LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (سہ پہر) پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی

اسلام آباد (سہ پہر) امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطی میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے آسٹریلیا، ملائیشیا جاپان مصر انڈونیشیا عراق اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کیلئے ایک اہم موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لئے مزید کوششیں درکار ہیں ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق لبنان اور یمن کیلئے بھی استحکام کا باعث بنے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کیلئے محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جائے امید ہے سفارت کاری کے ذریعے جلد حتمی معاہدہ طے پائے گا عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے امن مذاکرات اور سفارتی حل کے اصولوں پر مبنی رہی ہے مشرق وسطی کی موجودہ سنگین صورت حال میں پاکستان نے بقا پر مبنی سفارت کاری میں امریکہ اسرائیل ایران تنازعہ میں کوئی واضح موقف اختیار کئے بغیر خود کو ایک قابل اعتماد مسلم اور علاقائی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف عالمی سیاست معیشت اور بین الاقوامی قوانین کے تمام سابقہ تصوارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ تہذیبی ارتکا کے تصور کو جو زبردست ٹھیس پہنچائی ہے انسانیت کو جو زخم دیئے ہیں ان کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے مشرق وسطی میں چالیس روز سے جاری لڑائی نے دنیا کے امن و استحکام کو ایک ایسے آتش فشاں پر لاکھڑا کیا تھا جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا تھا امریکی صدر کی ایران کو دی جانے والی دھمکی میں جہنم جیسے الفاظ کا استعمال اور ایرانی پاور پلانٹس و بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کا اعلان عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتا تھا بارود کی بو اور دھوئیں کے بادل انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ امن کی ہر امید کو دھندلاتے جارہے تھے خطے کی انتہائی خطرناک صورت حال میں پاکستان کا سفارتی میدان میں انتہائی متحرک کردار اور امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے عملی اور ٹھوس کوششیں قابل ستائش ہیں ایران کے سعودی عرب کے پیٹرول کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے واقعات نے علاقائی سلامتی مزید خطرات کا شکار اور امن و استحکام کی امیدوں کو دھندلا دیا تھا لیکن ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے سعودی قیادت نے خطے کو مزید بحران سے بچانے کے لئے اشتعال انگیزی کے بجائے ثالثی اور سفارتی حل کو ترجیح دی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بلا شبہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اس تاریخی پیش رفت میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکیہ مصر کی عملی کوششوں چین روس یورپی یونین کی حمایت اور سب سے بڑھ کر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے صبر وتحمل کا اہم کردار ہے ماہرین بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور متوازن حکمت عملی کے ذریعے ایک بار پھر ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے میں کامیاب ہوچکا ہے موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا یہ کردار نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں امن واستحکام کے لئے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے پاکستان جس ثالثی کے لئے کوشاں ہے یہ امریکہ اور ایران کی جاری جنگ کے ہنگامے میں وقت کی سب اہم ضرورت اور دانش مندی کا یہی تقاضا ہے کیونکہ تنازعات اور سیکورٹی خدشات سے دوچار مشرق وسطی کی موجودہ صورت حال میں حکمت اور تدبر ہی دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچا سکتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں اور تنازع کوئی بھی ہو اس کا حتمی فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے آج کے گلوبل ویلیج میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں مشرق وسطی میں جنگ کے بڑھتے شعلے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے معاشی اور سماجی مسائل پیدا کر رہے ہیں چالیس روز سے جاری جنگ سے جس قدر نقصان پہنچ چکا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے کئی سال بلکہ کئی دہائیاں درکار ہوں گی اس وقت ضد اور اور انا کو پس پشت ڈال کر وسیع تر عالمی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا آسان ہوتا ہے مگر بھڑکتی آگ کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا عالمی قوانین کی پاسداری اور ایک دوسرے کے سرحدی تحفظ کی ضمانت ہی وہ بنیادی اصول ہیں جو دنیا میں امن و استحکام یقینی بنا سکتے ہیں لہذا متحارب ممالک کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ جنگ بندی کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور پائیدار امن کی راہ ہموار کریں امریکہ اور ایران میں بد اعتمادی کی وجہ ٹھوس ضمانت کی عدم دستیابی ہے چنانچہ ضروری ہے کہ علاقائی اور عالمی رہنماء اس ضمن میں اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کریں بڑھتی ہوئی کشیدگی بد اعتمادی اور اشتعال انگیزی کے ماحول میں سفارت کاری کا راستہ اختیار کرکے ہی جنگ کے پھیلاؤ کے خطرات کو نالا جاسکتا ہے خطے میں دیرپا امن تبھی ممکن ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو امریکہ اور ایران دونوں کھلی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں اس لئے کشیدگی کے بعد وقفہ اور پھر جنگ بندی ایک حقیقت پسندانہ راستہ ہے اگر امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی مستحکم کرے گی**

X