اسلام آباد (سہ پہر) کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی صحت کے فروغ میں پاکستان کاعالمی کردار
اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان حکومتی سطح پر نوجوانوں کی کھیلوں میں شمولیت کو یقینی بنا رہا ہے تاکہ انہیں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اس کا مقصد نوجوانوں میں خوداعتمادی، مثبت سوچ اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔ورلڈ کپ 2026 کا فائنل آج اتوار، 19 جولائی کو نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ارجنٹائن اور اسپین کی ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے اقوام متحدہ کی ایک باوقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی صحت، فلاح و بہبود اور عالمی یکجہتی کے فروغ میں پاکستان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان میں تیار کردہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی سرکاری میچ بال “TRIONDA” بھی پیش کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ “TRIONDA” محض ایک فٹ بال نہیں بلکہ یہ پاکستانی ہنرمندی، بے پناہ مہارت اور عالمی معیار کی دستکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سے قبل بھی کئی فیفا ورلڈ کپ مقابلوں کے لیے سرکاری میچ بالز تیار کر چکا ہے، جو ہماری قومی صنعت کی اعلیٰ صلاحیت اور بین الاقوامی معیار کا واضح ثبوت ہے۔کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھیل مختلف ممالک، ثقافتوں اور معاشروں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ جب مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ساتھ کھیلتے ہیں، تو وہ ایک ساتھ کھڑا ہونا سیکھتے ہیں، جس سے معاشرے میں مثبت سوچ، صحت مند طرزِ زندگی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی متحرک قیادت میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی خوداعتمادی، ثابت قدمی اور ذہنی و جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اور انہیں ایک پرامن و خوشحال معاشرے کی تعمیر میں تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل بنانا وزیراعظم یوتھ پروگرام کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان مستقبل میں بھی کھیلوں کے میدان اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے عالمی سطح پر اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ فیفا ورلڈ کپ میچ بالز: پاکستان کا شہر سیالکوٹ دنیا بھر میں فٹ بال بنانے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ پاکستان نے متعدد بار فیفا ورلڈ کپ کے لیے باضابطہ میچ بالز (جیسے ‘برازوکا’، ‘الرحلہ’ اور 2026ء کے لیے ‘TRIONDA’) تیار کر کے عالمی سطح پر اپنی دستکاری اور صنعتی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔
پاکستان عالمی سطح پر (جیسے اقوام متحدہ کے حالیہ پروگراموں میں) کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی صحت، سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔
پاکستان کا شہر سیالکوٹ دنیا بھر میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے والا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں کا سامان اپنی پائیداری اور نفاست میں بے مثال ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ یعنی فیفا فٹ بال ورلڈ کپ سیالکوٹ کے بغیر نامکمل ہے۔ پاکستان نے 2014ء (Brazuca)، 2018ء (Telstar 18)، 2022ء (Al Rihla) اور اب موجودہ 2026ء کے ورلڈ کپ کے لیے “TRIONDA” فٹ بال تیار کر کے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ یہ فٹ بال تھرمو بانڈنگ (Thermo-bonding) کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنتی ہیں۔ دنیا کے مشہور ترین برانڈز جیسے Adidas، Nike، اور Puma اپنے کرکٹ بلے، گلوز، فٹ بال اور دیگر حفاظتی سامان سیالکوٹ کے ماہر کاریگروں سے تیار کرواتے ہیں۔ یہ صنعت سالانہ اربوں ڈالرز کا زرِ مبادلہ کما کر پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرتی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔سیالکوٹ میں فیفا ورلڈ کپ کے لیے تیار ہونے والے جدید فٹ بالز روایتی فٹ بالز سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اب ہاتھ سے سلائی کے بجائے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔: فٹ بال کی بیرونی سطح کے لیے اعلیٰ معیار کا پولی یوریتھین (Polyurethane/PU) استعمال ہوتا ہے۔ یہ مواد گیند کو واٹر پروف (Waterproof) بناتا ہے اور ہوا میں اس کی رفتار کو برقرار رکھتا ہے۔ پی یو شیٹ کے نیچے مصنوعی ریشے (Synthetics) اور کپڑے کی تہیں لگائی جاتی ہیں تاکہ گیند مضبوط رہے اور اپنی گول شکل نہ کھوئے۔ ایک جدید فٹ بال عام طور پر 20 سے 32 پینلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان پینلز کو جدید لیزر یا ڈائی کٹنگ مشینوں کے ذریعے انتہائی باریک بینی سے کاٹا جاتا ہے تاکہ ہر پینل کا سائز اور وزن بالکل یکساں ہو۔یہ سب سے اہم اور جدید مرحلہ ہے۔ پینلز کو آپس میں دھاگے سے سینے کے بجائے ایک خاص گوند (Adhesive) کے ذریعے جوڑا جاتا ہےپینلز کو ایک سلفیورک بلیڈر (Bladder) کے گرد رکھ کر انتہائی گرم سانچوں (Molds) میں دبایا جاتا ہے۔ حرارت کی وجہ سے پینلز آپس میں اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ گیند پر ایک بھی سلائی یا سوراخ نظر نہیں آتا۔ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ یہ ہے کہ بارش کے دوران گیند کے اندر پانی بالکل نہیں جاتا اور اس کا وزن نہیں بڑھتا۔ : گیند کے اندر ہوا کو روکنے کے لیے ہائی گریڈ لیٹیکس (Latex) یا بیوٹائل (Butyl) کا بلیڈر استعمال ہوتا ہے۔ یہ بلیڈر ہوا کے دباؤ کو برابر رکھتا ہے جس سے گیند بالکل سیدھی اڑتی ہے۔ ایک خاص قسم کا والو لگایا جاتا ہے جو ہوا بھرتے وقت تو آسان ہوتا ہے لیکن کھیل کے دوران ہوا کو باہر نکلنے سے مکمل طور پر روکتا ہے۔ تھرمو بانڈڈ فٹ بال تیار ہونے کے بعد اسے لیبارٹری میں فیفا کے سخت ترین ٹیسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے گیند کو 16 مختلف زاویوں سے ماپا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ 100% گول ہے۔ فیفا کے قانون کے مطابق گیند کا وزن 420 سے 445 گرام کے درمیان ہونا چاہیے۔ گیند کو 2 میٹر کی بلندی سے اسٹیل کے فرش پر گرایا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ یہ کتنی اوپر آتی ہے۔ گیند کو پانی میں گھمایا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ پانی تو نہیں چوس رہی۔کھیلوں کے فروغ میں پاکستان کا عالمی کردار ہمیشہ سے انتہائی اہم اور اثر انگیز رہا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف دنیا کو عظیم کھلاڑی دیے ہیں بلکہ کھیلوں کی عالمی صنعت، امن اور سفارت کاری میں بھی مثالی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر کے نامور برانڈز کرکٹ، ہاکی، ٹینس اور مارشل آرٹس کا سامان سیالکوٹ سے ہی تیار کرواتے ہیں، جو پاکستان کے عالمی معیار کی علامت ہے۔ پاکستان نے اسکواش کے کھیل کو جدید بنانے کے لیے شیشے کی دیواروں والے کورٹس (Glass Courts) متعارف کروائے، جس سے اس کھیل کو ٹی وی پر دیکھنا ممکن ہوا اور اس کی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔کرکٹ میں ‘دوسرا’ اور ‘ریورس سوئنگ’: پاکستانی گیند بازوں نے کرکٹ کی دنیا کو ‘ریورس سوئنگ’ اور ‘دوسرا’ جیسی تکنیکس دیں، جنہوں نے جدید کرکٹ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے بیک وقت چار بڑے کھیلوں (کرکٹ، ہاکی، اسکواش، اور سنوکر) کے عالمی ٹائٹلز اپنے نام کیے۔ پاکستان نے فیلڈ ہاکی کو عالمی سطح پر مقبول بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور ریکارڈ 4 مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان نے ہمیشہ کھیلوں کو مختلف ممالک اور ثقافتوں کے درمیان دوریاں مٹانے اور امن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ پاک-بھارت کرکٹ سیریز اس کی بڑی مثال رہی ہیں، جنہوں نے کئی بار سیاسی تناؤ کو کم کرنے میں مدد کی۔ پاکستان کا ایجاد کردہ عروج ہاکی کی تاریخ پاکستان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے، کیونکہ اس کھیل کو جدید شکل دینے اور اسے عالمی سطح پر مقبول بنانے کا سہرا پاکستان کے سر ہے۔عالمی ریکارڈز: پاکستان ہاکی کی تاریخ کی کامیاب ترین ٹیم رہی ہے جس نے ریکارڈ 4 مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ (1971، 1978، 1982، 1994) جیتا۔ اس کے علاوہ 3 بار اولمپک گولڈ میڈل اور 3 بار چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی۔
یہ پاکستان ہی تھا جس نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کو ہاکی ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی شروع کرنے کی تجویز دی اور ان ٹورنامنٹس کی خوبصورت ٹرافیاں بھی پاکستان نے ہی ڈیزائن کر کے تحفے میں دیں۔ اصلاح الدین، حسن سردار، شاہناز شیخ اور دنیا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی سہیل عباس جیسے لیجنڈز نے ہاکی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ کھیل کا رخ بدلنے والے انقلاباتکرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو ہمیشہ ایک “Unpredictable” اور بے پناہ باصلاحیت ٹیم مانا گیا ہے، جس نے کھیل کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ پاکستان نے 1992ء کا ون ڈے ورلڈ کپ، 2009ء کا ٹی 20 ورلڈ کپ، اور 2017ء کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیت کر کرکٹ کی دنیا پر راج کیا۔ :ریورس سوئنگ (Reverse Swing): عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس نے پرانی گیند کو ہوا میں سوئنگ کرنے کا یہ فن ایجاد کیا، جس نے دنیا بھر کے بلے بازوں کو حیران کر دیا۔ آف اسپنر ثقلین مشتاق نے ‘دوسرا’ گیند ایجاد کی، جو آج دنیا کا ہر اسپنر استعمال کرتا ہے۔ جاوید میانداد، انضمام الحق، اور یونس خان جیسے بلے بازوں سے لے کر جدید دور کے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں تک، پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو بہترین کرکٹرز دیے۔فیفا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فاتح کو پہلی بار روایتی ٹرافی اور طلائی تمغوں کے ساتھ خصوصی چیمپئن شپ رِنگز بھی دی جائیں گی۔ یہ کسی بھی فیفا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ فاتح ٹیم کو اس نوعیت کا اعزاز دیا جائے گا۔026 رنگز بنائی جائیں گی، جو ورلڈ کپ 2026 کی مناسبت سے اس تعداد میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے 30 رنگز فاتح ٹیم کے لیے مخصوص ہوں گی، جبکہ باقی 1,996 رنگز دنیا بھر کے شائقین کے لیے سرکاری لائسنس یافتہ مصنوعات کے طور پر فروخت کی جائیں گی تاکہ وہ بھی اس تاریخی ٹورنامنٹ کی یادگار اپنے پاس رکھ سکیں۔ ہر رنگ منفرد ہوگی اور اس پر الگ نمبر درج ہوگا۔ رنگ کے ایک حصے پر فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی کا نقش بنایا جائے گا، جبکہ دوسرے حصے کو فاتح ٹیم کی شناخت کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ ہر رنگ متعلقہ فرد کے ہاتھ کے مطابق تیار کی جائے گی اور اس کے ساتھ ایک سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔فیفا کے مطابق فائنل ختم ہونے کے فوراً بعد فاتح ٹیم کے کپتان اور ہیڈ کوچ کو یادگاری طور پر عارضی رنگز دی جائیں گی۔ بعد ازاں فاتح ٹیم کے لیے مخصوص تمام 30 رنگز کو انفرادی طور پر تیار کیا جائے گا تاکہ وہ ہر کھلاڑی اور متعلقہ فرد کے لیے مکمل طور پر موزوں ہوں، جس کے بعد انہیں ایک الگ تقریب میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔
چیمپئن شپ رنگز امریکا کی کئی بڑی کھیلوں کی لیگوں، جیسے امریکی فٹبال، بیس بال، باسکٹ بال، آئس ہاکی اور میجر لیگ سوکر میں کامیاب ٹیموں کو دی جاتی ہیں۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس روایت کو پہلی بار عالمی فٹبال کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ایک نئی اور منفرد یادگار بھی دی جا سکے۔ فائنل مقابلے کی فاتح ٹیم کو پہلی بار امریکی طرز کی چیمپئن شپ رنگز بھی دی جائیں گی، جو امریکہ کی مختلف پیشہ ورانہ کھیلوں کی روایات کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں,
فیفا نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ شائقین کے لیے فروخت کی جانے والی رنگز کی قیمت کیا ہوگی، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو حسبِ روایت ٹرافی اور طلائی تمغے بھی دیے جائیں گے۔
ارجنٹائن کے فٹبالر لیونل میسی اور اسپین کے نوجوان اسٹارلامین یامال کے درمیان ورلڈ کپ فائنل سے قبل دلچسپ کہانی سامنے آئی ہے، انیس19 سال پہلے ایک چیریٹی شو کے دوران لیونل میسی نے ایک ننھے بچے( اسپین کے نوجوان اسٹارلامین )کو پلاسٹک کے ٹب میں نہلایا تھا۔ اس وقت نہ ارجنٹائن کے فٹبالر لیونل میسی کو معلوم تھا اور نہ ہی کسی اور کو اندازہ تھا کہ یہ بچہ لامین یامال ایک دن بڑا ہو کر ورلڈ کپ فائنل کے سب سے بڑے مقابلے میں لیونل میسی کے سامنے کھڑا ہوگا۔یہ واقعہ 2007 کا ہے جب 20 سالہ میسی نے یونیسف کے ایک فلاحی کیلنڈر کے لیے فوٹو شوٹ میں حصہ لیا تھا۔ یہ مہم اسپین کے اخبار ’ڈیاریو اسپورٹ‘ تعاون سے منعقد کی گئی تھی، جس میں بارسلونا کے کھلاڑیوں کو مقامی خاندانوں کے ساتھ تصاویر کے لیے شامل کیا گیا تھا۔ اسی دوران میسی کی ملاقات ایک شیر خوار بچے سے ہوئی، جسے میسی نے گود میں اٹھایا، نہلایا اور تصاویر بنوائیں، لیکن اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ بچہ مستقبل میں فٹبال کا ایک بڑا نام بن جائے گا، وہ نام ہے لامین یامال، اسپین کا بہترین کھلاڑی۔
کئی سال تک لیونل میسی , ننھے بچے اسپین کے لامین کی تصاویر عام لوگوں کی نظروں سے دور رہیں۔ تاہم 2024 میں یامال کے والد نے جب یہ پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو وہ تیزی سے دنیا بھر میں وائرل ہو گئیں۔ شائقین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میسی کی گود میں موجود وہ بچہ ,لامین یامال آج بارسلونا اور اسپین کی ٹیم کا ابھرتا ہوا ستارہ بن چکا ہے۔لامین یامال نے کم عمری میں ہی فٹبال میں کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ اپنی شاندار ڈرِبلنگ، کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت اور دباؤ میں بہترین فیصلے کرنے کی وجہ سے وہ اسپین کی نئی نسل کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ورلڈ کپ میں بھی ان کی کارکردگی نے دنیا کو متاثر کیا ہے اور آج وہ فٹبال کے مستقبل کے بڑے ستاروں میں شمار کیے جارہے ہیں۔فٹبال کی دنیا ایک ایسے فائنل کا انتظار کر رہی ہے جو کئی حوالوں سے تاریخی ہے۔ ایک طرف میسی ہیں، جو اپنے کیریئر میں ایک اور ورلڈ کپ ٹرافی شامل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف یامال ہیں، جو اپنے عروج کے آغاز میں ہی دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے میں اپنی شناخت بنانے کے خواہاں ہیں۔یہ مقابلہ صرف دو کھلاڑیوں کے درمیان نہیں بلکہ فٹبال کی دو نسلوں کا سامنا بھی ہوگا۔ ایک کھلاڑی جس نے دنیا پر تقریباً دو دہائیوں تک حکمرانی کی، اور دوسرا نوجوان ستارہ جو نئی فٹبال دنیا کی امید سمجھا جا رہا ہے۔ انیس سال قبل بارسلونا میں ہونے والا ایک عام سا فلاحی فوٹو شوٹ آج ورلڈ کپ فائنل کی کہانی کا حصہ بن چکا ہے۔ میسی نے جس بچے کو کبھی اپنی گود میں اٹھایا تھا، اب وہی نوجوان دنیا کے سب سے بڑے میدان میں ان کے مدِمقابل ہوگا۔