اسلام آباد (سہ پہر) صحافت کو سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں، اندرونی تقسیم سے ہے؟
اسلام آباد (سہ پہر) صحافت کو سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں، اندرونی تقسیم سے ہے؟
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر اس شعبے کو درپیش چیلنجز میں ایک اہم مسئلہ صحافی برادری کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مختلف شہروں میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ صحافی ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ معاونت کے بجائے ذاتی اختلافات، گروہ بندی اور باہمی کشیدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق جب صحافی برادری مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف انفرادی صحافیوں پر پڑتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحافت کے وقار اور ساکھ پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی صحافی کے ساتھ ناانصافی یا دباؤ کی صورت میں بھی مؤثر اور متحد آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات محنتی صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے انہیں غیر ضروری مخالفت، تنقید یا ذاتی رنجشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ صورتِ حال ہر جگہ یا تمام صحافیوں پر لاگو نہیں ہوتی، لیکن جہاں ایسا ہوتا ہے وہاں پیشہ ورانہ ماحول متاثر ہوتا ہے۔
ماضی میں صحافیوں کی اجتماعی طاقت اور اتحاد کو ان کی سب سے بڑی قوت سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی اگر صحافی برادری باہمی احترام، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اتحاد کو فروغ دے، تو نہ صرف اس شعبے کا وقار بحال ہو سکتا ہے بلکہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
صحافت کا اصل مقصد ذاتی لڑائیاں نہیں بلکہ سچ کی تلاش، عوامی مفاد کا تحفظ اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ عزت کا احترام ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، لیکن ذاتی دشمنیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر حاوی ہونے دینا نہ صحافت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی معاشرے کے۔