LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) امریکہ ایران سمجھ داری کو انا پر فوقیت دیں

اسلام آباد (سہ پہر) امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے باوجود تاحال اس حوالے سے حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا آبنائے ہرمز کھولنے کے ایرانی اعلان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت رد عمل کے بعد مذاکراتی عمل میں بظاہر کوئی بڑی رکاٹ دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن انتہائی مختصر وقفے کے بعد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے دنیا کے پہلے جیسے اضطراب میں مبتلا کردیا ہے ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر رہا ہے اور بحری جہازوں کو خبر دار کیا ہے کہ یہ اہم توانائی گزر گاہ ایک بار پھر بند کردی گئی ہے تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے تسلسل کے جواب میں کیا گیا ہے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران نے تاحال ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا تاہم مزید بات چیت کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ زیادہ مطالبات ترک کرے اور زمینی حقائق کے مطابق درخواستیں کرے ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر اس وقت تک مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا جب تک جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی اور خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو جاتا ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی بحریہ اپنے دشمنوں کو نئی عبرت ناک شکست دینے کے لیے تیار ہے ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی کیونکہ پہلے دور کی ناکامی کے بعد ابھی تک کسی حتمی پیش رفت پر اتفاق نہیں ہو سکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران اس آبی راستے کو بند کر کے امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا اگر بدھ تک کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے کیونکہ اس روز دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے درست سمت میں آگے بڑھنے والے مذاکراتی عمل میں اچانک پیدا ہونے والا یہ تعطل بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ آیا یہ محض وقتی رکاوٹ ہے یا کسی بڑی پیش رفت سے قبل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟ ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا ایرانی فوج نے اسے دوبارہ بند کردیا کیا ایرانی سیاسی اور فوجی قیادت ان مذاکرات پر ایک صفحے پر نہیں؟ کیا سیاسی قوتیں امریکہ سے ڈیل کرنا چاہتی ہیں جبکہ پاسداران انقلاب اس کے مخالف ہیں ایران میں فیصلہ سازی کے مراکز کئی گروہ میں تقسیم ہیں ایسے میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اس صورت حال میں مذاکرات کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوں گےْ؟دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے تناظر میں لبنان جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں نے بھی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے الغرض یہ صورت حال ایران اور امریکہ کے درمیان بد ترین اعتماد کے بحران کی عکاس ہے اگرچہ دونوں فریق مداکرات کی پیش رفت کے لئے پر امید نظر آتے ہیں مگر ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے یا مذاکراتی عمل میں دوسرے فریق کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن کے تاثر کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں مذاکراتی عمل میں ایسا ہونا حیران کن نہیں موجودہ مرحلے پر اس صورت حال کو بہرحال مذاکرات میں ڈیڈ لاک قرار دینا قبل از وقت ہوگا حقیقت یہ ہے کہ پس پردہ رابطے جاری ہیں مگر باضابطہ مذاکراتی فریم ورک کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی تاخیر تکنیکی اور پس پردہ بارگینگ کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے ایران کو امریکی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں جبکہ امریکہ کو ایران کے علاقائی کردار پر تحفظات ہیں جس کے باعث غیر یقینی کی فضا قائم ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل سے واپسی مشکل ہے جنگ بندی خود دونوں فریقین کی ضرورت بن چکی ہے توقع یہی ہے کہ جنگ بندی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت سامنے آسکتی ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین تحمل برد باری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں او رایسے بیانات یا لب ولہجہ سے گریز کیا جائے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے یا امن عمل کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہو ایران امریکہ مذاکرات اور جنگ بندی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل ذکر ہیں جن کی بدولت فریقین کو عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں مصروف کرنا ممکن ہوا ہے تاہم یہ احسن کوششیں اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں جب ایران اور امریکہ سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات کو مستقل حل کے طور پر دیکھیں اور بیان بازی کی بجائے سنجیدہ سفارت کاری پر توجہ دیں تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں وہی ہوتی ہیں جو وقت پر سمت بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں سخت موقف ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتا بعض اوقات لچک ہی اصل طاقت ہوتی ہے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جنگ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی ایک نہ ایک دن اسے ختم ہونا ہی ہوتا ہے مذاکرات میں کوئی ایک فریق مکمل طور پر نہیں جیتتا بلکہ دونوں کو کچھ لے اور دے کرنا پڑتا ہے ایران اگر نیو کلیئر پروگرام آبنائے ہرمز اور پراکسیز سے متعلق امریکی شرائط مان لیتا ہے تو امریکہ ایران کے فریز کئے گئے 6 ارب ڈالر قطر سے ریلیز کرا سکتا ہے تہران پر عائد پابندیاں ختم کراسکتا ہے دنیا بھر سے تجارت شروع ہوسکتی ہے ایران دوبارہ تعمیر ہوسکتا ہے ایرانی قیادت کا اس موقع پر لچک دکھانا اس کی کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ ہوگا چالیس روز سے زائد جنگ کا سبق یہی ہے کہ فریقین میں مزید لڑائی کا جاری رہنا دونوں کے علاوہ خطے اور دنیا کے لئے شدید نقصان دہ ہے جنگوں کا خاتمہ اور پائیدار امن ہی انسانوں کو ترقی کے مثالی مواقع فراہم کرسکتا ہے چنانچہ فریقین اور ثالثوں کو مخلصانہ جذبے کے ساتھ بھرپور کوششیں کرنی چاہیے کہ اس بحران کا کوئی آبرو مندانہ حل نکل آئے- اگر امریکہ اور ایران اس وقت اپنی اپنی اناؤں کو بالائے طاق رکھ کر کوئی درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں تو یہ صرف ان دو ممالک نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے بہترین ریلیف ہوگا امریکہ اور ایران دونوں کو اس جنگ کو ختم کرکے نئی شروعات کرنی چاہیے او ریہ ناممکنات میں سے نہیں**

X