اسلام آباد (سہ پہر) امریکا , ایران معاہدہ ,آخری موقع ,ثالث پرامید
اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کی ثالثی میں 17 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (ایم او یو) پر ڈیجیٹل دستخط کیے تھے۔ اس 14 نکاتی مسودے کے تحت عارضی جنگ بندی، ایران کو تیل کی فروخت کی مشروط اجازت، اور ایران کے منجمد ترقیاتی فنڈز (300 ارب ڈالر) تک رسائی شامل تھی۔ دستخط کے چند ہی دن بعد آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور حتمی شرائط پر دونوں فریقین میں شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس سے یہ عارضی معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا۔مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمتیں 5 فیصد تک گر کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں ,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات ایران کے لیے ایک “آخری موقع” ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مستقل معاہدہ نہیں ہوتا یا ایران ہتھیار نہیں ڈالتا، تب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی معاہدوں جیسے جون 2026 میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا معاہدہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں طے پا سکتا ہے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ واشنگٹن اپنی ناکہ بندی ختم کرے اور سابقہ وعدوں کا پاس رکھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثوں کی جاری کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان بدستور اہم ترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ قطر اور عمان بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے کیے ہیں، جس کا مقصد تعطل کا شکار 60 روزہ سفارتی روڈ میپ کو بچانا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی حملے فی الحال منسوخ کر دیے ہیں تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کا دعویٰ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے مستقل طور پر کھول دیا جائے گا۔
واشنگٹن کا اصرار ہے کہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے سخت شرائط ماننا ہوں گی۔
ثالث کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں فریق طویل جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اس لیے عارضی کشیدگی کے باوجود مفاہمت کی گنجائش موجود ہے۔
قطر، عمان اور پاکستان ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، مجوزہ معاہدوں کے مسودوں کے تبادلے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے معاونت میں مصروف ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ تعطل کے باوجود پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی اور دونوں معاشی و عسکری حریفوں کے درمیان سفارتی پیغامات کی مسلسل ترسیل خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں اہم ترین ہتھیار ثابت ہو رہی ہے۔
اس ضمن میں ثالث قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے سکتے ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ثالث ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے فی الحال امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم یہ واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں ثالثی کے ذریعے سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔
ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کے عارضی محفوظ راستوں اور ٹیکسز کے معاملات پر عمان کے ساتھ تکنیکی سطح کی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھلنا چاہیے اور یہاں جہاز رانی اسی طرح جاری رہنی چاہیے جیسے ماضی میں جاری تھی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔قطر کے نزدیک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کا فیصلہ علاقائی ممالک کو مل کر کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل بلا تعطل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے،
امید ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند روز یا گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک یا دو روز میں معاہدے کا امکان ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad MoU) کے جن 14 بنیادی نکات کا ذکر کیا ہے، وہ 17 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط ہونے والی دستاویز کا اصل متن ہیں۔ تاہم، حالیہ ہفتوں (جولائی اور اگست 2026) میں زمینی صورتحال اور اس معاہدے کی حیثیت ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔14 نکات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کہا گیا ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا
معاہدے میں کہا گیا کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہےامریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔ امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ 60 دن کا وقت شروع ہو چکا کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں ,مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔معاہدے کے ایک حصے میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔دستاویز کے مطابق طویل مدت میں ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ تشکیل دے گا۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔
ایران اس بات پر متفق ہوا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک اور معاشی سہارا مل سکے۔دستاویز کے آخری نکات میں کہا گیا کہ امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مستقبل کے معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک ’طریقۂ کار‘ قائم کریں گے جب دستخط ہو جائیں گے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا تو امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ آخر میں مفاہمتی یادداشت میں واضح کیا گیا کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی امید پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے بعد خام تیل پہلی بار 13 جولائی کے بعد 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا ہے۔ عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں کمی دیکھی گئی جب امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ ”آج یا کل“ طے پانے کا امکان ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 79.50 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 13 جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 80 ڈالر سے نیچے آئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی 5.5 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی اور یہ 75.77 ڈالر فی بیرل تک آگیا، جو گزشتہ 3 ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ بعد میں ڈبلیو ٹی آئی میں معمولی بہتری آئی اور یہ تقریباً 4.3 فیصد کمی کے ساتھ 76.90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں نے اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کو مثبت اشارہ سمجھتے ہوئے خرید و فروخت کے فیصلے کیے تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مستقبل اور مذاکرات کے نتائج پر اب بھی غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے جاری کوششیں ”انتہائی مثبت مرحلے“ میں داخل ہو چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ 23 جولائی کو برینٹ خام تیل 100.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا تاہم بعد ازاں خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقعات کے باعث قیمتوں میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگئی۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ کشیدگی میں اضافے سے خام تیل مہنگا ہوا جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ خلاصہ یہ کہ جو 14 نکات جون میں طے پائے تھے، وہ جولائی کی لڑائی کی وجہ سے عملی طور پر معطل ہو چکے ہیں اور اس وقت پاکستان ,عمان و قطر کے ذریعے انہی نکات کو کسی نئے عارضی فریم ورک میں ڈھالنے کی آخری کوششیں جاری ہیں۔