LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) انسانی چہروں میں چھپے درندے

اسلام آباد (سہ پہر) کسی گلی کے نکڑ پر، کسی سکول کے راستے میں، کسی دکان میں یا پھر اپنے ہی گھر کی دہلیز پر، کہیں بھی، کبھی بھی۔

ایک معصوم چہرہ، ایک بھروسہ، اور پھر ایک ایسا زخم جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔

ہر صبح جب موبائل فون یا اخبار ہاتھ میں آتا ہے تو اخبار کے صفحات پلٹے ہوئے، موبائل پر سکرول کرتے ہوئے دل یہی دعا کرتا ہے کہ آج کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ ظلم کی کوئی خبر نہ ہو۔

مگر افسوس کہ یہ دعا اکثر ادھوری رہ جاتی ہے اور ہم افسوس کا اظہار کرتے ہیں، تھوڑی دیر برا بھلا کہتے ہیں اور پھر چائے پیتے ہوئے اگلے صفحے پر چلے جاتے ہیں یا موبائل سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں، درحقیقت یہی ہماری بے حسی ہے۔

جب میں چھوٹی تھی تو یہی سنتی تھی بچیوں کا خیال رکھنا چاہیے، حالات ٹھیک نہیں، بچی کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ ظلم صرف بچیوں تک محدود نہیں رہا۔

اب تو لڑکے بھی محفوظ نہیں، ہمارے معاشرے میں کم عمر لڑکے بھی جنسی زیادتی اور تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ہونے والے ایسے جرائم اکثر خاندان بدنامی کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں کرتے۔

لڑکے کیا، اکثر بچیوں کے کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتے، یہی خاموشی مجرموں کی طاقت بن جاتی ہے۔

اعداد و شمار ایسے ہیں کہ چیخ رہے ہیں لیکن ہم اس مسئلے کو اب بھی سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم “ساحل” کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پاکستان بھر میں بچوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا، اور مجموعی طور پر 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔

جس میں مجموعی طور پر 1107 بچوں کو اغواء، 522 بچوں کے ساتھ ریپ اور 108 بچوں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا۔

“ساحل” کی رپورٹ کے مطابق 58 بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

متاثرہ بچوں میں 53 فیصد بچیاں اور 47 فیصد بچے شامل تھے، جبکہ سب سے حساس عمر 11 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔

اگر میں حالیہ واقعات کی بات کروں جو میرے دل کو کیا روح تک زخمی کر گئے، اس میں سرگودھا کا “منتہیٰ کیس” ایک 7 سالہ معصوم بچی منتہیٰ دکان سے چیز لینے گئی جہاں اسے اغوا کیا گیا، اور ریپ کے بعد قتل کر کے لاش چھت پر پھینک دی گئی۔

کراچی کا “کلثوم کیس” کراچی کے علاقے میں ایک 3 سالہ بچی کلثوم کو مبینہ طور پر اغوا، ریپ اور بے دردی سے قتل کیا گیا۔

سوچیں ذرا صرف و صرف 3 سالہ۔

اوسطاً ایک دن میں 9 سے زائد بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے — یعنی ہر ڈھائی، تین گھنٹے میں ایک بچہ اور جہاں گمان تھا کہ بچیاں زیادہ غیر محفوظ ہیں، وہاں 11 سے 15 سال کی عمر کے گروپ میں لڑکوں کے متاثر ہونے کی شرح لڑکیوں سے بھی زیادہ ہے۔

اس میں سب سے خوفناک اور دردناک پہلو ہے کہ زیادتی کے بعد بچے کو زندہ نہیں چھوڑا جاتا، اس ڈر سے کہ وہ اس درندے کی نشاندہی نہ کر دیں۔

گزشتہ سال ایسے 58 واقعات سامنے آئے جہاں جنسی زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کر دیا گیا۔

سوچیے، ایک معصوم جان کو صرف اس لیے مار دیا گیا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی گواہ نہ رہے۔

آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے، اتنا ہی پیچیدہ بھی ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں خوفِ خدا ختم ہو چکا ہے؟ کیا انسانیت بالکل ختم ہو چکی ہے؟ اس کے علاوہ بھی کچھ عوامل ایسے ہیں جو بار بار سامنے آتے ہیں۔

سزا کا نہ ہونا
ہمارے یہاں مقدمات برسوں چلتے ہیں، شواہد کمزور پڑ جاتے ہیں، اور مجرم اکثر بری ہو جاتا ہے یا مصالحت کے نام پر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ جہاں سزا یقینی نہ ہو، وہاں جرم کا خوف بھی ختم ہو جاتا ہے۔

خاندانی اور معاشرتی خاموشی
“لوگ کیا کہیں گے؟” یہ ایسا خوف ہے کہ اکثر متاثرہ بچے کو انصاف سے دور رکھتا ہے۔ عزت کے نام پر ہونے والی یہ خاموشی دراصل مجرم کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

تعلیم کا فقدان
بچوں کو یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ “اچھا چھونا” اور “برا چھونا” کیا ہوتا ہے، اور نہ ہی انہیں یہ اعتماد دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نامناسب حرکت کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔ بچے اپنے والدین سے ایسی بات اس ڈر سے چھپاتے ہیں کہ کہیں کوئی ان کی بات کا اعتبار نہ کرے یا الٹا انہیں ہی کٹہرے میں نہ کھڑا کر دیا جائے۔

نظامی سستی
کیس رپورٹ کرنے میں تاخیر: ریپ کے کیسز میں پہلے 24 سے 48 گھنٹے میڈیکل اور ڈی این اے ثبوت حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم ہوتے ہیں۔

فارنزک لیبز کا فقدان پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی جدید فارنزک لیبز انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔

پولیس کی تفتیش میں تاخیر
پاکستان پولیس روایتی طریقوں (جیسے صرف بیانات یا اعترافِ جرم) پر انحصار کرتی ہے، جبکہ جدید سائنسی تفتیش کا نظام بہت کمزور ہے۔ بااثر مجرمان سیاسی دباؤ، رشوت یا پولیس کی ناقص چالاننگ کا فائدہ اٹھا کر کیس کو کمزور کروا دیتے ہیں۔

عدالتی نظام کی سست روی پاکستان کی عدالتوں میں کیس سالہا سال چلتے ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران ملزم پارٹی متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالتی ہے، دھمکیاں دیتی ہے یا پیسے کی لالچ دے کر “کورٹ سے باہر صلح” (Out of Court Settlement) پر مجبور کر دیتی ہے، جس کے بعد گواہ عدالت میں مکر جاتے ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن اداروں کے پاس وسائل کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ سب مل کر مجرموں کے حوصلے بڑھاتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا
ڈیجیٹل دور کا بے لگام پھیلاؤ، بلا روک ٹوک انٹرنیٹ اور فحش مواد تک آسان رسائی، منشیات کا بڑھتا رجحان، اور بعض اوقات یہی وہ عوامل ہیں جو اس درندگی کا باعث بنتے ہیں۔

ذمہ دار کون؟
سچ یہ ہے کہ یہ صرف حکومت یا پولیس کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر اس گھر کا مسئلہ ہے جو خاموش رہتا ہے، ہر اس محلے کا مسئلہ ہے جو دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے، اور ہر اس ادارے کا مسئلہ ہے جو کارروائی میں تاخیر کرتا ہے۔

جب تک ہم بطورِ معاشرہ یہ نہیں مانتے کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہمیں اپنے گھروں، سکولوں، مساجد اور معاشرے میں اخلاقیات، احترامِ انسانیت اور دینی تعلیم کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی کہ وہ کیا کرتے ہیں، کس سے ملتے ہیں اور کس سے بات کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ماں باپ کے علاوہ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ انہیں غلط طریقے سے چھوئے۔

آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو محفوظ بچپن صرف ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

X