اسلام آباد (سہ پہر) کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہوگا جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہوگا
اسلام آباد (سہ پہر) آخرکار بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی۔ گزشتہ چند ماہ سے مختلف قیاس آرائیاں اور چہ مگوئیاں جاری تھیں، مگر اب بات کھل کر سامنے آ گئی۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی نظام میں تبدیلی کی حمایت کا بیان دیا۔
اگر یہ مؤقف پہلے سے موجود تھا، تو بعض لوگوں کے نزدیک وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا بیان اسی بیانیے کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔
میرے لیے یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ محسن نقوی اور فیصل واڈا جیسے لوگ عملاً کس سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیونکہ جس جماعت کے ٹکٹ پر ایوان میں موجود ہیں، اور پارٹی مؤقف سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ چونکہ یہ روایتی عوامی سیاست کے بجائے نامزدگی یا حمایت کے ذریعے ایوان تک پہنچے ہیں، اس لیے ان کی عوامی نمائندگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ تاہم، وہ جن حلقوں یا مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے بارے میں واضح طور پر اظہار نہیں کرتے۔اور ہمت اُن میں بھی نہیں کہ وہ کھل کہیں کہ یہ ہمارے پیدا کردہ لوگ ہیں۔ ویسے تو اس ملک میں نرسری وہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف یا چاہے عمران خان ہو ان کی پیدائش سے آبیاری وہیں کی گئی۔ ایک تڑکہ چوہدریوں کا بھی لگایا گیا۔ اب جمہوریت کے نعرے تو جنرل ضیا الحق اور مشرف صاحب کے منہ سے سن چکے ہیں اور جنرل شریف صاحب نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ نظام عوام امنگوں کی ترجمانی نہیں کر رہا لہذا کچھ تبدیلی (جمہوری) لانا ہوگی۔ اب دیکھیں کیا تبدیلی آتی ہے۔ ویسے اس تبدیلی کی تیاری تو پہلے سے نظر آرہی تھی جب بعض لوگوں کے ذریعے نئے صوبے بنانے کے نام پر راہ ہموار کی جارہی تھی۔ ویسے آپ جانتے ہی ہونگے کہ دنیا بھر میں تھینک ٹینک قانون سازی کی راہ ہموار کرتے ہیں اور عوام کو آگہی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ رواج دنیا سے مختلف ہے کیونکہ بہت سے تھینک ٹینک چینی زبان بولتے ہیں اور بعض کے ذریعے انسانی حقوق کے نام پر یورپ اور امریکہ کے بیانیہ کو پیش کیا جاتا ہے۔ باقی تمام کے تمام اُسی نرسری میں اگتے اور مرجاتے ہیں۔ اب اسے ستم کہیں یا قسمت عام آدمی کی کہیں شنوائی نہیں۔
اب ڈی جی صاحب نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران یہ بھی فرمایا کہ نوجوان نسل جنہیں جین زی بھی کہا جاتا ہے وہ ان سے زیادہ سمجھ رکھتے ہیں لیکن وہ بھول گئے کہ اگر نئی نسل اپنے مستقبل کی بہتری کی بات کرتی ہے تو انہیں وہ سبق سکھایا جاتا ہے کہ انہیں جان بچانا مشق ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو شاہراہ جمہوریت پر مہینوں تک دمادم مست قلندر کرتے رہے اور اس وقت کی سپریم کورٹ تک کی ہمت نہیں تھی کہ انہیں کچھ کہتے اور ایک وہ بھی وقت آیا جب ایک سیشن جج کے فیصلے کے بعد انہی کے لیڈر کو سزائے موت سنا دی جاتی اور وہ کچھ نہیں کر پاتے۔ موصوف جس نظام کی بات کرتے ہیں یہ انہیں کا دیا ہوا کیونکہ چند دھائیاں قبل ایک جرنیل ون یونٹ کی بات کرتا ہے نتیجا ملک تقسیم ہو جاتا ہے۔ اب نئے صاحب مزید صوبوں کی بات کرتے ہیں۔ تو جو جی میں آئے کریں سرکار۔ آپ کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں اور لوگ موت سے ڈرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو نوجوان نسل کی پروا نہیں بلکہ مزید اختیارات چاہیے۔ نوجوان نسل کا یہ عالم ہے مہنگے تعلیمی اداروں میں لاکھوں روپے خرچ کرکے ڈگری حاصل کرتے ہیں تو جس ادارے میں بھی ملازمت کے لئے جاتے ہیں وہ شرم ناک تنخواہ کا نمبر دیکھ کر خود کو کوستے ہیں کہ کیونکہ پیسہ برباد کیا۔ سرکاری نظام کیسے چل سکتا ہے کیونکہ بیوروکریسی، عدالتی نظام اور شاہراہ جموریت پر تو آپ کا راج ہے۔ ایسے میں الزام کس کو دیتے ہو؟ اس ملک میں بحریہ ٹاؤن تو ڈوب سکتا ہے مگر ڈیفنس نہیں۔ پی آئی اے، ریلوے تو خسارے میں رہے مگر عسکری بینک، سیمنٹ یہاں تک کہ سی ایس ڈی منافع میں ہی رہے گی۔
ایسے میں غریب کی دعا ہی ہے اگر عرش والا فرش والے کی سن لے۔