LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) پولیس کی بڑی کامیابی، دوہرے قتل کیس کا مرکزی ملزم 48 گھنٹوں میں گرفتار

اسلام آباد (سہ پہر) پولیس کی بڑی کامیابی، دوہرے قتل کیس کا مرکزی ملزم 48 گھنٹوں میں گرفتار۔117 سی ڈی آرز اور 41 کیمروں کی مدد سے پولیس ٹیموں نے سفاک قاتل کی گرفتاری یقینی بنائی۔اسلام آباد پولیس کی مو¿ثر حکمت عمل کی بدولت اہم قتل کیسز 24 سے 48 گھنٹوں میں حل۔آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا نمایاں کارکردگی پر پولیس ٹیموں کے لیے نقد انعامات اور سرٹیفکیٹس کا اعلان۔تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق اور ڈی ایس پی سی آئی اے سلمان شاہ کے ہمراہ سنٹرل پولیس آفس اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کی ۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین خواتین کے قتل کے نہایت افسوسناک اور اندوہناک واقعات رونما ہوئے، جن میں سفاک ملزمان نے اسلحہ آتشیں اور تشدد کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کو قتل کیا۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آبادمیں دو دن پہلے ایک ہولناک قسم کا واقع رونما ہوا ،جس میں دو خواتین کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔تھانہ آبپارہ کی حدودمیں رات کے وقت ملزم بلال حسین نے گھریلو تنازع کی بنا پر اپنی سابقہ اہلیہ فرحانہ یونس اور نگہت یاسمین کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کا آغاز کیا اور 48 گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم بلال حسین کو گرفتار کر لیا۔ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا کی نگرانی میں سی آئی اے کی سات خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ان ٹیموں نے ملزم کی تلاش کے لیے اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔تحقیقات کے دوران 117 سی ڈی آرز کا تجزیہ کیا گیا، سیف سٹی کے 41 سے زائد کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ 37 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ چکوال اور گجر خان سمیت مختلف مقامات پر متعدد چھاپے مارے گئے۔ اسلام آباد میں بھی ملزم کے ممکنہ ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں اور اس کے رشتہ داروں سے تفتیش کی گئی۔سی آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم خیبرپختونخوا روانہ کی گئی، جہاں مختلف مقامات پر کارروائیوں کے نتیجے میں ملزم تک رسائی حاصل کی گئی۔ آئی جی اسلام آباد نے اس کیس میں خصوصی تعاون پر خیبرپختونخوا پولیس اور انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی خیبرپختونخوا کی واضح ہدایات کی روشنی میں اپر دیر کے ڈی پی او نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، جس کے نتیجے میں سفاک ملزم بلال حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار ملزم کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان محمد حسین اور مدثر سے تفتیش جاری ہے۔آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اسلام آباد پولیس کی ہمیشہ یہ روایت رہی ہے کہ پیشگی (Preventive) پولیسنگ، کمیونٹی پولیسنگ اور جرائم کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید اور مو¿ثر طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے بڑے مقدمات عموماً 24، 48 یا 72 گھنٹوں کے اندر حل کر لیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل بھی اسلام آباد پولیس قتل، بینک ڈکیتی اور دیگر اہم مقدمات کو مختصر وقت میں حل کر چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 15 جون 2026 کو تھانہ کورال کی حدود میں طارق نامی شخص نے اپنی بیوی عشرت فاطمہ کو قتل کیا تھا، جس میں ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح 18 جون 2026 کو تھانہ سمبل کی حدود میں ایک اور قتل کا واقعہ پیش آیا، جس میں فقیر شاہ نے شہباز اور ایوب خان کے ساتھ مل کر اپنی بیوی رابعہ کو قتل کیا۔ اس مقدمے میں بھی تمام ملزمان 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیے گئے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ان تینوں قتل کے مقدمات کو الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا میں غیرمعمولی توجہ حاصل رہی۔ اسلام آباد پولیس نے خیبرپختونخوا پولیس کے تعاون سے تھانہ آبپارہ قتل کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اسلام آباد پولیس کا آپریشنز ونگ، انویسٹی گیشن ونگ اور بالخصوص سی آئی اے ونگ ہمہ وقت متحرک اور تیار رہتے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ کسی بھی سنگین جرم کو رونما ہونے سے روکا جائے، تاہم اگر کوئی سنگین واردات پیش آ جائے تو پولیس ٹیمیں سیلولر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سرویلنس، ہیومن انٹیلی جنس اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگا کر ان کی گرفتاری یقینی بناتی ہیں۔آئی جی اسلام آباد نے اہم مقدمات میں بھرپور تعاون فراہم کرنے پر آئی جی خیبرپختونخوا اور خیبرپختونخوا پولیس کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔پریس کانفرنس کے اختتام پر آئی جی اسلام آباد نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پولیس ٹیموں کے لیے 25 لاکھ روپے نقد انعام اور کلاس ون سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان بھی کیا

X