LOADING

Type to search

پاکستان

لاہور (سہ پہر) وزارتِ قومی صحت اورلمز نیشنل اے آئی ہب کے درمیان شراکت داری

لاہور(سہ پہر) 17 جولائی، 2026: لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے نیشنل اے آئی ہب نے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط کر دیے۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان کے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے، جس میں بالخصوص ماں، نومولود اور بچوں کی صحت کے بہتر نتائج بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ مفاہمتی یادداشتِ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تحقیق، جدت، شواہد کی تیاری، پالیسی سازی میں تعاون، اور استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ جس کے تحت وزارتِ قومی صحت اور نیشنل اے آئی ہب قومی ترجیحات کا تعین،مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کی تیاری اور جانچ میں تعاون کریں گے، اور پاکستان کے صحت کے نظام میں AI کے محفوظ اور مؤثر انضمام کو فروغ دیں گے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے محمد اسلم غوری، وفاقی سیکریٹری، وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری، ڈاکٹر شبانہ سلیم، ڈائریکٹر جنرل (پاپولیشن)، ڈاکٹر رشیدہ بتول، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT)، محمد ایوب، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ICT، اور ڈاکٹر بینش، ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) شریک ہوئے۔ لمز کی نمائندگی ڈاکٹر طارق جدون (پرووسٹ)، اور ڈاکٹر آغا علی رضا، ایسوسی ایٹ پروفیسر(شعبہ کمپیوٹر سائنس)نے کی۔ اس موقع پر نوید اکبر، کنسلٹنٹ(گیٹس فاؤنڈیشن) بھی موجود تھے۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمد اسلم غوری، وفاقی سیکریٹری(وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری) نے کہا: ”یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔”

ڈاکٹر طارق جدون نے کہا: ”یہ شراکت داری بین الشعبہ جاتی تحقیق کو عملی عوامی فائدے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ لمز مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس میں اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں زیادہ مضبوط، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ صحت کے نظام کی تشکیل اور ماؤں، نومولود بچوں کی صحت کے بہتر نتائج کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر خوش ہے۔”

یہ شراکت داری مشترکہ تحقیق، تکنیکی تعاون، علم و تجربات کے تبادلے اور متعلقہ فریقین کی شمولیت کو فروغ دے گی، جبکہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے پالیسیوں اور عملی حکمتِ عملی کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ حکومتی اداروں، جامعات، صحت کے اداروں، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کی مہارت کو یکجا کرتے ہوئے قومی استعداد کو مزید مضبوط بنائے گی۔

پاکستان میں ڈیجیٹل صحت کے شعبے کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کے تناظر میں، یہ یادداشتِ مفاہمت مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ مضبوط، مؤثر اور مساوی صحت کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے ملک بھر میں ماؤں، نومولود بچوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

X