LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) یوم معرکہ حق ; سول , فوجی قیادت کاپاکستان کے دشمنوں کو سخت وارننگ

اسلام آباد (سہ پہر) یومِ معرکہ حق کے موقع پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے دشمنوں کو سخت انتباہ اور دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا.
یہ پیغام ملک کی دفاعی صلاحیتوں، قومی یکجہتی اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری جواب دینے کے عزم پر مبنی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یومِ معرکہ حق کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت اور واضح الفاظ میں دشمنوں کو متنبہ کیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
خطاب کے مخصوص پہلو;
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں “آپریشن بنیانِ مرصوص” کی کامیابی کو پاکستانی عزم کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے چند اہم نکات پر زور دیا:
جارحیت کا جواب:
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا جواب “پہلے سے بھی زیادہ سخت، ٹھوس اور تکلیف دہ” ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ دشمن کی خواہشات اس کی اصل صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں، اور پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی قسم کے بیرونی خطرے یا دباؤ سے مرعوب ہونے والی نہیں ہیں۔
آپریشن بنیانِ مرصوص:
انہوں نے اس آپریشن کو پاکستانی عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔اتحاد کی طاقت:
فیلڈ مارشل نے قوم اور فوج کے درمیان مضبوط رشتے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد ہی وہ اصل طاقت ہے جس سے دشمن خوفزدہ ہے، اور اسے کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔عزمِ نو:
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا ان کا اولین نصب العین ہے۔

 

دشمن کی خام خیالی:
انہوں نے کہا کہ دشمن (بھارت) کی خواہشات اس کی اصل فوجی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ تھیں اور اس معرکے نے دشمن کی “خود ساختہ ناقابلِ شکست” ہونے کی غلط فہمی کو دور کر دیا ہے۔
تینوں مسلح افواج کا اشتراک:
خطاب میں پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان “جوائنٹ آپریشنل کمانڈ” اور ہم آہنگی کو سراہا گیا، جو جدید جنگی ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر کا جواب:
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر کے ذریعے پھیلائے جانے والے پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی دفاعی و فضائی صلاحیتیں;
اس معرکے اور حالیہ دفاعی تیاریوں میں درج ذیل ٹیکنالوجی اور صلاحیتیں نمایاں رہیں:جدید ترین جنگی طیارے: پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل J-10C اور JF-17 Block-III نے اپنی برتری ثابت کی ہے۔ یہ طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-15 میزائلوں سے لیس ہیں۔
میزائل ٹیکنالوجی:
آپریشن کے دوران پاکستان نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-1 (Fateh-1) میزائل سسٹم کا استعمال کیا، جس نے دشمن کی تنصیبات کو ٹھیک نشانے پر ہٹ کیا۔ اس کے علاوہ ہائپرسونک میزائلوں کے ذریعے دشمن کے S-400 دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔
سائبر اور ڈرون ٹیکنالوجی:
پاکستان نے جدید سائبر حملوں کے ذریعے دشمن کے بنیادی ڈھانچے (جیسے بجلی کے گرڈ) کو متاثر کرنے اور ڈرونز کے ذریعے طویل دورانیے تک نگرانی کی صلاحیت دکھائی۔
نیوکلئیر ڈیٹرنس:
پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس (Full Spectrum Deterrence) کی پالیسی اور شاہین، غوری اور ابدالی جیسے میزائل سسٹم دشمن کے لیے واضح انتباہ ہیں۔فیلڈ مارشل نے ان صلاحیتوں کو پاکستان کے امن پسندانہ رویے کے باوجود “دفاعی برتری” کی ضمانت قرار دیا ہےچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر دشمن کو پیغام دیا ہے کہ آئندہ مہم جوئی کی کوشش پر جنگ کے اثرات وسیع اور خطرناک ہوں گے۔
راولپنڈی میں معرکہ حق کی شاندار فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر اتوار کو جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر تھے۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس نے یادگارِ شہدا پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ مسلح افواج کے دستوں نے انہیں سلامی پیش کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ معرکہ حق میں بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ دشمن نے ہمارے قومی عزم اور وقار کو آزمانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اپنی فرسودہ سوچ اور خود فریبی کا شکار ہو گیا۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں بالادستی کے خواب دیکھ رہا تھا مگر وہ یہ بھول گیا کہ اس کے خواب اس کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔ مزید کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ بھارت کے گمراہ کن اور جارحانہ رویے کا تسلسل تھا، جس میں ماضی کے مختلف واقعات اور الزامات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ معرکہ حق محض دو ممالک یا دو افواج کی روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ دو مختلف نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب کی۔
بھارت یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو عسکری اور سفارتی طور پر تنہا کر دے گا، لیکن اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔پاکستان اور اس کی افواج نہ پہلے کسی دباؤ سے مرعوب ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔
فیلڈ مارشل نے دشمن کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس بار جنگ کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دوررست اور تکلیف دہ ہوں گے۔“
خطاب میں کہا گیا کہ الحمدللہ پاکستان کا دفاع آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔ امن قائم رکھنے کے لیے ہمہ وقت جنگ کے لیے تیار رہنا لازم ہے اور پاکستان کی مسلح افواج روایتی اور غیر روایتی ہر قسم کی جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ان چیلنجز کے پیش نظر افواجِ پاکستان کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسپیس پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور جدید ہتھیاروں کے حصول سمیت فتح میزائل سیریز اور نئے جنگی جہازوں کی شمولیت اسی دفاعی وژن کا حصہ ہے۔ مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی تیاری صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں نئی سوچ، جدید تربیت اور تحقیق بھی شامل ہے۔ معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سفارتی حیثیت کو بھی مثبت طور پر مضبوط کیا ہے۔
دفاعی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فیلڈ مارشل نے بتایا کہ اعلیٰ جنگی حکمت عملی نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا اور فتح میزائل سسٹم اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 26 سے زائد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر فضائی معرکوں کی نئی تاریخ رقم کی۔بحریہ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بحری جوانوں نے دشمن کو آبی سرحدوں سے میلوں دور روکے رکھا جبکہ لائن آف کنٹرول پر دشمن سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوا۔ بھارت کو اس مہم جوئی میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
فیلڈ مارشل نے بتایا کہ اب پاکستان نے ملٹی ڈومین آپریشن سینٹر بھی قائم کر دیا ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔
فیلڈ مارشل نے قوم، سیاسی قیادت، میڈیا اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دفاعِ وطن کے لیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور نوجوانوں نے جس طرح دشمن کا پروپیگنڈا ناکام بنایا وہ ایک مثال ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا پاکستان کو تکریم کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور جو کل تک معترض تھے وہ آج ہماری صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ جو ممالک ماضی میں پاکستان پر اعتراضات کرتے تھے، وہ آج اس کے قریبی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ انہوں نے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے ورثا ہمارے سروں کا تاج ہیں اور پاکستان پہلے بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری رہنے والی چار روزہ لڑائی کے بعد جنگ بندی کی درخواست بھارت نے کی تھی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ”انڈیا نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار عالمی اور دیگر بیرونی قوتوں سے کیا۔“ مزید کہا کہ ”شکست خوردہ انڈیا نے امریکا کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا۔“ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ان تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے پرچم کی لاج رکھی۔ معرکۂ حق کے تمام شہداء اور ان کے اہلِ خانہ قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں، جن کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور قوم پر ایک دائمی قرض ہیں۔اس موقع پر غازیوں کو بھی سلام پیش کیا گیا جنہوں نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ کہا گیا کہ ہم اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا احسان، شہداء کی قربانیوں کو امانت اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جبکہ میڈیا، صحافتی برادری اور نوجوانوں نے دشمن کے پروپیگنڈا اور سائبر وارفیئر کو ناکام بنایا۔معرکۂ حق صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی جیتا گیا، جہاں عوام نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ جب جنگ کے بادل منڈلائے تو ہر طبقہ فکر نے ’پاکستانیت‘ کے جذبے کے تحت ایک صف میں کھڑے ہو کر دفاع وطن کے لیے کردار ادا کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ روایتی میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنی پرانی ریاستی پالیسی کے تحت دہشتگردی کی سرپرستی کا راستہ اپنایا ہے۔ اس نے ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کی سرزمین سے بھی جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں، خصوصاً فتنہ خوارج اور فتنہ بھارت کے عناصر سے پاک کرے اور دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ معرکہ حق,آپریشن بنیان مرصوص (Operation Bunyan-un-Marsoos) کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے دشمنوں کو انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاکستانی قیادت کے اہم پیغامات درج ذیل ہیں:
ناقابلِ تسخیر دفاع:
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی قوم نڈر اور باوقار ہے جسے کوئی بھی جارح دباؤ میں نہیں لا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ “معرکہ حق” نے دشمن کی ناقابلِ شکست ہونے کی غلط فہمی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام ناقابلِ تسخیر دفاع:
وزیر اعظم نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کو کوئی بھی جارح دباؤ میں نہیں لا سکتا۔
عسکری مہارت کا اعتراف:
وزیر اعظم نے پاک فضائیہ کے شاہینوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دشمن کی زبان میں جواب دے کر عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا ہے۔
سماجی و معاشی عزم:
وزیر اعظم نے اس دن کو نہ صرف فوجی فتح بلکہ قومی وقار کی علامت قرار دیتے ہوئے معاشی استحکام اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں:
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور بنیادی قومی مفادات پر کبھی سودے بازی نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی تعاون:
انہوں نے معرکہ حق کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی بھرپور حمایت اور سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
سول اور فوجی ہم آہنگی:
قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ قوم، حکومت اور مسلح افواج ایک “بنیان مرصوص” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کی طرح متحد ہیں اور یہ اتحاد ہی پاکستان کی اصل قوت ہے۔
فیلڈ مارشل نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا جواب پہلے سے بھی زیادہ سخت، ٹھوس اور تکلیف دہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی خواہشات اس کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں اور مسلح افواج کسی بھی خطرے سے مرعوب نہیں ہوں گی۔
جدید جنگی تیاری:
پاک افواج کے ترجمان اور آئی ایس پی آر (ISPR) کے مطابق، معرکہ حق نے پاک فضائیہ کی جدید جنگی تیاریوں اور اسمارٹ سسٹمز کی صلاحیت کو دنیا پر ثابت کر دیا ہے۔
خارجی و سفارتی فتح:
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی اور بیانیہ (narrative) کے محاذ پر بھی تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
پورے ملک میں، بشمول بلوچستان اور لاہور، ریلیاں نکالی گئیں اور تقریبات منعقد کی گئیں جہاں عوام نے مسلح افواج کے ساتھ اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

قومی یکجہتی:
حکومت اور فوج نے اس بات پر زور دیا کہ جب قوم، قیادت اور افواج ایک صف میں ہوں تو دشمن کی ہر سازش ناکام ہو جاتی ہے۔
تاریخی دفاع:
پاک فضائیہ کی جدید جنگی تیاریوں اور جرأت کو سراہا گیا، جنہوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
اہم اعلانات,شہداء پیکیج:
حکومت نے معرکہ حق کے شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے لیے 10 سے 42 ملین روپے تک کے مالی امدادی پیکیج، مفت تعلیم، اور شادی گرانٹ کے جامع منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
مستقل یادگار:
10 مئی کو ہر سال قومی سطح پر “یومِ معرکہ حق” کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم الشان کامیابی کو یاد رکھیں۔
یوم معرکہ حق کا پس منظر:
معرکہ حق (بنیانِ مرصوص) اپریل اور مئی 2025 میں دشمن کی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ایک تاریخی دفاعی آپریشن تھا جس نے بھارتی جارحیت کو مؤثر جواب دے کر ناقابل تسخیر دفاع کو یقینی بنایا۔
سول و فوجی قیادت کا پیغام صاف ہے: پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پیغام عزم کی تجدید:
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دشمن کی عددی برتری کے زعم کو خاک میں ملا دیا اور ثابت کیا کہ پاکستانی دفاع ایک “سیسہ پلائی ہوئی دیوار” (بنیان مرصوص) ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی نئی مہم جوئی کا جواب پہلے سے بھی زیادہ “سخت، ٹھوس اور تکلیف دہ” ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ مستقبل کی جنگیں کثیر الجہتی (Multi-domain) ہوں گی اور پاک فوج جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ سسٹمز سے لیس ہو کر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے قوم اور فوج کے درمیان “ناقابلِ شکست” تعلق کو پاکستان کی اصل طاقت قرار دیا۔دشمن کو عبرتناک شکست:
پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے عددی اعتبار سے کئی گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور انہیں عبرتناک شکست دی۔
دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ:
قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سالمیت مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دشمن نے معرکہ حق میں پاکستان کی فیصلہ کن صلاحیت کا مشاہدہ کیا۔
اگلی بار زیادہ سخت جواب:
یہ وارننگ دی گئی کہ اگر دشمن نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت اور “فل سپیکٹرم” (Full-spectrum) جواب دیا جائے گا۔ اپنے تجزیے میں,سینئر تجزیہ کاراصغر علی مبارک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یومِ معرکہ حق کے موقع پر سول اور فوجی قیادت کے پیغامات محض رسمی بیانات نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک نیا تزویراتی (Strategic) موڑ ہیں۔
ان پیغامات کو “قومی تاریخ کا اہم باب” قرار دینے کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
دشمن کے لیے واضح ریڈ لائن:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ “جواب پہلے سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا”، دشمن کے لیے ایک ایسی واضح حد بندی (Red Line) ہے جس نے پرانے دفاعی اصولوں کو نئے جارحانہ دفاع (Offensive Defense) میں بدل دیا ہے۔
سیاسی و عسکری وحدت:
جس طرح وزیر اعظم اور عسکری قیادت نے ایک ہی زبان میں دشمن کو للکارا، اس نے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات جیسے بھی ہوں، قومی سلامتی کے معاملے پر پوری ریاست ایک “سیسہ پلائی ہوئی دیوار” ہے۔تکنیکی برتری کا اعتراف: قیادت کے پیغامات میں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران دکھائی جانے والی فضائی اور میزائل برتری کا تذکرہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان اب روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی خود کفیل ہو چکا ہے۔
قومی وقار کی بحالی:
10 مئی کا معرکہ حق 1965 اور 1971 کی یادوں کے بعد ایک ایسی کامیابی کے طور پر ابھرا ہے جس نے پاکستانی قوم کے مورال کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ یہ پیغامات آنے والی نسلوں کے لیے ایک نصب العین کی حیثیت رکھتے ہیں، جو انہیں اپنی سرحدوں کی حفاظت اور قومی غیرت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا درس دیتے ہیں۔
1. انٹیلیجنس اور پیشگی اطلاع کی برتری;
معرکہ حق صرف میدانِ جنگ کی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی بھی بڑی کامیابی تھی۔ پاکستان کو دشمن کے ارادوں کی پہلے سے اطلاع تھی، جس کی وجہ سے قیادت نے “سرپرائز” دینے کے بجائے دشمن کے حملے کو اس کے آغاز پر ہی ناکام بنا دیا۔
2. “سیلف ڈیفنس” سے “پرو ایکٹو رسپانس” ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی اب صرف حملے کا انتظار کرنے تک محدود نہیں رہی۔
قیادت کے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب پاکستان “پرو ایکٹو ڈیفنس” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، یعنی خطرے کو بھانپتے ہی اسے سرحد پار ہی کچل دینا۔
3. میڈیا اور بیانیے (Narrative) کی جنگ ;
سینئر تجزیہ کاراصغر علی مبارک کے مطابق، اس معرکے میں پاکستان نے انفارمیشن وارفیئر میں بھی دشمن کو شکست دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اور سول قیادت نے بروقت حقائق دنیا کے سامنے رکھے، جس سے دشمن کا پراپیگنڈا عالمی سطح پر ناکام ہو گیا اور پاکستان کا موقف “حق” پر مبنی ثابت ہوا۔
4. مقامی دفاعی پیداوار پر اعتمادقیادت کے پیغامات میں مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں (جیسے جے ایف-17 تھنڈر اور مقامی میزائل سسٹمز) کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کر کے دفاعی خود انحصاری کی طرف بڑھ چکا ہے، جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔
5. علاقائی استحکام اور امن کا پیغام;
یہ نکتہ بھی اجاگر کیا کہ قیادت نے طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ امن کی خواہش کا بھی ذکر کیا۔ پیغام یہ تھا کہ پاکستان کی طاقت کسی پر جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں توازن برقرار رکھنے اور امن کی ضمانت کے لیے ہے۔
6. کائنیٹک اور نان کائنیٹک صلاحیتوں کا امتزاج ;
تجزیے کے مطابق، فیلڈ مارشل نے جہاں ٹینکوں اور طیاروں کی بات کی، وہیں سائبر سیکیورٹی اور ملکی معیشت کو دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت اب “جامع قومی سلامتی” (Comprehensive National Security) کے تصور پر عمل پیرا ہے۔
یومِ معرکہ حق کے موقع پر پاکستانی قیادت نے جن مخصوص ہتھیاروں اور سفارتی کامیابیوں کا ذکر کیا ہے،
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
مخصوص ہتھیار اور عسکری ٹیکنالوجی (آپریشن بنیانِ مرصوص)اس معرکے میں پاکستان نے اپنی جدید ترین جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جس میں درج ذیل ہتھیار نمایاں رہے: جے-10 سی (J-10C) اور پی ایل-15 میزائل: پاک فضائیہ کے J-10C طیاروں نے اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان طیاروں نے PL-15 (بیونڈ ویژول رینج) میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے رفیل (Rafale) طیاروں کو نشانہ بنایا۔فتح-1 اور فتح-2 میزائل سسٹم: پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح (Fatah) سیریز کے گائیڈڈ راکٹ سسٹمز استعمال کیے۔ ان میزائلوں نے طویل فاصلے تک دشمن کی فوجی تنصیبات، بشمول برہموس میزائلوں کے اسٹوریج سائٹس کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔اینٹی ریڈار اور سپرسونک میزائل: دشمن کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے CM-400AKG سپرسونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جو اپنی تیز رفتاری (Mach 4.5-5) کی وجہ سے دشمن کے ریڈاروں کی گرفت میں نہیں آتے۔
ڈرون ٹیکنالوجی:
پاکستان نے ونگ لونگ-II (Wing Loong II) اور CH-4 جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ لوئیٹرنگ میونیشن (YIHA III) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کے 70 سے زائد ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا۔
سائبر وارفیئر:
اس معرکے کے دوران پاکستان نے دشمن کے انفراسٹرکچر پر موثر سائبر حملے کیے، جس کے نتیجے میں بھارتی بجلی کے گرڈز کے بڑے حصے کو عارضی طور پر غیر فعال کر دیا گیا۔
سفارتی کامیابیاں ;
میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی بڑی فتوحات حاصل کیں:
عالمی حمایت اور تنہائی:
معرکہ حق کے بعد پاکستان نے ثبوتوں کے ساتھ اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا، جس سے بھارت کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
ثالثی کا کردار:
پاکستان نے اس دوران نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ صدر زرداری کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے میں بھی سفارتی مدد فراہم کی۔
چین اور سعودی عرب سے تعاون: اس بحران کے دوران چین اور سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور سفارتی اور دفاعی حمایت کی، جس سے پاکستان کے تزویراتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ دفاعی برآمدات میں اضافہ:
معرکہ حق میں پاکستانی ہتھیاروں (خصوصاً JF-17 اور فتح میزائل) کی بہترین کارکردگی دیکھ کر کئی ممالک نے پاکستان سے دفاعی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جسےسینئر تجزیہ کاراصغر علی مبارک اور دیگر تجزیہ نگاروں نے پاکستان کے لیے بڑی معاشی و سفارتی فتح قرار دیا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں ان کامیابیوں کو “بنیانِ مرصوص” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے عزم کا ثمر قرار دیا ہے۔

X