LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) بھارتی مسلح افواج میں “زعفرانی سوچ” کے بڑھتے اثرات کی ایک اور واضح مثال سامنے آگئی

اسلام آباد (سہ پہر) بھارتی مسلح افواج میں “زعفرانی سوچ” کے بڑھتے اثرات کی ایک اور واضح مثال سامنے آگئی۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سبرامنی کی اصل پہچان ان کی عسکری صلاحیت نہیں بلکہ ہندوتوا نظریات اور مودی و راج ناتھ کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جا رہے ہیں، جن کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کے کافی عرصے بعد انہیں ‘فور اسٹارجنرل’ بنا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ آرمی چیف جنرل دویدی بھی اپنی پیشہ ورانہ قابلیت سے زیادہ ہندوتوا وابستگی کی وجہ سے پسندیدہ سمجھے جاتے تھے، مگر آپریشن سندور میں بدترین ناکامی نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا’ بھارت کے باخبر حلقوں میں، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ تینوں بھارتی افواج کے اعلیٰ حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ ترقیوں میں میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر مذہبی و سیاسی وابستگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایسے ریٹائرڈ افسران، جنہیں اپنے وقت میں فور اسٹار کے قابل نہیں سمجھا گیا، آج سیاسی قربت اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر اعلیٰ عہدے حاصل کر رہے ہیں۔ بھارتی حلقوں میں آپریشن سندور کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اعلیٰ عسکری قیادت، خصوصاً سی ڈی ایس انیل چوہان اور آرمی چیف جنرل دویدی کی نااہلی اور سیاسی جھکاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر مزید تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں

X