انقرہ (سہ پہر) ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ترک صدر نے کہا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے۔
ترک صدر نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے۔ ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے۔رجب ارگان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے۔اردگان کا کہنا تھا کہ جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔