اسلام آباد (سہ پہر) عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی تیاری مکمل
اسلام آباد (سہ پہر) وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے “عوام دوست بجٹ” کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جسے 12 جون 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد بجٹ دستاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے
اس عوام دوست بجٹ کی سب سے اہم خصوصیات اور ریلیف اقدامات درج ذیل ہیں:
تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کے لیے ریلیف,تنخواہوں میں بڑا اضافہ: سرکاری ملازمین کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کی تجویز کو بجٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
انکم ٹیکس میں چھوٹ: آئی ایم ایف کی شرائط کے باوجود، حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکس سلیبز میں اصلاحات کر رہی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو فوری ریلیف مل سکے,
زراعت اور غریب طبقے کے لیے فلاحی اقدامات;
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام : غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں بڑا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
کسانوں کے لیے پیکیج: زرعی شعبے کی بحالی کے لیے کھاد، معیاری بیجوں اور سولر ٹیوب ویلز پر سبسڈیز اور آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
توانائی اور معاشی ترقی کے اہداف سولر پینلز پر ریلیف: عام صارفین کو بجلی کے بھاری بلوں سے نجات دلانے کے لیے سولر پینلز کی مقامی سطح پر تیاری اور درآمد پر ٹیکس مراعات برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ترقیاتی بجٹ : ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم بڑھا کر 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جس میں گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے فلاحی منصوبے شامل ہیں۔
یہ بجٹ ملکی معاشی استحکام، کاروباری لاگت میں کمی اور پسماندہ طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے بنیادی اصولوں پر تیار کیا گیا ہے۔
مالی سال 2026-27 کے عوام دوست بجٹ کو وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب 12 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق وفاقی بجٹ اب جمعہ 12 جون 2026 کو پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں پیش کیا جائے گا۔بجٹ پیش کیے جانے سے قبل حکومت 11 جون کو پاکستان اکنامک سروے 2025-26 جاری کرے گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اسلام آباد میں پاکستان سیکریٹریٹ کے پی بلاک میں دوپہر 2 بج کر 20 منٹ پر منعقدہ تقریب میں سالانہ معاشی جائزہ پیش کریں گے۔
اکنامک سروے ملک کی گزشتہ مالی سال کے دوران معاشی کارکردگی کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور سالانہ بجٹ سے قبل ایک اہم پالیسی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔
تازہ اعلان کے مطابق وفاقی بجٹ کی پیشی میں مزید تاخیر کی گئی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے ابتدائی شیڈول میں تبدیلی کے بعد بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
متوقع بجٹ میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت کی مالی ترجیحات، محصولات بڑھانے کے اقدامات اور اخراجاتی منصوبہ بندی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ معیشت کو مستحکم رکھنے اور ترقی کا تسلسل برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال کا آفیشل پاکستان اکنامک سروے جاری کیا گیا ہے، جو ملک کی مجموعی معاشی کارکردگی اور اہم اہداف کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ دستاویزی سروے وفاقی بجٹ سے قبل ملکی معیشت کے مختلف شعبوں کی نمو، حاصل کردہ نتائج اور چیلنجز کا تفصیلی نقشہ پیش کرتا ہے۔رواں اقتصادی سروے کے نمایاں ترین معاشی حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں: مجموعی معاشی نمو
(Macroeconomic Performance)جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth): ملکی معیشت میں استحکام اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
افراطِ زر (Inflation): ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے، جس نے معاشی بحالی اور کاروباری سرگرمیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔
زرعی شعبہ (Agriculture Sector)لائیو اسٹاک (Livestock): لائیو اسٹاک کے شعبے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3.8 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی ہے۔ ملک میں بکریوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ 18 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ماہی گیری : مچھلیوں کی افزائش اور ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کے کسان دوست پیکجز کی بدولت چاول، گنے اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ ہوا، صنعتی اور دیگر شعب صنعتی پیداوار لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں گاڑیوں ٹرانسپورٹ آلات، اور سیمنٹ کی مانگ بڑھنے سے نمایاں بہتری آئی ہے۔
آئی ٹی برآمدات : انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے ملکی تاریخ کے ریکارڈ برآمدی اہداف حاصل کیے ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔
ترسیلاتِ زر (Remittances): سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم (Remittances) معاشی استحکام اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے بڑا پلس پوائنٹ ثابت ہوئیں۔
اس معاشی سروے کی بنیاد پر ہی حکومت نے آئندہ مالی سال
کے بجٹ میں اقتصادی ترقی کا ہدف 4 فیصد اور افراطِ زر کا ہدف 8.4 فیصد تک محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ پاکستان کو جی ڈی پی میں تیزی لانے اور معاشی استحکام سے آگے بڑھنے کے لیے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان ملکی معیشت کو محض “بحران سے نکالنے” کے بجائے پائیدار اور تیز رفتار اقتصادی ترقی کی طرف گامزن کرنے کی حکومتی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں کے تناظر میں، وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں تیزی لانے اور معاشی استحکام کو مستقل بنانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر انقلابی معاشی مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔
وزیراعظم کے اس وژن کے تحت بجٹ اور معاشی پالیسی میں شامل کی جانے والی اہم ترین تجاویز اور مراعات مندرجہ ذیل ہیں:
جی ڈی پی (GDP) میں تیزی لانے کے لیے مجوزہ مراعات : ٹیکسٹائل، سپورٹس، اور لیدر جیسے بڑے برآمدی شعبوں کے لیے خام مال کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ اور ٹیکس ریفنڈز کے عمل کو تیز کرنے کی منظوری دی جا رہی ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور ڈیجیٹل اکانومی: آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کے لیے اسٹارٹ اپس کو ٹیکس چھوٹ، فری لانسرز کے لیے بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم منگوانے کی سہولیات، اور ٹیک زونز کے لیے خصوصی پیکیجز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی: بیرونی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر موبائل، الیکٹرک گاڑیوں (EVs)، اور سولر پینلز بنانے والی کمپنیوں کو طویل مدتی ٹیکس ہالیڈیز دینے کی تجویز ہے۔ معاشی استحکام کو مستقل بنانے کے اقدامات ;سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں : خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ذریعے بیرونی، بالخصوص خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری پر بیوروکریسی کی رکاوٹیں ختم کرنے اور ون ونڈو آپریشن فعال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا: وزیراعظم نے زور دیا ہے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقے (جیسے تنخواہ دار طبقہ) پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے نان فائلرز، ہول سیلرز، اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مراعات اور سخت قوانین کا امتزاج استعمال کیا جائے۔توانائی کے شعبے میں ریلیف: صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کی تجاویز زیرِ غور ہیں تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل ہو سکیں۔حکومت کا ہدف ہے کہ ان مراعات کے ذریعے آئندہ مالی سال میں اقتصادی ترقی (GDP Growth) کے ہدف کو 4 فیصد سے اوپر لے جایا جائے اور ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت رہتے ہوئے معاشی خودمختاری کی طرف بڑھایا جائے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو جی ڈی پی میں تیزی لانے اور معاشی استحکام سے آگے بڑھنے کے لیے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ مرحلے میں روزگار کے مواقع، مقامی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کیلئے فوری اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے میکرو اکنامک کا استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع اور پیداوار کو بہتر بنانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ جاری جغرافیائی و سیاسی بحران کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ بجٹ کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے بغیر ہم اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے، اب ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا چیلنج اپنے دفاع کو مضبوط بنانا اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی جلد ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے حصول اور ملک کی جی ڈی پی میں تیزی لانے کے لیے ایسی مراعات متعارف کرانا ناگزیر ہے جو برآمدات میں اضافے ، مینوفیکچرنگ کی بحالی اور معیشت کی تبدیلی کا باعث بنیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی، انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بے حد سراہا۔ قومی اقتصادی کونسل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاشی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا آئینی فورم ہے۔ قبل ازیں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جو اصل میں 22 مئی کیلئے طے کیا گیا تھا، ملتوی کر کے 3 جون کے لیے دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا، تاہم اسے ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا اور 8 جون 2026 کے لیے دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا۔ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے مئی 2026 کے دوران بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 4.251 ارب ڈالر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق نمو کے لحاظ سے ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 34.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافہ بنیادی طور پر عید سے متعلق موسمی آمدن کے باعث ہوا کیونکہ تہواروں کے دوران عموماً ترسیلات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ مالی سال 2026 کے اختتام پر ترسیلاتِ زر کا حجم ہمارے 41 ارب ڈالر کے ہدف سے معمولی زیادہ رہے گا۔ ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ دریں اثنا حکومت ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے اور معاشی استحکام میں ان کے مؤثر کردار کو برقرار رکھنے کے لیے مراعات فراہم کرنے کے ساتھ قانونی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے مئی 2026 میں سب سے زیادہ رقم بھیجی جو کہ 1,025 ملین (1.025 ارب) ڈالر رہی۔ یہ رقم گزشتہ سال اسی مہینے میں تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجے گئے 914 ملین ڈالر کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے، مزید برآں یہ حجم اپریل 2026 کے 842 ملین ڈالر کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 33 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جو مئی 2025 کے 754 ملین ڈالر سے بڑھ کر مئی 2026 میں 1,007 ملین (1.007 ارب) ڈالر ہو گئیں۔ اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر بھی ان میں 37 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانیہ سے آنے والی ترسیلاتِ زر مئی 2026 کے دوران 645 ملین ڈالر رہیں جو اپریل کے 564 ملین ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہیں۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے مئی میں 350 ملین ڈالر بھیجے جو کہ اپریل کے دوران بھیجے گئے 317 ملین ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد ماہانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یورپی یونین سے آنے والی ترسیلاتِ زر مئی میں 466 ملین ڈالر رہیں جو اپریل کے 432 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.36 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ منگل کے روز مقامی کرنسی 278.37 روپے پر بند ہوئی تھی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سرمایہ کاروں نے امریکی افراطِ زر کے اہم اعداد و شمار کا انتظار کیا، تاکہ فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے بارے میں اشارے حاصل کیے جا سکیں۔ ڈالر انڈیکس، جو ین اور یورو سمیت کرنسیوں کی ٹوکری کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے، 0.01 فیصد اضافے کے ساتھ 100.02 تک پہنچ گیا۔ یورو 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.1537 ڈالر پر آگیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.04 فیصد کم ہو کر 1.337 ڈالر پر آ گیا۔ اسی دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سیشن میں چھ ہفتوں کی کم ترین سطح سے اوپر آگئیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 83 سینٹ (0.9 فیصد) بڑھ کر 92.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 68 سینٹ (0.8 فیصد) اضافے کے ساتھ 88.97 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ سپلائی کے پہلو پر، مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے مسلسل آٹھویں ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پٹرول کے ذخائر میں بھی کمی دیکھی گئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھی گئی کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جس سے اہم شعبوں میں ہمہ جہت خریداری کا آغاز ہوا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,376.85 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 170,330.56 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ایشیائی اسٹاکس میں گراوٹ دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس نے مارکیٹوں کو بے یقینی کا شکار کر دیا۔ اس صورتحال نے مہینوں سے جاری اس جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو ماند کر دیا ہے جس نے کموڈٹیز کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا اور افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو ہوا دی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، ریاست ہائے متحدہ (امریکہ) نے ایران کے خلاف حملے شروع کر دیے جس نے تمام فریقین کے درمیان نازک جنگ بندی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو شدید بے یقینی اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.6 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا جبکہ اتار چڑھاؤ سے بھرپور اس ہفتے کے دوران جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اسٹاکس دباؤ کا شکار رہے ہیں، جنوبی کوریا کا ٹیک انڈسٹری پر مبنی کوسپی انڈیکس 2 فیصد تک گر گیا۔ تازہ ترین امریکی حملوں کے نتیجے میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں لگ بھگ 1 فیصد کا اضافہ ہوا جو گزشتہ سیشن میں چھوئی گئی سات ہفتوں کی کم ترین سطح سے اوپر آ گئیں۔ برینٹ فیوچرز 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 88.97 ڈالر پر پہنچ گیا۔ہر سال آسان ٹیکس اسکیموں کے اعلانات کے ذریعے تاجروں اور خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب تک ایسی ایک درجن سے زائد کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن سب ناکام رہیں کیونکہ تاجر اور ریٹیلرز اپنی جگہ سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور ٹیکسوں میں ان کا حصہ اب بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آنے والے بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے 25,000 روپے ماہانہ کا مجوزہ فکسڈ ٹیکس کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔
جہاں ایف بی آر بعض شعبوں میں براہِ راست آمدنی کا تعین نہیں کر پاتا، وہاں وہ اکثر فرض کی گئی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا سہارا لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹیکس حقیقی منافع کے بجائے مجموعی آمدنی پر وصول کیا جاتا ہے اور بعض معاملات میں ٹیکس کا یہ اصل بوجھ کاروبار کے مجموعی ٹرن اوور کے 15 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
جو نظام ایک قیاسی یا مفروضہ ٹیکس نظام کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ آگے چل کر بتدریج ایک کم از کم ٹیکس نظام میں تبدیل ہو گیا، جو ہر صورت قابلِ ادائیگی ہوتا ہے خواہ کوئی ادارہ منافع کما رہا ہو یا نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک غیر منصفانہ طریقہ کار ہے جو متاثرہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں ایک اور رکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔
حکومت کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے اور ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے ذریعے فارمل سیکٹرکو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو کارپوریٹ یا نان کارپوریٹ بزنسز اور تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کے لیے تین سے پانچ سال کا ایک واضح روڈ میپ پیش کرنا چاہیے اور اگر سپر ٹیکس اور مختلف سرچارجز کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا تو فوری طور پر ان میں مرحلہ وار کمی کا آغاز کرنا چاہیے۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ریونیو کے فرق کو ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر پورا کیا جانا چاہیے جو اس وقت اپنا جائز حصہ ادا نہیں کررہے ہیں۔ اب پرانا طرزِ عمل مزید جاری نہیں رہ سکتا کیونکہ ملک لامحدود مدت تک صرف اسٹیبلائزیشن پالیسیوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔ ترقی کے بغیر استحکام محض ایک سراب ہے۔ لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والے نئے افراد کی بڑی اور بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر کوئی دیرپا معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔