پشاور (سہ پہر) پشاور روایتی و شاہانہ انداز میں خیبرپختونخوا چیمپئنز لیگ کی میزبانی کے لیے تیار, کے سی ایل صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی نئی نوید ثابت ہوگی: اصغر علی مبارک کی رپورٹ
پشاور (سہ پہر): صوبائی دارالحکومت پشاور کھیلوں کی تاریخ کے ایک نئے اور سنہرے باب کا گواہ بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے کیونکہ سنسنی خیز اور طویل عرصے سے منتظر “خیبرپختونخوا چیمپئنز لیگ” (کے سی ایل) کا باقاعدہ آغاز کل ایک شاندار اور روایتی ثقافتی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ ایونٹ کے وسیع اور فول پروف انتظامات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ملک کے ممتاز صحافی اور قانونی امور کے ماہر اصغر علی مبارک نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبائی انتظامیہ، خیبرپختونخوا اسپورٹس بورڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نو تعمیر شدہ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں اس میگا تقریب کو روایتی و شاہانہ انداز میں منعقد کرنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اصغر علی مبارک کے مطابق، یہ میگا لیگ محض ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک تاریخی پلیٹ فارم ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے سامنے خیبرپختونخوا کے عوام کی لازوال مہمان نوازی، منفرد پختون ثقافت اور کھیلوں سے گہری محبت کا حقیقی و پرامن چہرہ پیش کرنا ہے۔میدانِ کارزار میں اترنے والی چھ آفیشل فرنچائزز کے ناماصغر علی مبارک نے اپنی خصوصی بریفنگ میں بتایا کہ ٹورنامنٹ کی ٹرافی حاصل کرنے کے لیے صوبے بھر کی نمائندگی کرنے والی درج ذیل چھ طاقتور ترین ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہوں گی، جن کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے:پشاور پینتھرز (Peshawar Panthers)سوات ٹائٹنز (Swat Titans)خیبر واریئرز (Khyber Warriors)مردان چیلنجرز (Mardan Challengers)ایبٹ آباد ایگلز (Abbottabad Eagles)ڈی آئی خان اسٹالینز (DI Khan Stallions)ایوانِ سیاست اور دنیائے کرکٹ کے ستاروں کا سنگم شام ٹھیک 6:00 بجے شروع ہونے والی اس افتتاحی تقریب میں ملک کی صفِ اول کی سیاسی قیادت اور کرکٹ کے مایہ ناز ستارے ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔
لیگ کے سرپرستِ اعلیٰ (پیٹرن ان چیف) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ لانچنگ تقریب کے جوش کو مزید بڑھانے کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز کپتان اور کے سی ایل کے آفیشل برانڈ ایمبیسیڈر شاہد خان آفریدی کرکٹ اسٹارز اور فرنچائز مالکان کے ہمراہ اسٹیڈیم میں جلوہ گر ہوں گے۔
تقریب کے دوران ان تمام چھ ٹیموں کے کپتانوں، اسکواڈز اور ان کی آفیشل کٹس کا باقاعدہ تعارف کروایا جائے گا۔
پختون ثقافت کی بحالی اور شوبز کا زبردست تڑکاافتتاحی تقریب کے روایتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اصغر علی مبارک نے بتایا کہ اسٹیڈیم کو خوبصورت ثقافتی بینرز، مقامی دستکاریوں اور روایتی نقش و نگار سے سجایا گیا ہے۔ تقریب کے دوران روایتی خٹک ڈانس، علاقائی فلوٹس اور رباب کی جادوئی دھنوں کے ذریعے پختون ثقافت کا شاندار مظاہرہ پیش کیا جائے گا۔
کھیلوں کے اس میلے کو یادگار بنانے کے لیے شوبز اور موسیقی کا تڑکا بھی لگایا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی صفِ اول کی پاپ اسٹار آئمہ بیگ اپنے مشہور گیتوں سے اسٹیڈیم کا درجہ حرارت بڑھائیں گی، وہیں خیبرپختونخوا کے لیجنڈری فوک پاپ آئیکون رحیم شاہ اپنے مخصوص روایتی انداز میں شائقین کے جوش و جذبے کو بلندیوں پر پہنچائیں گے۔
تقریب کے اختتام پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔شائقین کے لیے مفت داخلہ اور فول پروف سیکیورٹیعوام دوست اقدام کے حوالے سے اصغر علی مبارک نے اپنی رپورٹ میں خصوصی طور پر ذکر کیا کہ کے سی ایل انتظامیہ نے نوجوانوں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے اسٹیڈیم میں داخلہ مکمل طور پر مفت قرار دیا ہے۔ فیملیز کی سہولت اور پرسکون ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیڈیم میں خصوصی فیملی انکلوژرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ مقامی ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے اسٹیڈیم کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی روٹ پلان جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ کھلاڑیوں، معزز مہمانوں اور ہزاروں شائقین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیڈیم اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور ملٹی لیئر انتظامات کیے گئے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا اور لیگ کے پیٹرن فیصل کریم کنڈی نے میڈیا کو جاری اپنے خصوصی بیان میں صوبے بھر کے کرکٹ شائقین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کل شام بڑی تعداد میں اپنے بچوں اور دوستوں کے ہمراہ اسٹیڈیم پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیگ ہمارے صوبے کے امن اور کھیلوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ میں پختونخوا کے غیور عوام اور نوجوانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں، اپنے ہیروز کا استقبال کریں اور اس تاریخی افتتاحی تقریب کو پشاور کی تاریخ کا ایک یادگار ترین دن بنا دیں۔ مفت داخلے کی پالیسی کے باعث شائقین میں پایا جانے والا زبردست جوش و خروش اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کل اسٹیڈیم تماشائیوں سے کچھا کچھ بھرا ہوگا، جو پاکستان کے مقامی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔