LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ہمیشہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا: سردار مسعود خان

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ہمیشہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا: سردار مسعود خان

قوم دفاعی استحکام کے بعد تعلیمی ترقی کو بھی ترجیحات میں شامل کرے: سینیٹر عبدالقیوم

مقررین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قومی تاریخ کا عظیم کارنامہ قرار دیا اور قومی سائنسدانوں ، پالیسی سازوں اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

 پاکستان نے ہندوستان کے ایٹمی تجربات کے جواب میں بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کیے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اسکا مقصد ملکی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کا تحفظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے ایوانِ قائد میں یومِ تکبیر کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اسکی دفاعی حکمتِ عملی امن کے قیام اور دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے کے اصول پر مبنی ہے۔ یومِ تکبیر قومی عزم، سائنسی صلاحیتوں اور قیادت کے بروقت فیصلوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم زاہد ملک کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور دیرینہ رفاقت رہی اور مختلف قومی اور فکری منصوبوں میں انکے ساتھ مل کر کام کیا۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بھی انکا قریبی تعلق رہا۔ قومی دفاع کے حوالے سے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قومی سلامتی کی ضمانت ہے، تاہم ملک میں تعلیم کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔قوم کو دفاعی مضبوطی کے ساتھ تعلیمی ترقی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ مضبوط، محفوظ اور ترقی یافتہ پاکستان کیلئے تعلیم اور قومی دفاع دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد نے کہا کہ آج سے 28 سال قبل میری ملاقات زاہد ملک سے ہوئی تھی۔ اسکے بعد دونوں نے ملکر قومی اور نظریاتی مقاصد کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، قومی وقار اور دفاعی استحکام کی علامت ہے اور یہ دن ہمیں قومی اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے نظریہ پاکستان کونسل کی موجودہ قیادت کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ کونسل آج بھی قومی اور نظریاتی آگہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان کونسل ایک نہایت اہم قومی ذمہ داری نبھا رہی ہے اور اس کے پروگرام نوجوان نسل کی فکری رہنمائی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کو نظریہ پاکستان کونسل کی سرگرمیوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں قومی اہمیت کے معاملات میں بھی شریک کیا جانا چاہیے تاکہ ان میں قومی شعور، ذمہ داری اور قیادت کی صلاحیتیں مزید پروان چڑھ سکیں۔رکنِ قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو اور محسنِ پاکستان تھے۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، عزم اور قومی جذبے کے ذریعے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایسے وقت میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا جب ملک کو سنگین بیرونی دباؤ اور متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ قوم اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ذیشان دانش، ڈائریکٹر جنرل بیت المال نے کہا کہ پاکستان کی تخلیق کی اہمیت اس امر سے واضع ہےکہ پاکستان رمضان المبارک میں قائم ہوا ۔ یومِ تکبیر ہمیں اپنے نظریاتی تشخص، قومی مقاصد اور استحکام کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ قیامِ پاکستان کے مقاصد اور نظریۂ پاکستان کو سمجھ کر اور اسکے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ معروف معالج و این پی سی کی مجلس عاملہ کے سینئر رکن ڈاکٹر جمال ناصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلا شبہ مسلم اُمہ کی پہلی ایٹمی طاقت بننا اور اپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی کے مقابلے میں مضبوط دفاعی صلاحیت حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک عظیم تاریخی کامیابی ہے جس پر پوری قوم فخر کرتی ہے لیکن ہمیں دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود پر بھی بھرپور توجہ دینا چاہئیے۔ عام آدمی کے بنیادی مسائل، خصوصاً تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آئی بی ایل کے چیئرمین وحید شریف نے کہا کہ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ کونسل قومی کے حصول کیلئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے۔ تحریک پاکستان کے ہیروز کے خاص ایام قومی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جنہیں شایان شان طریقے سے منانے کیلئے ہم سب کونسل کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ نظریہ پاکستان کونسل کے سینئر وائس چیئرمین فیصل زاہد ملک نے کہا کہ 28 مئی کا دن ہماری قومی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربات کر کے دنیا سے اپنی سائنسی و دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے والد مرحوم زاہد ملک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے غیر معمولی محبت و عقیدت تھی۔ دونوں شخصیات پاکستان کی نظریاتی اساس، قومی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے گہری فکر رکھتی تھیں اور ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے مسلسل کوشاں رہیں۔تقریب کے اختتام پر نظریہ پاکستان کونسل کے چیئرمین میاں محمد جاوید نے معزز مہمانوں، مقررین اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تکبیر کی مناسبت سے منعقد ہونے والی یہ قومی یکجہتی کی تقریب ہمیں اتحاد، اتفاق اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف ایک متحد، باشعور اور مضبوط قوم ہی کر سکتی ہے۔تقریب کی نظامت ڈائریکٹر میڈیا و پروگرامز حمید قیصر نے کی۔

تصاویر کی کیپشن:

نظریہ پاکستان کونسل میں یومِ تکبیر کے حوالے سے خصوصی تقریب کے مہمانانِ گرامی و شرکاء کا گروپ فوٹو

X