اسلام آباد (سہ پہر) بینش فاطمہ نہیں، یہ دراصل مریم نواز کا ویژن ہے
اسلام آباد (سہ پہر) کبھی کبھی ایک تقرری صرف ایک افسر کی تقرری نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے ایک سوچ، ایک پالیسی اور ایک پیغام چھپا ہوتا ہے۔ لودھراں میں بینش فاطمہ کی بطور ڈی پی او تعیناتی کو اگر صرف ایک انتظامی فیصلہ سمجھا جائے تو شاید ہم اس کی اصل اہمیت کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ میرے نزدیک یہ تقرری دراصل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس وژن کی عکاس ہے جس کے تحت خواتین کو محض نمائشی عہدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی میدان میں اتارا جا رہا ہے۔
پاکستان کی بیوروکریسی اور پولیس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بڑی واضح نظر آتی ہے۔ برسوں تک اہم انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے عہدے مردوں کے گرد گھومتے رہے۔ خواتین کو مواقع ملے بھی تو زیادہ تر ایسے شعبوں میں جہاں ان کی موجودگی کو رسمی اور علامتی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں پنجاب میں ایک مختلف سوچ ابھرتی دکھائی دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بارہا خواتین کی عملی شرکت، قیادت اور بااختیار کردار پر زور دیا ہے جبکہ خواتین کے تحفظ اور ان کی نمائندگی کے لیے متعدد اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ پنجاب میں خواتین پولیس افسران کو نمایاں ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں، خواتین پولیس اسکواڈز تشکیل دیے جا رہے ہیں اور خواتین کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ سب ایک وسیع تر سوچ کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد خواتین کو فیصلہ سازی اور عملدرآمد کے مراکز تک پہنچانا ہے۔
اسی تناظر میں جب بینش فاطمہ کا نام سامنے آتا ہے تو معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔
وہ کسی دفتر کی خاموش افسر نہیں رہیں۔ راولپنڈی میں سی سی ڈی کی سربراہی کے دوران انہوں نے ایک ایسے ماحول میں کام کیا جہاں جرائم بھی منظم تھے اور چیلنجز بھی پیچیدہ۔ راولپنڈی ایسا ضلع ہے جہاں پولیس افسر کو صرف مجرموں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ مختلف قسم کے دباؤ، مفادات اور طاقت کے مراکز سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی لودھراں تعیناتی ایک عام تبادلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اور حقیقت بھی موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بینش فاطمہ کو لودھراں میں کوئی خالی میدان نہیں ملا۔ ان سے قبل کیپٹن (ر) علی بن طارق اس ضلع میں ایک مضبوط انتظامی روایت چھوڑ کر گئے ہیں۔ ان کے دور کو لودھراں میں مؤثر پولیسنگ، نظم و ضبط، عوامی رابطوں اور قانون کی عملداری کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پولیسنگ کو محض تھانوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوامی اعتماد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
کسی بھی ضلع میں اصل کامیابی یہ نہیں ہوتی کہ چند بڑے مقدمات حل کر لیے جائیں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ ادارے کے اندر ایک ایسا معیار قائم کر دیا جائے جسے بعد میں آنے والے افسران بھی برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔
کیپٹن علی بن طارق یہی معیار چھوڑ کر گئے ہیں۔
اب بینش فاطمہ کے سامنے چیلنج صرف جرائم سے نمٹنے کا نہیں بلکہ اس معیار کو برقرار رکھنے اور اسے مزید بلند کرنے کا بھی ہے۔
یہیں سے مریم نواز کے وژن کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔
کیونکہ کسی خاتون افسر کو بڑا عہدہ دینا آسان ہے، لیکن اس پر اعتماد کرنا، اسے اختیارات دینا اور اسے نتائج دینے کا موقع فراہم کرنا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر بینش فاطمہ لودھراں میں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس سوچ کی کامیابی ہوگی جو کہتی ہے کہ قیادت کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ صلاحیت سے ہوتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ مواقع کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کی کمی رہی ہے۔ معاشرہ اکثر خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم تو کر لیتا ہے لیکن انہیں اختیار دینے میں ہچکچاتا ہے۔ مریم نواز چونکہ خود پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں، اس لیے شاید وہ اس نفسیات کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں خواتین کو محض تقریروں کا موضوع بنانے کے بجائے عملی میدان میں آگے لانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ خواتین پولیس اسکواڈز، خواتین کے تحفظ کے لیے ورچوئل پولیس اسٹیشن اور خواتین کی نمائندگی میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
بینش فاطمہ اسی پالیسی کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
لودھراں کے عوام کے لیے شاید یہ بات اتنی اہم نہ ہو کہ ان کے ضلع میں پہلی خاتون ڈی پی او آئی ہے۔ ان کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جرائم کم ہوں گے؟ کیا عام آدمی کی شنوائی ہوگی؟ کیا تھانے میں غریب اور طاقتور کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا؟ کیا خواتین خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی؟
یہ سوالات جائز ہیں۔
اور یہی سوالات کسی بھی ڈی پی او کی اصل کارکردگی کا پیمانہ بنتے ہیں۔
تاہم اگر ہم اس پوری تصویر کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو بینش فاطمہ کی تعیناتی ایک اور پیغام بھی دیتی ہے۔ یہ پیغام ہے کہ پنجاب میں اب خواتین کو صرف فلاحی منصوبوں کی نمائندگی کے لیے نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے، فیصلے کرنے اور نتائج دینے کے لیے بھی آگے لایا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی چھوٹی نہیں۔
کیونکہ معاشروں کی تقدیر صرف قوانین سے نہیں بدلتی، مثالوں سے بدلتی ہے۔
کل اگر کسی دیہی گھر کی بچی یہ دیکھتی ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھی خاتون ہے، کمشنر بھی خاتون ہو سکتی ہے، اسسٹنٹ کمشنر بھی خاتون ہو سکتی ہے اور ڈی پی او بھی خاتون ہو سکتی ہے تو اس کے خوابوں کی حدیں خود بخود وسیع ہو جاتی ہیں۔
شاید یہی کسی بھی قیادت کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
اسی لیے میرے نزدیک لودھراں میں بینش فاطمہ کی تعیناتی کی خبر صرف بینش فاطمہ کی خبر نہیں۔
یہ مریم نواز کے اس وژن کی خبر ہے جس میں خواتین کو صرف تالی بجانے والی صف میں نہیں بلکہ فیصلے کرنے والی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔
اب وقت فیصلہ کرے گا کہ بینش فاطمہ لودھراں میں کیا نتائج دیتی ہیں۔ لیکن ایک بات آج ہی کہی جا سکتی ہے کہ ان کی تعیناتی اس سوچ کا تسلسل ہے جس کے تحت پنجاب میں خواتین کو عملی قیادت کا موقع دیا جا رہا ہے۔
اور اگر وہ راولپنڈی کی طرح لودھراں میں بھی کامیاب رہیں تو پھر لوگ شاید انہیں صرف ایک کامیاب ڈی پی او کے طور پر یاد نہ رکھیں بلکہ ایک ایسے وژن کی نمائندہ کے طور پر یاد رکھیں جس نے پنجاب کی بیٹیوں کو دفتر کی دیواروں سے نکال کر میدانِ عمل کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔