ہیں۔
سی ڈی اے کی حقیقی کامیابی صرف تعمیر شدہ عمارتوں، مکمل کی گئی سڑکوں یا شروع کیے گئے منصوبوں سے نہیں بلکہ اس وقت حاصل ہوگی جب اسلام آباد کے شہری بہتر خدمات، صاف ستھرے ماحول، محفوظ کمیونٹیز، مؤثر انتظامیہ، بہتر سفری سہولیات، قابلِ اعتماد بنیادی سہولیات، زیادہ شفافیت اور بلند معیارِ زندگی کا عملی تجربہ کریں گے۔
لہٰذا ہمارا مقصد ہونا چاہیے:
جدید اسلام آباد کے لیے جدید سی ڈی اے۔
پائیدار اسلام آباد کے لیے پائیدار سی ڈی اے۔
اسمارٹ اسلام آباد کے لیے اسمارٹ سی ڈی اے۔
شہری دوست اسلام آباد کے لیے شہری مرکزیت پر مبنی سی ڈی اے۔
اور پاکستان کے شایانِ شان دارالحکومت کے لیے اعلیٰ ادارہ جاتی کارکردگی کا حامل سی ڈی اے۔
مضبوط قیادت، پیشہ ورانہ انسانی وسائل، ڈیجیٹل تبدیلی، مالیاتی پائیداری، ماحولیاتی ذمہ داری، جدید شہری منصوبہ بندی اور بامعنی شہری شمولیت کے ذریعے اسلام آباد دنیا کے خوبصورت منصوبہ بند دارالحکومتوں میں اپنی موجودہ حیثیت کو مزید بلند کرتے ہوئے دنیا کے بہترین نظم و نسق والے، پائیدار، اسمارٹ اور قابلِ رہائش دارالحکومتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
یہ محض شہری ترقی کا ایجنڈا نہیں بلکہ ایک قومی وژن ہے—ایسا وفاقی دارالحکومت تشکیل دینے کا وژن جو پاکستان کی امنگوں کی عکاسی کرے، اچھی حکمرانی کے حوالے سے ملک کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے، دنیا کا اعتماد اور احترام حاصل کرے اور ہر پاکستانی کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی متحرک قیادت میں اسلام آباد کو حقیقی معنوں میں “دنیا کا مثالی دارالحکومت” بنانے کا یہ وژن پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی مسلسل ترقی کی تاریخ کا ایک قابلِ فخر اور یادگار باب ثابت ہو سکتا ہے۔ 🇵🇰🌍